آئین میں تبدیلی

آئین میں تبدیلی
آئین میں تبدیلی

  


سابق وزیراعظم نواز شریف کے پاس جو راستہ تھا، انہوں نے اپنا لیا۔انہیں عوام نے منتخب کرکے اسلام آباد بھیجا تھا،وہ اسلام آباد سے واپس عوام میں آ گئے ہیں۔ اب ان کے جج بھی عوام ہیں اور وکیل بھی عوام۔سپریم کورٹ اپیل کا حق کھائے گی توفیصلہ متنازع ہو جائے گا، عوام کی عدالت میں زیر بحث آے گا اور عوام زبان دراز ہوتے ہیں، اسے آداب کا سانچہ لیڈر کی زبان میں ڈھل کر ملتا ہے۔

سابق وزیراعظم کا گلہ عوام کا گلہ بن گیا ہے اور عوام کا گلہ عالمی ایوانوں میں ریاست کا گلہ بن کر گونج رہا ہے۔ گلہ یہ ہے کہ ریاست پاکستان اور اس کے باسیوں کو طاقتور اداروں نے یرغمال بنالیا ہے ، عوام کی آزادی سلب کی جا رہی ہے ۔ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کاازالہ کون کرے گا؟

1973ء کے آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ سپریم کورٹ اپنی حدود سے تجاوز کر ے گی ۔ آرٹیکل 184(3) کا دروازہ مفاد عامہ کے لئے کھولا گیا تھا، لیکن آج اسی دروازے سے عوام کے منتخب وزیراعظم کو نکال باہر کیا گیا ہے۔آئین میں پلنے والے اس سنپولئے نے عوام کے وزیراعظم کو ڈس لیا ہے۔ خبر نہ لی گئی تو یہی آرٹیکل کل حکومتوں کو کھانا شروع کردے گا، یہ سنپولیا اژدھے میں بدل جائے گا۔

قانونی معاملات کی سیاسی شکل خوفناک ہوتی ہے ۔ اسی لئے عدالتیں صبروتحمل کا مظاہرہ کرتی ہیں ، جہاں کہیں عدالتیں صبروتحمل کا دامن چھوڑتی ہیں ، ان سے بھول چوک ہوتی ہے تو خمیازہ پورے سسٹم کو بھگتنا پڑتا ہے ، جیسے بھٹو کے عدالتی قتل کی سزا پاکستان نے گزشتہ چالیس برس تک بھگتی ہے۔اس دوران جنرل ضیاء الحق نے ہاتھ سے آئین میں جو گانٹھیں لگائی تھیں انہیں سیاستدان دانتوں سے بھی نہیں کھول پا رہے ہیں ۔

جج غلط ہو تو بھی جج ہوتا ہے، لیکن جج کبھی اپنی غلطی پر بضد نہیں ہوتے۔وہ ہر وقت اصلاح کے لئے تیار رہتے ہیں ، تبھی تو وکلاء ججوں کی معاونت کے لئے کھڑے رہتے ہیں ، ان کے لئے نظائر ڈھونڈتے ہیں، قوانین کی تشریح کرتے ہیں اور انہیں صائب فیصلے تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔اس دوران حقائق کی پرکھ اور قانونی موشگافیوں کے طوفان کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ حتی الامکان حد تک صحیح فیصلے کی کھوج میں رہتے ہیں۔

1970ء کا آئین تشکیل دیا گیا تو فوج اور عدلیہ کو معتبر ترین ادارے قرار دیا گیا۔ چالیس برس بعد ان کی معتبری پر سوال اُٹھائے جا رہے ہیں اور ان کے باہمی گٹھ جوڑ پر بحث جاری ہے ۔ یہ بحث زندہ معاشرے کی مثال ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر پاکستانی عوام کسی کو اختیار دے سکتے ہیں تو اس اختیار کے ناجائز استعمال پر اعتراض بھی اٹھا سکتے ہیں۔ تبھی تو نواز شریف کا موقف اب ایک بڑے عوامی طبقے کا موقف بن چکا ہے، اس موقف کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس پر بحث ہونی چاہئے، کیونکہ عدلیہ یا فوج میں سے کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے۔ ان کا احتساب خود انہیں کے ہاتھ میں کیسے دیا جاسکتا ہے،جبکہ عوامی نمائندوں کے احتساب میںیہ دونوں ادارے پیش پیش رہتے ہیں۔احتساب کے نام پر انہیں استحصال کی کھلی چھٹی کیسے دی جاسکتی ہے ؟ جج اور جرنیل ہم میں سے ہیں تو ہم جیسے کیوں نہیں ہو سکتے؟ ان کو آئینی اور قانونی تناظر میں جو استثنا حاصل ہے وہ زیربحث کیوں نہیں لایا جا سکتا، اسے ترمیم کی چکی سے کیوں نہیں گزارا جا سکتا ؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ جنرل کیانی دانا اور ایماندار ہوں اور ان کا بھائی کامران کیانی نادان اور بے ایمان ہو۔ دونوں میں خون کے علاوہ بھی کوئی قدر مشترک ہونی چاہئے، ایک کو اس لئے نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اس کا تعلق فوج سے ہے اور دوسرے کو اس لئے معتوب نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عوام میں سے ہے۔

کسی بھی سوسائٹی کو سمجھنے اور پرکھنے کا بہترین طریقہ اس سوسائٹی کے قوانین کا مطالعہ ہوتا ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 62اور 63ہی نہیں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 245 سی بھی اسی شدت پسندی کی عکاس ہے جس سے ہمارا معاشرہ دوچار ہے ، ہم الزام لگانے کے بعد اس کی صحت کو جانچنے کے عادی نہیں ہیں ، ہم نے اس مزاج کے تابع مشال خان کو مارڈالا، ممتاز قادری گنوا ڈالا!۔۔۔ آئین بدلنے سے پہلے ہمیں اپنی سوچ کا انداز بدلنا ہوگا وگرنہ 62اور 63میں ایک طرح کی خامی دور کرتے کرتے ہم دوسری طرح کی قباحتیں شامل کربیٹھیں گے!

مزید : کالم


loading...