فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 180

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 180
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 180

  


خلیل قیصر نے دو دن بعد مخصوص انداز میں اپنے سر کے بالوں میں انگلیاں گھماتے ہوئے ہم سے کہا ’’یار آفاقی صاحب۔ کہانی تو اچھی ہے مگر یہ سوشل ٹائپ کی کہانی ہے۔ یہ میرا ٹائپ نہیں ہے۔ کوئی انقلابی موضوع ہوتو بتاؤ۔‘‘

لیجئے۔ ایک اور ہدایت کار نے اس کو مسترد کردیا۔

چوہدری محمد رفیع بمبئی سے آئے ہوئے ایک ہدایت کار تھے۔ تعلیم یافتہ اور نہایت شائستہ بزرگ تھے۔ وہ آج کی خاتون سیاسی رہنما مہناز رفیع کے والد تھے۔ اسی زمانے میں مہناز رفیع نے ایم، اے کرنے کے بعد ٹی وی ڈراموں میں کام کیا اور بہت داد سمیٹی تھی۔ چوہدری رفیع صاحب کو کسی نے ہدایت کار سائن کیا تو انہوں نے ہم سے فرمائش کی کہ ’’عورت‘‘ کے موضوع پر کوئی اچھی سی کہانی ان کیلئے لکھ دیں۔ ہم نے فوراً اپنا اسکرین پلے نکالااور جھاڑ پونچھ کر چوہدری صاحب کے حوالے کردیا۔ چوہدری رفیع نہایت وضع دار اور لحاظ والے انسان تھے۔ دو تین دن تو خاموشی رہی۔ پھر ایک روز ہم شاہ نو اسٹوڈیو گئے تو چوہدری صاحب نے بڑی لمبی تمہید باندھی۔ اس کا لب لباب یہ تھا کہ ہماری کہانی ’’عورت‘‘ کے موضوع سے انصاف نہیں کرتی۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 179 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

انہوں نے کہا ’’کوئی اوراچھی سی کہانی لکھ دیجئے نا۔‘‘

چوہدری صاحب اس زمانے میں شاہ نور اسٹوڈیو کے جنرل منیجر بھی تھے۔ ہم نے خاموشی سے اپنے کاغذات سنبھالے اور وعدہ کیا کہ ان کیلئے کوئی اور کہانی سوچیں گے۔

یہ اسکرین پلے ہم نے کچھ اور فلم سازوں کو بھی پڑھنے کیلئے دیا تھا اور اس کے متعلق اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کردیا تھا مگر کسی کو یہ کہانی پسند نہ آئی۔

اسی دوران میں حسن طارق صاحب کی فلم ’’شکوہ‘‘ ہٹ ہوگئی۔ اس فلم کا اسکرین پلے ہم نے لکھا تھا۔ مکالمے ساجھے کے تھے۔ یعنی ہم نے اور ریاض شاہد نے مل کر لکھے تھے۔

چند ماہ گزرنے کے بعد ہم نے ایک دن حسن طارق کو یاد دلایا کہ ہمارے پاس ایک کہانی رکھی ہوئی ہے۔ وہ اسے کیوں نہیں بنا لیتے۔

طارق صاحب نے وہ اسکرین پلے دوبارہ ہم سے لے لیا اور بہت غور سے پڑھنے کے بعد بولے ’’آفاقی صاحب، یہ کہانی ’’شکوہ‘‘ سے ملتی جلتی ہے۔ ابھی ہم نے’’شکوہ‘‘ بنائی ہے۔ دوبارہ اس قسم کی فلم بنانا مناسب نہ ہوگا۔ اور پھر یہ کہانی ’’شکوہ‘‘ کی کہانی کے مقابلے میں ہلکی ہے۔‘‘

