سرکاری ہسپتالوں میں جاری ہڑتال پر پی ایم اے مرکزی کونسل کی شدید تشویش

سرکاری ہسپتالوں میں جاری ہڑتال پر پی ایم اے مرکزی کونسل کی شدید تشویش

ملتان(نمائندہ پاکستان)پی ایم اے کی مرکزی کونسل کے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں جاری ہڑتال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ حکومت پنجاب محکمہ صحت اور احتجاجی ڈاکٹروں سے غریب مریضوں کی شدید مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے مل کر حل کرنے پر زور دیا ہے ۔ اس سلسلے میں پی ایم اے پنجاب کی قیادت کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ (بقیہ نمبر3صفحہ10پر )

وہ ہسپتالوں میں گزشتہ دس روز سے جاری ہڑتال کی وجہ سے شدید مشکل صورتحال کو ختم کرانے میں اپنا فعال کردار ادا کرے ۔ مرکزی کونسل نے قرار دیا ہے کہ صحت ایک ٹیکنیکل محکمہ ہے اور بیورو کریسی اس کو چلانے میں بری طرح نا کام ہو گئی ہے ۔ پنجاب میں گزشتہ 5 سالوں میں 7 نامی گرامی بیورو کریٹ کی نا کامی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ہمیں ان کو صلاحتیوں پر شک نہیں مگر اس محکمہ کو چلانا ان کے بس میں نہیں ہے کونسل نے سندھ اور بلوچستان کی طرح تمام صوبوں میں ڈاکٹر بطور سیکرٹری صحت تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مرکزی کونسل نے پنجاب میں محکمہ صحت کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کیلئے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا اور اسے بیورو کریسی کی طرف سے اسے چلانے میں نا کامی کو قبول کرنے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ صحت ایک مربوط نظام ہے اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کرنا بیورو کریسی کی کم علمی اور نا لائقی کا مظہر ہے اس سے ڈاکٹروں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت کے اخراجات بڑھ گئے ہیں ۔ دونوں محکموں کی آپس کی لڑائی کا خمیازہ ڈاکٹر بھگت رہے ہیں ۔ ماضی میں پنجاب میں ہی نا کام تجربہ کے بعد اس کا کوئی جواز نہیں ہے اس فیصلہ کو فوری واپس لیا جائے ۔ مرکزی کونسل نے پاکستان بھر میں ڈاکٹرز کیلئے یکساں تنخواہوں اور دیگر مراعات کے فوری اطلاق کا بھی مطالبہ کیا ۔ بالخصوص نیم سرکاری ادارے جیسے اور سندھ اور بلوچستان میں سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کیلئے یکساں تنخواہوں کے اطلاق کی فوری ضرورت ہے ۔

پی ایم اے

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...