امریکی نسلی سوچ سے بلند تر ہو کر قومی اتحاد کو برقرار رکھیں ، ورجینیاں میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے کا واقعہ نفرت کا جر م ہے : صدر ٹرمپ

امریکی نسلی سوچ سے بلند تر ہو کر قومی اتحاد کو برقرار رکھیں ، ورجینیاں میں ...

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی دارالحکومت کی نواحی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹ ویل میں نسل پرست سفید اور سیاہ فام گروہوں کے درمیان فساد کے دوران ہجوم پر ایک گورے نوجوان نے گاڑی چڑھا دی جس سے ایک سیاہ فام خاتون ہلاک اور 19 افراد زخمی ہوگئے اس سانحہ پر گزشتہ روز تبصرہ کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اس نسلی فساد پر افسوس کا اظہار کیااور کہا سفید فام باشندوں کی بالادستی کا پرچار کرنیوالی تنظیم کی طرف سے شروع ہونیوالا احتجاجی مظاہرہ دراصل تشدد، نسلی تعصب اور نفرت کا اظہاراور جرم ہے۔ادھر وائٹ ہاؤس کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جنرل ایچ آر میک ماسٹر نے ’’این بی سی‘‘ ٹی وی کو انٹرویو میں سفید فام نوجوان کی طرف سے ہجوم پر گاڑی چڑھانے کو دہشت گردی قراردیدیا۔ وائٹ ہاؤس ترجمان نے مطابق صدر ٹرمپ نے سفید فام با شندوں کی بالادستی کی حمایت کرنیوالی تنظیم کے علاوہ کوکلکس کلان (کے کے کے) اور ’’نیونازی‘‘ جیسے گروہوں کی طرف سے جنرل رابرٹ لی کے مجسمے کو ہٹانے پر تنازعہ پیدا کرنے کو نسلی منافرت کا آغاز قرار دیتے ہوئے پوری قوم پر زور دیا کہ وہ نسلی سوچ سے بلند تر ہو کر اپنا قومی اتحاد برقرار رکھیں۔موجودہ فساد کا آغاز جمعہ کی شام ہوا جب امریکہ کی مختلف ریاستوں سے سفید فام باشندوں کی متعدد نسل پرست تنظیموں نے ورجینیا ریاست کے شہر شارلٹ ویل میں واقع ورجینیا یونیورسٹی کے ’’آزادی پارک‘‘ میں نصب جنگ آزادی کے دور کے ایک جنرل رابرٹ لی کے مجسمے کو ہٹانے کے حق میں مشعل بردار ریلی نکالی۔ ہفتے کی صبح اس ریلی کے مخالف سیاہ فام باشندوں کا ایک گروہ بھی وہاں آن پہنچا۔ انہوں نے پہلے ایک دوسرے کیخلاف نعرے بازی کی اور پھر گالم گلوچ اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی جس کے دوران ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال ہوا، تصادم کے تھوڑی دیر بعد اوہائیو ریاست کے ایک نوجوان نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی جس سے 32 سالہ خاتون ہیتھر ہیئر ہلاک ہوگئی، تصادم اور بعد میں گاڑی کے چڑھ دوڑنے سے 19 افراد زخمی بھی ہوئے۔ گاڑی چلانے والے نوجوان جیمز فیلڈ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔تصادم کے وقت ایک اور سانحہ بھی ہوا جب ہنگامے کی فضائی نگرانی کرنیوالا ایک پولیس ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس میں دو پولیس افسر ایچ جے کولن اور ایم ایم بیٹس ہلاک ہوگئے۔اس سارے ہنگامے کا پس منظر یہ ہے کہ شارلٹ ویل کی سٹی کونسل نے امسال اپریل میں اس شہر میں ورجینیا یونیورسٹی کے ’’آزادی پارک‘‘ میں نصب جنگ آزادی دور کے جنرل رابرٹ لی کے مجسمے کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد وقتاً فوقتاً اس فیصلے کے حق میں سفید فام نسل پرست تنظیموں اور سفید قوم پرستوں کی مخالف ’’آلٹ رائٹ‘‘ تنظیم نے اسکی مخالفت میں مظاہرے شروع کر دئیے۔ یہ مجسمہ 1924ء میں یہاں نصب کیا گیا تھا۔ کنفیڈریشن کا جنرل رابرٹ لی امریکی یونین کی فوج کیخلاف لڑا تھا۔ جس نے 1865ء میں یونین جنرل یولی سس کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ جنرل لی کے مجسمے کو ہٹانے کا مطالبہ کرنیوالوں کا مو قف یہ ہے کہ اس نے امریکی یونین کیخلاف جنگ لڑی تھی اس لئے اس کی یادگار قائم رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ

مزید : علاقائی


loading...