آئین تبدیل کرنا پارلیمنٹ کا حق، ووٹ کی تذلیل کرنیوالوں کو کبھی برداشت نہیں کرینگے: جاوید ہاشمی

آئین تبدیل کرنا پارلیمنٹ کا حق، ووٹ کی تذلیل کرنیوالوں کو کبھی برداشت نہیں ...

ملتان (سٹی رپورٹر ) سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی ووٹ کی پرچی پر ہے احتساب کی بجائے انتقام لیں گے تو بگاڑ پیدا ہو گا ووٹ کی تذلیل کرنے والوں کو کبھی بھی برداشت نہیں کیا جائے گا 62/63 ملک کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ آمر نے اپنا اقتدار کو پروان چڑھانے (بقیہ نمبر24صفحہ10پر )

کے لئے بنائی تھی آئین کو تبدیل کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے ووٹ سے پاکستان کا وجود ہے اور ووٹ سے ملک بنا اورووٹ کے زریعے ہی قائم رہ سکتا ہے پاکستان اسلام کا عظیم قلعہ ہے عمران خان اور قادری لیڈر نہیں مہرے ہیں پوری قوم کو یوم جشن آزادی کے موقع پر مبارکباد دیتا ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پیٹریاٹ فورم کے مرکزی نائب صدر عون شاہ کے زیراہتمام ایس پی چوک پر یوم جشن آزادی کے سلسلے میں لگائے گئے کیمپ میں کیک کاٹنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما مخدوم سید راجن بخش گیلانی، ایس پی ٹریفک چوہدری طارق، سماجی رہنما امیراللہ شیخ، باسط قریشی اور راجہ سخی سرور بھی موجود تھے مخدوم جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ میں نے کہا کہ تھا کہ نواز شریف کو نکالا گیا تو وہ مظلوم اور زیادہ مقبول ہو جائے گا قوم کو بتا رہا ہوں کہ پی ٹی آئی میں سازشوں کا تانا بانا بنا جاتا رہا ہے اور میں نے سازشوں کے بارے میں لیگی لیڈروں کو بھی آگا ہ کیا تھا لیکن انہوں نے کہا کہ سب ٹھیک ہے کچھ نہیں ہو گا لیکن اب دیکھ لیں کیا کچھ ہو گیا انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں موجود مسلمان سوچتے ہیں ایک اور پاکستان بنے وہاں کے ہندوں نے آج ایک اور پاکستان کی ضرورت پیدا کر دی ہے اگر آج ہم متحدنہ رہے اور حالات کا صیح جائزہ نہ لیا انتشار پیدا کیا تو پہلے بھی ملک دولخت ہو ا اور اب بھی ووٹ کی تذلیل ہو ئی تو خد انخواستہ ہمارا ملک پھر بھی ٹوٹ سکتا ہے ملک کا استحکام، مستقبل اور ترقی ووٹ کی پرچی سے ہے اسی لئے ووٹ کی پرچی کو بے تو قیر نہ کیا جائے اگر پرچی کو بے توقیر کر دیا تو پاکستان کو بے توقیر کر دیں گے پاکستان جمہوریت کی پیداوار ہے اور جمہوریت سے ہی زندہ رہ سکتا ہے اگر جمہوریت کو نکال دیا جائے تو خدانخواستہ ملک ٹکڑوں میں تبدیل ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ عمران خان اور قادری لیڈر نہیں مہرے ہیں میں کہتا ہوں کہ نواز شریف کا احتساب ہو معاف نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ جس کو وزیراعظم بنا کر ایوان میں بھیجا جائے اور اسے باہر نکال دیا جائے تو عوام باہر نکلتی ہے کہ انہوں نے وزیراعظم منتخب کیا لیکن باہر نکال دیا گیا نقصان تو ہماری قوم کا ہوتا ہے میں آج بھی کہتا ہوں کہ عدالت مجھے بلائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...