اس روز ہم نے جی میں ٹھان لی تھی کہ اب ہم خود ہی اس کہانی کا مکمل اسکرپٹ لکھیں گے اور اسے خود ہی پروڈیوس کریں گے۔ چنانچہ ہم اس کہانی کا اسکرپٹ لکھنے میں مصروف ہوگئے۔ اس کے بعض حصے اس قدر جذباتی اور حسرت انگیز تھے کہ لکھتے لکھتے ہمارا دل بھر آتا تھا۔ سین لکھتے وقت اکثر ہم یوں محسوس کرتے ہیں جیسے کہ یہ منظر ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس لئے جذباتی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ماں ہمیشہ سے کمزور پہلوہے۔ اس کہانی میں ماں اور بیٹیوں کے سین لکھتے ہوئے بعض اوقات ہمارا جی بھر آتا تھا۔ ہماری آنکھوں سے آنسو تو بہت مشکل سے نکلتے ہیں مگر دل بھاری ہو جاتا ہے اور یہ غم و الم کا موڈ کئی گھنٹے تک طاری رہتا ہے۔ یہ کہانی لکھتے ہوئے بھی ہم اکثر ویسے ہی تجربات سے گزرے۔ ہلکے پھلکے مناظر ہمیں مسرور بھی کر دیتے تھے۔ لیکن المیہ مناظر کا اثر بہت دیر تک رہا کرتا تھا۔ اس طرح روتے ہنستے ہم نے یہ اسکرپٹ مکمل کیا۔ دوچار دن اس کو میز کی دراز میں رکھنے کے بعد دوبارہ اس کا مطالعہ کیا اور نظرثانی کی۔ بعض جگہ اضافہ کیا۔ کچھ حصے حذف کردیئے۔ دوبارہ اسکرپٹ پڑھتے ہوئے بھی ہم بعض اوقات بہت غمگین اور دکھی ہوگئے۔ غرضیکہ یہ ایک عجیب تجربہ تھا۔ ہمیں نہ کسی ہدایت کار کی رائے لینے کی ضرورت پیش آئی تھی اور نہ فلم ساز یا یونٹ کے دوسرے حضرات نے قیمتی مشوروں سے نوازا تھا۔ یہ خالصتاً ہمارا اپنا اسکرپٹ تھا۔ ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک، ہر طرح کے دباؤ سے آزاد۔

اسکرپٹ پر نظرثانی کرتے ہی ہم حسن طارق صاحب کے پاس جا دھمکے۔ طارق صاحب بہت عجیب و غریب شخصیت تھے۔ انتہائی سادہ اور صاف گو بلکہ منہ پھٹ۔ اپنی رائے کا اظہار کرنے پر آتے تو کسی کا لحاظ نہ کرتے تھے۔ بہت اعلیٰ پائے کے ہُنرمند تھے۔ کہانی، اسکرین پلے اور مکالموں کا انہیں بہت زیادہ شعور تھا۔ افسانوی اور شعری ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ ادیبوں، صحافیوں، شاعروں اور فن کاروں کی محفلوں میں نو عمری ہی سے بیٹھتے رہے تھے۔ فلم کا انہیں دیوانگی کی حد تک شوق تھا۔ بعد میں جب کامیاب ہدایت کار بن گئے تو فلم ہی انکا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اس کے سوا انہیں کسی اور چیز کا ہوش ہی نہ تھا۔ عمر بھر ان کی یہی عادت رہی۔ انہوں نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز فلم ’’مسکراہٹ‘‘ کا اسکرین پلے اور مکالمے لکھ کر کیا تھا۔ اس فلم کے ہدایت کار این ای اختر تھے۔ پھر وہ سیف الدین صاحب کی فلم ’’باپ کا گناہ‘‘ میں جعفر ملک صاحب کے اسسٹنٹ رہے۔ کہانی اور اسکرپٹ کے بارے میں ان کی رائے عموماً جامع اور صائب ہوتی تھی۔ لیکن ہر شخص کی ذاتی پسند اور ناپسند ہوتی ہے اور ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔ جن معدودے چند ہدایت کاروں کے بارے میں ہماری رائے ہے کہ انہیں کہانی اور مکالموں کا اچھا شعور ہے ان میں حسن طارق بھی شامل تھے۔ کبھی کبھی وہ کہانی پر بات چیت کے دوران میں روانی میں ایسے خوب صورت اور برمحل فقرے بول جاتے تھے جو ہم فوراً نوٹ کرلیا کرتے تھے اور انہیں کسی تبدیلی کے بغیر ہی اسکرپٹ میں شامل کرلیتے تھے۔

