بھارتی پارلیمانی کمیٹی نے پاکستان کیساتھ مذاکرات کو ناگزیرقراردیدیا

بھارتی پارلیمانی کمیٹی نے پاکستان کیساتھ مذاکرات کو ناگزیرقراردیدیا

نئی دہلی(صباح نیوز)لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے 31ممبران پارلیمنٹ جس میں بھارتیہ جنتاپارٹی کے 13ممبران بھی شامل ہیں نے بھار تی کی حکومت پر زور دیا ہے کہ امن و امان کی بحالی کی خاطر پاکستان کیساتھ مذاکرات لازم ہیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق پارلیمنٹری پینل میں شامل ممبران نے وزیر اعظم ہند پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کو بہانہ بنا کر بات چیت کے عمل کوزیادہ دیر تک یرغمال (بقیہ نمبر49صفحہ10پر )

نہیں بنا یا جا سکتا ۔ پا ر لیمنٹری کمیٹی کی تجاوزات پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی گئیں ہیں جن پر آنیوالے دنوں میں بحث متوقع ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سابق وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے دہشت گردی کے واقعا ت رونما ہونے کے باوجود بھی پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا۔پارلیمنٹری کمیٹی نے کشمیر وادی میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے پر زور دیا جبکہ بے روزگار نوجوانوں کو مین اسٹریم کی طرف راغب کرانے پر بھی مرکزی پارلیمانی کمیٹی نے زور دیا ہے۔ 13بی جے پی ممبران سمیت 31پارلیمانی کمیٹی کے ممبران نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ کمیٹی کے ممبران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردی کو بہانہ بنا کر بات چیت کے عمل کو زیادہ دیر تک روکا نہیں جاسکتا ہے ۔ کمیٹی نے دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ سفارتی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ بات چیت کے مخالف عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ پارلیمنٹری پینل نے مرکزی حکومت کو سفارش کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باوجود بھی مذاکرات پر اثر نہیں پڑنے چاہئے کیونکہ اسے انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پارلیمنٹری پینل میں شامل ممبران نے وزارت خارجہ کے سینئر افیسر سمیت خارجہ سیکریٹری ایس جے شنکر کے ساتھ بھی اس ضمن میں ملاقات کی جبکہ وزارت دفاع اور داخلہ کے آفیسران سے بھی تبادلہ خیال کیا ۔ پارلیمنٹری پینل میں بی جے پی کے 13ممبران جن کی شناخت ورن گاندھی ، اننت ہیج ، راگھو لکھن پال ، وشنو دیال رام ، رام سوراپ شراما ، شرد ترپاٹھی ، رچرڈ ہائے ، چنی بھائی گوئل ، آ ر کے سنہا کے بطور ہوئی ہے جبکہ تلگو دیشم پارٹی اور اکلی دل کے دو دو ممبران شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ کمیٹی میں کانگریس کے ششی تھرور ، راہول گاندھی بھی شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پارلیمنٹری پینل میں شامل اپوزیشن اور بی جے پی کے ممبران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونا چاہئے اور عسکری واقعات کو بہانہ بنا کر بات چیت کے عمل کو روکنے سے گریز کیا جانا چاہئے۔کمیٹی نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے عمل کو روکنا صحیح فیصلہ نہیں ہے کیونکہ سابق وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے وقت میں دہشت گردی کے بڑے واقعات رونما ہوئے تاہم اس کے باوجود بھی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں انتہا پسنداپنے منصوبوں کو عملانے میں ناکام ثابت ہوئے۔ پارلیمانی کمیٹی نے رپورٹ میں کشمیر کے حالات پر بھی بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر چہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کشمیر میں حالات کو درہم برہم کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ تاہم بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے وسائل فراہم نہ ہونے کے باعث بھی نوجوانوں میں حکومت کے تئیں شدید غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے مرکزی حکومت کو سفارش پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ وادی کے نوجوانوں کو مین اسٹریم کی طرف راغب کرانے کیلئے ضروری ہے کہ تعلیم کے معیار کو بہتر نایا جائے جبکہ نوجوانوں کو روزگار کے وسائل بھی میسر رکھنے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی میں شامل ممبران نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ ریاست خاص کرو ادی کشمیر میں نوجوانوں کو مین اسٹریم کی طرف راغب کرانے کیلئے انہیں روزگار فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ خوشحال طریقے سے اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ تاہم کمیٹی نے اس بات کو بھی محسوس کیا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اقدامات اٹھانے کے باوجود بھی وادی کشمیر میں حالات بہتر نہیں ہو پا رہے ہیں جس کی طرف سنجیدگی کے ساتھ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے سیاسی نظریات سے بالا تر ہو کر رپورٹ تشکیل دی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا لازم ملزوم ہے اور اس سلسلے میں حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ معلوم ہوا ہے کہ کمیٹی نے رپورٹ راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں جمع کی ہے اور آنے والے دنوں کے دوران اس پر دونوں ایوانوں میں بحث کرانے کا امکان ہے۔ کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاوزات پر عملدرآمد کرانے کیلئے بھی مرکزی حکومت کی جانب سے بہت جلد اقدامات اٹھانے کا امکان ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...