دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ، ریاستی اداروں کو موثر تعاون کرنا ہو گا : جنرل باجوہ

دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ، ریاستی اداروں کو موثر تعاون کرنا ہو گا : جنرل باجوہ

راولپنڈی228 کوئٹہ( مانیٹرنگ ڈیسک 228صباح نیوز) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کو موثر تعاون کرنا ہوگا ۔ قوم شہدا کی قربانیوں کے اعتراف میں یوم جشن آزادی بھرپور انداز میں منائے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر( کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے خود کش حملے میں شہید جوانوں کی نماز جنارہ میں شرکت کی۔شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ میں آرمی چیف کے علاوہ گورنر بلوچستان، وزیراعلی بلوچستان، وفاقی وزیر داخلہ، کمانڈر سدرن کمان لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض سمیت دیگر سول اور اعلی فوجی افسروں نے شرکت کی۔علاوہ ازیں آرمی چیف نے سی ایم ایچ کوئٹہ میں دھماکے کے زخمیوں کی عیادت بھی کی۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کاکہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کو موثرتعاون کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ شہدا نے پرامن اورمستحکم پاکستان کے لئے جانیں قربان کیں، قوم شہدا کی قربانیوں کے اعتراف میں یوم جشن آزادی بھرپور انداز میں منائے،اس سے قبل آرمی چیف کو سدرن کمانڈ ہیڈکوارٹرز میں بلوچستان اور خصوصی طور پر کوئٹہ کی سیکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔ یاد رہے کہ کوئٹہ کے علاقے پشین اسٹاپ کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 8 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے تھے۔ دریں اثناوفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کوئٹہ میں بم دھماکے اور اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت ایک دوسرے کو نہیں ،دہشتگردی کو نیچا دکھانے کا ہے،اندرونی اتحاد کو پامال کرنے والے سیاسی عناصر پاکستان کے دشمن ہیں جو ملک کو داخلی طور پر کمزور کرنا چاہتے ہیں ،دہشتگردی کے سو فیصد خاتمے کیلئے وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ بھر پور تعاون یقینی بنائے گی،2013میں دہشتگرد چڑھائی پر تھے اورریاست محاصرے میں تھی،ہماری حکومت نے فیصلہ کن کارروائیاں کیں جن سے دہشتگردوں کی کمرٹوٹی ۔کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری کے ساتھ سی ایم ایچ کے دورے اور زخمیوں کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے پچھلے 4 برسوں میں آپریشن کے تحت فیصلہ کن کارروائیاں کیں جن سے دہشتگردوں کی کمرٹوٹ چکی ہے، دہشت گرد بزدلانہ کارروائیاں کرکے وجود قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ وقت بھی دورنہیں جب یہ کارروا ئیاں بھی ختم ہوجائیں گی، دشمن نہیں جانتا کہ پاکستان ایسے بزدلانہ حملوں سے نہیں ڈرتا۔وزیرداخلہ نے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اورہمیں اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے، کچھ سیاسی عناصرمسلسل اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان داخلی طور پرکمزورہوجائے تاہم وہ لوگ جو چند سالوں سے اندرونی اتحاد کو پامال کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ ہی پاکستان کے دشمن ہیں، وہ قوم کو تقسیم کرنے کے درپرہیں۔ ہم ایک طرف بڑی بڑی قربانیاں دے رہے ہیں ، ہم نے آپریشن ضرب عضب اور اب آپریشن ردالفساد کے تحت کامیابیاں حاصل کیں جب کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے آگے بھی بڑھ رہے ہیں، یہ وقت ایک دوسرے کو نیچا نہیں بلکہ دہشتگردی کو نیچا دکھانے کا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو قوم نے مل کر ہر سطح پر لڑنا ہے۔ ہمارا دشمن بہت چالاک ہے جو واضح عزائم رکھتا ہے، ہمیں مکمل اتحاد کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا ہے، مل کر ملک کے مستقبل کے حوالے سے آگے بڑھنا ہے اوروفاقی حکومت تمام صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائے گی۔ دہشت گردی کا واقعہ ہماریعزم کو بڑھاتا ہے، ہمارے سکیورٹی کے تمام ادارے چوکس ہیں دہشت گرد محاصرے میں ہیں اورہم دہشت گردی کے اس واقعہ سمیت تمام واقعات کے محرکین تک پہنچیں گے۔وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے تعاون کو یقینی بنائیگی۔ وزیراعلی بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری نے کہا کہ ہم ایک وارزون میں رہ رہے ہیں، ہمارا افغانستان کیساتھ پورس بارڈر ہے،ہم نے ماضی میں بھی دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایاہے۔ کوئٹہ حملے کوسکیورٹی کوتاہی قرار دینا درست نہیں ،فرانزک تحقیقات میں مدد کے لیے پنجاب حکومت سے درخواست کی ہے۔ کوئٹہ حملے کوسکیورٹی کوتاہی قرار دینا درست نہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کیساتھ بارڈر مینجمنٹ پر کام کررہے ہیں۔ آج بلوچستان کے حالات مختلف ہیں اور امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہے، ریاست نے دہشت گردی کے واقعات پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے تاہم ایک وقت تھا جب پاکستان میں ہر روز 6 سے 7 دہشت گردی کے واقعات ہوتے تھے۔ ہم ایک وار زون میں رہ رہے ہیں، جہاں کوئی جانے کو سوچ نہیں سکتا تھا وہاں فورسز نے آپریشن کیے، ہم دہشت گردی کے خلاف ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے ، ہم نے ماضی میں دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔ ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کو کیمروں کے سامنے شیئر نہیں کر سکتے ، جیسے ہی دھماکے کی خبر ملی نواز شریف نے فورا کوئٹہ پہنچنے کی ہدایت کی۔وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کوئٹہ کا دھماکہ خودکش تھا ، حملہ آور کا سر مل گیا ہے ، حملے کو سیکیورٹی کوتاہی قرار دینا درست نہیں ۔ یہ ایک مشکل جنگ ہے جس میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ فرانزک تحقیقات میں مدد کیلیے پنجاب حکومت سے درخواست کی ہے اور فرانزک کی ٹیم پہلی دستیاب فلائٹ سے کوئٹہ پہنچے گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے، ہمارے اندرونی اتحاد کو پامال کرنے والے پاکستان کے دشمن ہیں ، بعض سیاسی عناصر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، قوم کو متحد رہنے کی ضرورت ہے ، تمام اختلافات کو بھول کر اتحاد سے جنگ کو جیتنا ہوگا،عوام کی خوشحالی اور امن و امان ہماری بنیادی ضرورت ہے،دہشت گردوں کی کمر توڑی جا چکی ہے اور بہت جلد دہشت گردوں کی کارروائیاں بھی 100 فیصد ختم ہوجائیں گی۔ حکومت نے پچھلے 4 سال میں آپریشن کے تحت فیصلہ کن کارروائیاں کیں جن سے دہشتگردوں کی کمرٹوٹ چکی ہے،بہت جلد دہشت گردوں کی کارروائیاں بھی 100 فیصد ختم ہوجائیں گی، دہشت گرد بزدلانہ کارروائیاں کرکے وجود قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ وقت بھی دورنہیں جب یہ کارروائیں بھی ختم ہوجائیں گی، دشمن نہیں جانتا کہ پاکستان ایسی بزدلانہ حملوں سے نہیں ڈرتا۔ہمیں اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے، کچھ سیاسی عناصرمسلسل اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان داخلی طور پرکمزورہوجائے تاہم وہ لوگ جو چند سالوں سے اندرونی اتحاد کو پامال کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ پاکستان کے دشمن ہیں، وہ قوم کو تقسیم کرنے کے درپرہیں۔؂ہمارا دشمن بہت چالاک ہے جو واضح عزائم رکھتا ہے، ہمیں مکمل اتحاد کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا ہے، مل کر ملک کے مستقبل کے حوالے سے آگے بڑھنا ہے ا تمام اختلافات کو بھول کر اتحاد سے جنگ کو جیتنا ہوگا۔حکومتی کارکردگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سال میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔

آرمی چیف۔ احسن اقبال

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...