اس جان کاری کے پیش نظر جب وہ کسی کہانی کے بارے میں ہم سے اتفاق نہیں کرتے تھے تو ہم واقعی سوچ میں پڑ جاتے تھے۔ اگر ان کی رائے کو درست سمجھتے تو اپنا خیال بدل لیتے لیکن اگر اپنی رائے کی درستی پر بھروسا ہوتا تو اس پر قائم رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے دو تین بار ہماری مذکورہ کہانی کو فلمانے میں پس و پیش کیا تو ہمیں بہت غصّہ آیا اور مایوسی بھی ہوئی۔ مگر یہ کہانی ہمیں بے حد پسند تھی اور یقین تھا کہ اس پر ایک اچھی فلم بنائی جاسکتی ہے۔ اس لئے ہم نے بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔

اسکرپٹ مکمّال ہوا تو ہم اس وقت تک فلم کا کوئی نام تجویز نہیں کرسکے تھے۔ بعض کہانی نویس اسکرپٹ لکھنے سے پہلے ہی فلم کا اچھا سا نام تجویز کرلیتے ہیں۔ ہماری پرابلم یہ ہے کہ ہم کہانی مکمّل ہونے کے بعد بھی کوئی موزوں نام سوچنے میں کافی وقت لگا دیتے ہیں مگر طارق صاحب کو فلم کے موزوں اور خوب صورت نام فوراً سوجھتے تھے۔

طارق صاحب نے سویرے سویرے ہمیں اپنے گھر میں دیکھا تو مسکرائے۔ سمجھ گئے کہ کوئی خاص بات ضرورہے۔ وہ بھی جس روز علی الصبح ہمارے گھر آجاتے تھے تو ہم کو بھی یہی خیال گزرتا تھا کہ ہو نہ ہو کوئی خاص بات ضرور ہے اور اکثر ایسا ہی ہوتا بھی تھا۔

چائے کا دور چلنے کے بعد ہم نے اپنے اسکرپٹ کا لفافہ نکالا اور طارق صاحب کے سپرد کردیا۔

’’یہ کیا ہے آفاقی صاحب‘‘ انہوں نے پلندہ دیکھ کر پوچھا۔

ہم نے کہا ’’طارق صاحب۔ ہم نے اسی کہانی کا مکمل اور تفصیلی اسکرپٹ لکھا ہے۔ آپ اسے پڑھنے کے بعد اپنی رائے دیجئے۔ اسے ہم خود پروڈیوس کریں گے۔ آپ اتنا بتا دیں کہ کیا اس کی ڈائریکشن دیں گے؟‘‘

وہ مسکرائے ’’آپ بھی اس کہانی کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے‘‘

ہم نے کہا ’’اگر یہ اسکرپٹ بھی آپ کو پسند نہ آیا تو پھر ہم اس کہانی کو فراموش کر دیں گے۔‘‘

دوسرے دن ابھی ہم سوئے پڑے تھے کہ طارق صاحب کی کار کا ہارن گونجنے لگا۔ نوکر نے انہیں بٹھایا اور حسب معمول چائے پیش کردی مگر وہ بار بار کہہ رہے تھے ’’آفاقی صاحب کو جگا دو۔‘‘

ہم جھٹ پٹ منہ ہاتھ دھو کر پہنچے تو وہ صوفے پر نیم دراز سگریٹ پی رہے تھے۔ ہمیں دیکھا تو سنبھل کر بیٹھ گئے اور ایک شریر مسکراہٹ ان کے چہرے اور آنکھوں میں نمودار ہوئی۔ کہنے لگے’’آفاقی صاحب۔ یہ تو کلاس چیز ہے۔ بہت اچھی کہانی ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’ہم تو کب سے آپ سے کہہ رہے ہیں مگر آپ مانتے ہی نہیں۔‘‘

بولے ’’آپ کا خیال ٹھیک تھا۔ میں اسے اس قدر تفصیل کے ساتھ اپنے تخیل میں نہیں بسا سکا تھا۔ یہ تو واقعی بہت اچھی کہانی ہے۔ اسے فوراً شروع کردینا چاہئے۔‘‘

ان دنوں میں بھی وہ کافی مصروف ہدایت کار تھے۔ یہ 1963ء کی بات ہے۔ انہوں نے پوچھا ’’کیا آپ اسے خود پروڈیوس کرنا چاہتے ہیں؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘

’’بہت اچھی فلم بنے گی۔ شروع کب کر رہے ہیں؟‘‘

ہم نے کہا ’’ایک صاحب ہمارے ساتھ پارٹنر شپ کر رہے ہیں اور وہ چالیس ہزار روپیہ بھی لگائیں گے۔ کسی بات میں دخل نہیں دیں گے بلکہ وہ تو یہاں رہتے بھی نہیں ہیں۔ حیدر آباد میں ان کا پلاسٹک کا کارخانہ ہے۔‘‘

