بینک آف خیبر کے ایم ڈی کی برطرفی کا معاملہ معلق کیوں چلا آرہا ہے؟

بینک آف خیبر کے ایم ڈی کی برطرفی کا معاملہ معلق کیوں چلا آرہا ہے؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

ایسے محسوس ہوتا ہے خیبر پختونخوا کی پرویز خٹک حکومت چاہتی ہے کہ بینک آف خیبر کے ایم ڈی شمس القیوم کسی نہ کسی طرح اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوجائیں اسی لئے صوبے کی مخلوط حکومت میں شریک جماعت اسلامی کے بار بار اصرار کے باوجود انہیں ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکا، شمس القیوم نے صوبے کے وزیر خزانہ مظفر سید کے خلاف پشاور کے اخبارات میں اشتہارات شائع کرائے تھے جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ کرپشن میں ملوث ہیں، بینک کے وسائل سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور انہوں نے جماعتی وابستگیاں رکھنے والے بہت سے لوگوں کو میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بینک میں ملازمتیں دی ہیں اس اشتہار کی اشاعت کے بعد وزیر خزانہ نے بھی جوابی طور پر بعض الزامات پر مبنی اشتہار شائع کرائے جن میں ان سب الزامات کو غلط قرار دیا گیا تاہم فریقین کے الزامات کی تحقیق ہوئی تو الزامات کی درستی کا تعین نہ ہوسکا، البتہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ایک بیان میں یہ وضاحت ضرور کردی کہ وزیر خزانہ پر لگائے گئے الزامات درست نہیں ہیں۔ لیکن حیران کن حد تک الزام لگانے والے بینک کے ایم ڈی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جماعت اسلامی کی صوبائی قیادت نے بار بار کارروائی کا مطالبہ کیا جس کے جواب میں حکومت یہ یقین دہانی تو ضرور کراتی رہی کہ کارروائی کی جائیگی لیکن طویل عرصے تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جس پر جماعت اسلامی کی قیادت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کارروائی نہ کی گئی تو جماعت اسلامی مخلوط حکومت سے الگ ہوجائے گی، اس دوران قومی وطن پارٹی کے وزراء اور معاونین خصوصی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں، ان وزراء کو اس لئے استعفا دینا پڑا کہ تحریک انصاف نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پاناما کیس پر قومی وطن پارٹی نے اس کا ساتھ نہیں دیا قومی وطن پارٹی دو دفعہ صوبائی حکومت سے الگ ہوئی ہے پہلے اس کے وزراء پر کرپشن کا الزام لگایا گیا تھا لیکن کوئی بد عنوانی ثابت نہ کی جاسکی جس پر قومی وطن پارٹی کو دوبارہ حکومت میں شامل کرلیا گیا سکندر شیر پاؤ کا کہنا ہے کہ دوسری مرتبہ شمولیت کے لئے تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی میں معاہدہ ہوا تھا جس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی وطن پارٹی کو حکومت سے نکالنے کا اعلان کردیا گیا، اس نازک صورتحال میں جماعت اسلامی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے یہ دھمکی دیدی کہ اگر بینک آف خیبر کے ایم ڈی کو برطرف نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی حکومت چھوڑ دے گی، لیکن اب تک دونوں باتیں نہیں ہوسکیں، یعنی شمس القیوم بدستور بینک آف خیبر کے ایم ڈی ہیں اور جماعت اسلامی بدستور شریکِ حکومت ہے، ایک با خبر ذریعے نے رابطے پر بتایا کہ تحریک انصاف کے ایک اہم رہنما بینک کے بورڈ آف گورنرز میں شامل ہیں وہ نہیں چاہتے ہیں کہ بینک کے ایم ڈی کے خلاف کوئی کارروائی ہو، وہ حکمتِ عملی کے ساتھ معاملے کو طول دیئے جارہے ہیں کیونکہ ایم ڈی کی ریٹائرمنٹ زیادہ دور نہیں ہے۔ ان کا یہ خیال ہے کہ معاملہ اسی طرح سست رفتاری سے آگے بڑھتا رہا تو ریٹائرمنٹ کی تاریخ بھی آجائیگی، دوسری جانب جماعت اسلامی بھی حکومت سے باہر آنے کے مسئلے پر زیادہ پر جوش نہیں ہے، ورنہ اس وقت جب قومی وطن پارٹی کے نکلنے کے بعد پرویز خٹک کے حامیوں کی تعداد کم ہوگئی ہے اگر جماعت اسلامی بھی حکومت سے نکل جائے تو حکومت کی اکثریت متاثر ہوگی اور امیر مقام جیسے سیاسی مخالفین اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہوں نے پہلے ہی اعلان کررکھا ہے کہ اگر قیادت انہیں حکم دے تو وہ پرویز خٹک کی حکومت ایک ہفتے کے اندر اندر ختم کرسکتے ہیں لیکن لگتا ہے ان کا یہ دعویٰ بھی بس خالی خولی ہے کیونکہ اگر ایسا کرنا ان کے لئے آسان ہوتا تو وہ کم از کم عدم اعتماد کی تحریک کے لئے کارروائی کا آغاز کرچکے ہوتے اگر یہ کام شروع نہیں کیا گیا تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ تحریک کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن نہیں ہیں۔ کیا امیر مقام اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ بینک آف خیبر کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے تو وہ اپنی کارروائی شروع کریں باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ بینک کے ایم ڈی کی برطرفی کے مسئلے پر جماعت اسلامی حکومت پر دباؤ تو ڈالتی رہے گی لیکن اگر حکومت کوئی اقدام نہیں اٹھاتی یا معاملے کو پہلے کی طرح لٹکاتی چلی جاتی ہے تو بھی جماعت اسلامی مخلوط حکومت سے الگ نہیں ہوگی پرویز خٹک کو بھی یہ بات معلوم ہے اس لئے وہ بھی برطرفی کے مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہیں انہیں اگر یقین ہوتا کہ جماعت اسلامی حکومت سے الگ ہوجائیگی تو وہ اپنی وزارت بچانے کیلئے بینک کے ایم ڈی کی قربانی دے دیتے۔

بینک آف خیبر

مزید : تجزیہ


loading...