کرپشن ایک کینسر ، اس کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، چیئر مین نیب

کرپشن ایک کینسر ، اس کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، چیئر مین نیب

اسلام آباد (صباح نیوز) چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ کرپشن ایک کینسر ہے، اس کا خاتمہ نیب کی اویلن ترجیح ہے، نیب کے افسر کرپشن کے خاتمے کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھ کر کام کر رہے ہیں۔ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے قومی احتساب بیورو نے جامع اور فعال انسداد بدعنوانی حکمت عملی اختیار کی ہے تاکہ تمام سرکاری و نجی ادارے میرٹ پر عوام کی خدمت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے 3 سالہ دور میں نیب نے کرپشن کے 50 ریفرنسز احتساب عدالتوں میں فائل کئے ، 50 ارب روپے ریکور کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جو نیب کی موجودہ انتظامیہ کی ریکارڈ کامیابی ہے۔ نیب کی آپریشنل حکمت عملی تحقیقات، تفتیش اور انکوائری پر قائم ہے۔ نیب 10 ماہ میں موثر انداز میں کیسوں کو نمٹانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ان 10 ماہ میں شکایت کا درج ہونا، اس کی تصدیق اور تفتیش کا عمل شامل ہے جس کے بعد حتمی ریفرنس احتساب عدالت میں دائر ہوتا ہے۔ نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام بھی متعارف کرایا ہے تاکہ نیب کے تجربہ کار اعلیٰ افسر وں کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ نیب افسروں کو قانون اور میرٹ کے مطابق کوڈ آف کنڈکٹ پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ احتساب عدالتوں کی کارکردگی کی شرح 76 فیصد ہے جو پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے کسی بھی ادارے کے مقابلے میں بہترین شرح ہے۔ نیب نے راولپنڈی میں فورنزک سائنس لیب قائم کی ہے جو ڈیجیٹل فورنزکس، دستاویزات اور فنگر پرنٹس کو جانچنے کے لئے کام کرتی ہے۔ کرپشن کے حوالے سے کافی بہتری آئی ہے اور انسداد بدعنوانی کوششوں کے حوالے سے پاکستان جنوبی ایشیا کے لئے ایک نمونہ ہے یہ سب نیب کی کوششوں کی وجہ سے ہے۔ نیب نے ایچ ای سی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت ملک بھر کی یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کے اندر 45 ہزار کردار ساز سوسائٹیاں قائم کی جائیں گی جو طلبا کو کرپشن کے خلاف آگاہ کیا جائیگا۔ 2015ء سے نیب نے ریجنل دفاتر کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے مانیٹرنگ کا موثر نظام قائم کیا ہے نیب ہیڈکوارٹرز کی کارکردگی بھی سالانہ بنیادوں پر جانچی جاتی ہے۔ نیب نے مڈٹرم انسپکشن کانظام وضع کیا ہے جس کے تحت سالانہ معائنے اور فیڈ بیک کے ذریعے نیب ہیڈ کوارٹرز اور ریجنل بیوروز کی کارکردگی کو جانچا جاتا ہے اس طرح سے نیب نے انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی میکانزم بھی بنایا ہے۔ اب تک 84 آفیسرز میں سے 23 آفیسرز پربھاری جرمانہ عائد کیا جا چکا ہے انہیں ملازمتوں سے بھی برخواست کیا گیا ہے جبکہ 34 آفیسرز پر معمولی جرمانہ عائد کیا گیا ہے یہ ایک ریکارڈ ہے کہ کسی ادارے نے اپنے اندر احتساب کا عمل شروع کیا ہے۔اسی طرح سے نیب نے موثر مانیٹرنگ اور

ایولیوشن سسٹم بنایا ہے جس کا مقصد ہر سطح پر شکایات کے اندراج،شکایات کی تصدیق،انکوائری،تفتیش،کیس کی سماعت اور ریکارڈ کو محفوظ بنانا ہے۔اس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں جس سے نیب کی کارکردگی بہتر ہوگی۔

چیئر مین نیب

مزید : علاقائی


loading...