قانون سازی کی 51سفارشات ، 19قرار دادیں ،57توجہ دلاؤ نوٹس

قانون سازی کی 51سفارشات ، 19قرار دادیں ،57توجہ دلاؤ نوٹس

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کے چوتھے پارلیمانی سال کے دوران نوجوان پارلیمنٹرینز نے قانون سازی سمیت پارلیمنٹ کی کارروائی میں برھ چڑھ کر حصہ لیا ہے‘ پارلیمانی سال کے دوران مجموعی طور پر 51 قانون سازی کی سفارشات‘ 19 قرار دادیں‘ 57 توجہ دلاؤ نوٹس اور 545 سوالات نوجوان پارلیمنٹرین کی جانب سے پوچھے گئے ۔ سیاسی جماعتوں میں سب سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ ایم کیو ایم کے پارلیمنٹرینز کی جانب سے کیا گیا ہے۔ غیر سرکاری تنظیم فافین کی جانب سینوجوانوں کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے جاری کی جاین والی رپورٹ کے طابق قومی اسمبلی میں موجود 78 نوجوان مرد خواتین پارلیمنٹرین جن کی عمر چالیس سال سے کم ہیں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے مطابق 55 نوجوان پارلیمنٹرینز نے چوتھے پارلیمانی سال کے دوران قومی اسمبل کی کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے جبکہ 23 نوجوان پارلیمنٹیرینز کی کارکردگی بہتر نہیں ہی ہے جن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے 17 ‘ پیپلزپارٹی کے 3 جبکہ جے یو آئی ف ‘ ایم کیو ایم اور آزاد گروپ کا ایک ایک نوجوان رکن شامل ہے رپورٹ کے مطابق نوجوان پارلیمنٹرینزکے اپنے سینیٹر پارلیمنٹرینز کے ہمراہ قومی اسمبلی کے ایجنڈے کے 100 نکات میں مل کر حصہ لیا جبکہ 142 ایجنڈا نکات اپنی جانب سے پیش کئے ہین رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے پارلیمنٹرینز نے قانون سازی میں سب سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جنہوں نے مجموعی طور پر 28 پرائیویٹ ممبر بلز اور 241 سوالات پیش کئے ہین اسی طرح 16 نوجوان پارلیمنٹرینز نے دوسروں کی جانب سے پیش کی جانے والی قانون سازی میں حصہ لیا 14 پارلیمنٹرینز نے تحاریک پیش کی 20 پپارلیمنٹرینز نے سوالات پوچھے جبکہ تیس نوجوان پارلیمنٹرینز نے توجہ دلاؤ نوٹسز جمع کرائے اور 43 نوجوان پارلیمنٹرینز نے براہ راست مختلف تحاریک پر ہونے والی بحث میں حصہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے چوتھے پارلیمانی سال کے دوران 97 دن کی کارروائی ہوئی جبکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے پانچ مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے۔

فافن رپورٹ

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...