جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر58

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر58
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر58

  


’’تمہارا تعلق کس مخلوق سے ہے؟‘‘ بالآخر میں نے بسنتی سے وہ سوال کر دیا جس کے جواب سے رادھا نے ابھی تک مجھے محروم رکھا تھا۔ اس کی حسین آنکھوں سے کشمکش کا اظہار ہو رہا تھا۔

’’میں تو سمجھا تھا تم بھی رادھا کی طرح میری دوست ہو لیکن۔۔۔خیر چھوڑو دراصل رادھا مجھ سے بہت پیار کرتی ہے اگر یہی سوال میں اس سے پوچھتا تو وہ ایک منٹ سوچے بغیر اس کا جواب دے دیتی۔ ہو سکتا ہے وہ تم سے زیادہ عقلمند ہو‘‘ میں نے لوہا گرم دیکھ کر وار کیا ساتھ ہی اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔

’’یہ بات نہیں مہاراج! میں تو کیول اس کارن نہ بتا رہی تھی کہ رادھا دیوی ناراج نہ ہو جائے پرنتو میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ تم مجھ سے ناراج ہو۔‘‘

’’پھر تو تمہیں میرے سوال کا جواب دینا چاہئے‘‘ میں نے اسے اکسایا۔

اس کے چہرے سے کشمکش کا اظہار ہو رہا تھا۔

’بھگوان نے ہمیں اگنی سے بنایا ہے اور تمہیں ماٹی سے ‘‘ بالآخر اس نے کہا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر57  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میرا انداز صحیح تھا۔ رادھا اور بسنتی کا تعلق قوم جنات سے تھا۔ صائمہ کی پھوپھو جمیلہ اور محمد شریف نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارے گھر میں جنات بستے ہیں حالانکہ مجھے پہلے سے اندازہ تھا لیکن یہ جان کر کہ اس وقت ایک جن زادی میرے سامنے کھڑے ہے میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ کچھ بھی تھا وہ چاہے جانے کے قابل تھی۔ اس کا حسن ایسا ہی تھا کہ اس کے لیے ملکوں میں جنگ ہو سکتی تھی۔

’’اتنی دیر کیوں سے کھڑی ہو؟ یہاں آؤ میرے پاس‘‘

وہ لجاتی ہوئی میرے پاس آگئی۔ میں نے اس کا نرم نازک ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ سرخ ہوگئی۔ آنکھوں میں گلابی ڈورے تیرنے لگے۔ سانسوں کا زیرو بم اس کے اندر کے ہیجان کا پتا دے رہا تھا۔ ہاتھ کی حدت سے اس کے جذبات سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد میں نے اس کے ہاتھ کو ذرا سا جھٹکا دیا وہ مجھ پر آن گری۔ اس کی گھٹاؤں جیسی زلفوں نے مجھے ڈھک دیا۔ نازک وجود سے اٹھتی بھینی بھینی مہک نے میرے ہوش و حواس چھین لیے۔ میری بے تابی مزید بڑھ گئی مجھے خود پر اختیار نہ رہا۔ اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ جذبات کی حدت سے اس کا حسین بدن تپ گیا۔ وہ مچل کر میری آغوش سے نکل گئی اور مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہانپنے لگی۔ میں ایک بار پھر اس کی طرف بڑھا۔

’’نن۔۔۔نہیں ۔۔۔مہاراج! یہ ۔۔۔تھیک نہیں‘‘ اس نے اپنی سانسوں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کی۔

’’کیوں۔۔۔؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’رادھا دیوی نے تمرے شریر کے گرد کڑا پھیر رکھا ہے جس کارن تم سے شریر کا سمبندھ نہیں ہو سکتا‘‘ اس نے مجبوری ظاہر کی۔

’’کچھ بھی ہو میں تمہارے بنا رہ نہیں سکتا‘‘ میں ضدی لہجے میں کہا۔

’’یدی ہم نے ایسا کیا تو میں بھسم ہو جاؤں گی۔‘‘

’’اس مشکل کا کوئی حل نکالو‘‘ میں بے قرار ہوگیا۔

’’اس سمسیا کا ایک ہی سمادھان ہے‘‘ اس نے کہا۔

’’وہ کیا‘‘ میں نے بے تابی سے پوچھا۔ وہ میری بے چینی پر مسکرا دی۔

’’پہلے تم کسی ناری سے اپنے شریر کا سمبندھ جوڑ لو اس کے بعد ہم ایک دوجے سے مل سکتے ہیں‘‘ اس نے حل بتایا جس سے پتا چلتا تھا ’’ہے دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘‘اگر میں اس کے تیر نظر کا شکار ہوا تھا تو وہ بھی میری دیوانی ہو چکی تھی۔

’’یہ توکوئی مسئلہ ہی ہیں میں صائمہ کو بلوا لیتا ہوں‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔

’’نہیں مہاراج! پتنی سنگ پریم کرنا تو پنے (ثواب) کا کام ہے۔ اس کارن تو تمہیں کسی ایسی کنیا کا پربند کرنا پڑے گا جس کے شریر کو پہلے کسی پرش(مرد) نے نہ چھوا ہو‘‘ اسنے کہا۔

’’یعنی کوئی کنواری لڑکی۔۔۔؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔‘‘

’’ایسی لڑکی کہاں سے ڈھونڈی جائے؟‘‘ میں نے کہا۔

’’ایسی کنیا ہے تو سہی۔۔۔‘‘ وہ کچھ دیر سوچ کر بولی۔

’’کون ؟‘‘ میں نے بے چینی سے پوچھا۔

’’اس کا شبھ نام سبین ہے‘‘ وہ شوخ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔

’’۔۔۔لیکن کیا وہ مان جائے گی؟‘‘

’’مہاراج تم اتنے سندر ہو کہ کوئی بھی کنیا تمرے کارن جیون دان کر سکتی ہے۔‘‘ اس نے بڑی اپنایت سے کہا۔ آنکھوں سے مستی جھانک رہی تھی۔

’’کیا اس سلسلے میں تم میری مدد کر سکتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں میں اسے یہاں تک لا سکتی ہوں پرنتو اس کے بعد سب کچھ تمہی کو کرنا ہوگا۔‘‘ اس نے بتایا۔

’’ٹھیک ہے تم اسے لے آؤ باقی میں دیکھ لوں گا‘‘ میں بسنتی کے قرب کے لئے پاگل ہو رہا تھا۔

’’مہاراج اب مجھے آگیا دو کہیں تمرے بیری کوئی وار نہ کر جائیں‘‘ اس نے اندیشہ ظاہر کیا۔

’’اس لڑکی سبین کو تم کس وقت میرے پاس لاؤ گی؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’کل دن کو کسی سمے۔‘‘

’’ٹھیک ہے تم جاؤ کل یہ کام ضرور کر لینا اب مجھ سے مزید صبر نہیں ہوتا۔‘‘میں نے اس کے پر شباب بدن کو دیکھتے ہوئے کہا۔ دوسرے ہی لمحے وہ غائب ہوگئی۔

میرا بس نہ چل رہا تھاکہ کس طرح رات گزر جائے اور میں سبین کو اپنے بیڈ روم میں لے آؤں۔ ساری رات میں جاگتا رہا۔ مجھے یقین تھا کہ سبین کو ایک اشارہ ہی کافی ہوگا کیونکہ اس کی آنکھوں میں میں اپنے لئے پسندیدگی دیکھ چکا تھا۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر59 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا


loading...