تکا تکا دھم دھم..........

تکا تکا دھم دھم..........
 تکا تکا دھم دھم..........

  


میں نے تو ہر یوم آزادی پر ہی دیکھا ہے کہ ہم حالات کے سنگین دور سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اب تو سنگین حالات ہاتھ جوڑ کر ہم سے پوچھ رہے ہیں اوئے کون لوک او تسی۔ یہی تو ہم اسے بتانا چاہتے ہیں کہ ہم بہت خاص لوگ ہیں، جو ہر تکلیف، دکھ درد، مصیبت میں جینا جانتے ہیں۔ ہمیں آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ مسکرانا آتا ہے۔ جب دنیا سمجھتی ہے کہ ہم گئے تو ہم انہیں بتاتے ہیں کہ نہیں ہمیں ڈوبتے ڈوبتے ابھرنا آتا ہے۔ شدید مالی بحران اپنی جگہ ہم نے انہی بحرانوں میں ایٹم بم بنایا۔ انہی بحرانوں میں ہم نے اپنی معیشت کو خودکشی نہیں کرنے دی۔ ہماری اپنی ایک ثقافت ہے، رہن سہن اور مزاج ہے۔ ہم نے ان میں جینے کے ڈھنگ سیکھے ہیں۔ حضرت اقبالؒ نے کیا خوب کہا تھا۔

’’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی‘‘

آج یوم آزادی ہے، میں نے پاکستان بنتے تو نہیں دیکھا لیکن میں نے اپنے والد مرحوم اسحاق رانا کی آنکھوں کے آنسوؤں میں اس جدوجہد کو لائیو دیکھا جو ایک قوم نے ایک پاک ملک حاصل کرنے کے لئے کی۔ جب ہمیں وابستگی کی حدت کا مفہوم نہیں معلوم تھا تو اس سے آشنا ان کے لہجے نے کر دیا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا نام لیتے ہوئے جب ان کی آواز بھرانے لگتی تھی، مجھے کہنے دیجئے تمام تر گلے شکوؤں کے باوجود مجھے اس دھرتی، اس پاک دھرتی سے محبت نہیں عشق ہے۔ اس مٹی میں میرے پرکھوں کے جسم اور روحیں دفن ہیں، سب سے بڑھ کر اس میں میرے بچوں نے ایک آسودہ زندگی گزارنی ہے۔ وہ آسودہ زندگی اگر میں نہیں دیکھ پایا تو میری اولاد ضرور دیکھے گی۔ وہ وقت ضرور آئے گا جب آف شور کمپنیاں تو ہوں گی لیکن ملکی دولت باہر بھیجنے والی لیڈر شپ نہیں ہوگی۔ جہاں صرف حسن، حسین، بلاول، سلمان، قاسم ہی روشن پیشانیوں کے ساتھ تمتماتے نہیں پھریں گے۔ جہاں ایک آسودہ معاشرہ سب بچوں کے مستقبل کا امین ہوگا۔

آج یوم آزادی ہے، جشن منائیں، شکوے، گلے، ناراضگیاں آج کے دن بھول جائیں، اس آزادی کو محسوس کریں، یہ آسمان سے گرتی بوندوں کو دیکھیں، غلامی کی بارش اور آزادی کی رم جھم میں بہت فرق ہوتا ہے۔ مانتا ہوں ہم ابھی سفر میں ہیں جہاں بالادست قوتوں میں اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ اچھا ہے آپس میں لڑتے پھریں۔ ایک دوسرے کے سر پھاڑیں، یہ ہماری عوام کی طاقت ہی ہے کہ ہر آمر سریے کی گردن والا سرمایہ دارآخر میں جمہوریت کی بات کرتا ہے۔ انصاف کی بات کرتا ہے۔ وہ تو بات فقط بات کرتے ہیں، میرا یقین ہے یہ باتیں کبھی حقیقت کا روپ ضرور دھاریں گی۔ یہ خطہ یہ ارض پاک اپنے پیاروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں گری لاشوں کو اٹھا اٹھا کے ابھی تھکا نہیں ہے، وہ ہماری ہمت استقامت اور سچائی کو شکست نہیں دے سکیں گے۔

آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش

اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

معاف کیجئے میں زیادہ سنجیدہ بات کروں تو میرے منہ پر کھلیاں پڑنے لگتی ہیں۔ زندگی نام مشکلات میں مسکرانے کا اور دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کا آپ مسکرائیے اور دوسروں کو مسکرانے کا موقع دیں۔ یقین کریں یہ ارض پاکستان امریکہ برطانیہ بھارت کی جاگیر نہیں، مانتا ہوں ان کے گماشتے ہر جگہ ناگ کی طرح پھن پھیلائے بیٹھے ہیں۔ ان کی پھنکار سے کبھی جمہوریت، کبھی سوشلزم، کبھی انقلاب کی آواز یں آتی رہتی ہیں لیکن عوام ایک دن ضرور ان ناگوں کو کچل کر رکھ دیں گے، میرا یقین ہے۔

لچنڈری ڈائریکٹر وی شانتا رامر نے 1957ء میں ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ بنائی تھی۔ اس فلم کا ایک گانا جو اب سے 67 سال پہلے لکھا گیا لیکن آج ضرورت ہے کہ اسے اونچی آواز سے سنا اور گایا جائے۔ آپ بھی پڑھیے اور پڑھائیے۔

آؤ آؤ

ہونہارو

پیارے بچو

عمر کے کچے

بات کے سچے

جیون کی اک بات بتاؤں

جیون کی اک بات بتاؤں

مصیبتوں سے ڈرو نہیں

بزدل بن کر مرو نہیں

روتے روتے کیا ہے جینا

ناچوں دکھ میں تان کر سینہ

تکا تکا دھم دھم

تکا تکا دھم دھم

رات اندھیاری ہو

گہری گھٹائیں ساری ہوں

راستہ سنسان ہو

آندھی اور طوفان ہو

منزل تیری دور ہو

پاؤں تیرے مجبور ہوں

تو کیا کرو گے

رک جاؤ گے

نہیں۔۔۔۔۔۔

تو کیا کرو گے

تکا تکا دھم دھم

تکا تکا دھم دھم

دیش میں بپتا بھاری ہو

جنتا سب دکھیا ری ہو

بھوت پریا کال ہو

باڑھ اور بھونچال ہو

ملک میں ہا ہا کار ہو

چاروں طرف پکار ہو

تو کیا گرو گے

جپ بیٹھو گے

نہ۔۔۔۔۔۔

تو کیا کرو گے

تکا تکا دھم دھم

تکا تکا دھم دھم

انسانوں کے دکھ پہچان

کرکے اپنا سب قربان

بے بس کا گھر بس جائے

اپنا گھر جو اجڑ جائے

اوروں کو کرکے آباد

ہوئے اگر جو تم برباد

تو کیا کرو گے

رؤ گے

نہ۔۔۔۔۔۔

تو کیا کرو گے

تکا تکا دھم دھم

تکا تکا دھم دھم

جگ میں گھور لڑائی ہو

وطن پہ آفت آئی ہو

گھر میں گھسے لٹیرے ہوں

بندوقوں کی مار ہو

بڑے بڑے لاچار ہوں

تو کیا کرو گے؟

ڈر جاؤ گے؟

نہ۔۔۔۔۔۔

تو کیا کرو گے

تکا تکا دھم دھم

تکا تکا دھم دھم

مزید : کالم


loading...