’’بس تو بسم اللہ کردیجئے۔‘‘ انہوں نے مضطرب ہو کر ایک نئی سگریٹ سلگائی’’اور ہاں۔ اس کا نام کیارکھا ہے؟‘‘

ہم نے کہا ’’نام تو ابھی سوچا ہی نہیں۔‘‘

کہنے لگے ’’مجبور‘‘ کیسا نام رہے گا؟‘‘

ہمیں یہ نام بہت پسند آیا۔ چنانچہ اس فلم کا نام ’’مجبور‘‘ منتخب کیا گیا۔

اگلے چند روز میں اداکاروں کے بارے میں غور و خوض شروع ہوگیا۔ طارق صاحب دو مرکزی کرداروں کیلئے کمال اور حبیب کے حق میں تھے ’’کنیز‘‘ کے مرکزی کردار کیلئے موزوں ترین اداکارہ صبیحہ خانم تھیں لیکن وہ اداکاری سے کنارہ کش ہو چکی تھیں۔ ہمارے سامنے دوسری چوائس یاسمین تھیں۔ فلم کے دوسرے کرداروں کیلئے بھی کچھ فن کاروں کا انتخاب کرلیا گیا اورہم نے اداکاروں سے مذاکرات بھی شروع کردیئے۔

کمال نے ہماری توقع سے کہیں زیادہ معاوضہ طلب کیا حالانکہ وہ ہمارے بچپن کے دوست تھے۔ ہم ہی نے انہیں فلمی دنیا میں متعارف کرایا تھا اور جب انہوں نے اپنی فلم ’’جوکر‘‘ کا اعلان کیا اور ہمیں رائٹر بننے کا شرف بخشا تو معاوضے کے بارے میں ہم سے کوئی بات ہی نہیں کی۔ نہ ہم نے کوئی سوال کیا۔ یہ فلم چار پانچ سال میں جا کر مکمل ہوئی اور ہم اسے حسب ضرورت تبدیل کرتے اور لکھتے رہے۔ پیسوں کا تذکرہ ہی درمیان میں نہ آیا۔ فلم کی ریلیز کے وقت انہوں نے ایک چیک ہماری جیب میں ڈال دیا اور کہا ’’سوفی۔ اسے معاوضہ مت سمجھنا۔ یہ بس ٹوکن ہے۔ یارمجھے اس فلم میں کافی نقصان ہوا ہے۔‘‘

حالانکہ ہم جانتے تھے کہ یہ درست نہیں ہے۔ مگر ہم نے کوئی عُذر نہیں کیا۔ ان کی فرمائش تھی کہ ان کی موجودگی میں ہم چیک کو بند ہی رہنے دیں۔ وہ چائے پی کر رخصت ہوگئے تو ہم نے بڑے اشتیاق سے چیک پر نظر ڈالی۔ یہ پانچ سو روپے کا چیک تھا جو ہماری کہانی نویسی کا کل معاوضہ تھا۔ اس وقت تک ہم کہانی نویس کی حیثیت سے پہچانے بھی جاتے تھے اور اس سے کہیں زیادہ معاوضہ لیا کرتے تھے۔ مگر ’’حساب دوستاں درددل‘‘ کے مطابق ہم نے پھر کبھی اس موضوع پر ان سے بات نہیں کی۔

اب ہم اپنی پہلی فلم کیلئے ان سے بات کر رہے تھے اور معاوضے کا فیصلہ پہلے ہی کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے بڑی بے تکلفی سے کہا ’’تمہیں تو پتا ہے کہ آج کل میں ’’اتنا‘‘ معاوضہ لیتا ہوں اور پانچ ہزار ایڈوانس ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’یہ بتاؤ کہ ہم سے کتنا معاوضہ لو گے؟‘‘

ہنس کر بولے ’’یار تم سے کوئی بزنس تو نہیں کروں گا۔ چلو تم پانچ سو کم دے دینا۔‘‘

ہم نے کہا ’’یار شرم کرو، یہ تو بہت زیادہ ہے۔‘‘

’’چلو پانچ سو اورکم کردو‘‘

ہم نے کہا ’’سوچیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم ایڈوانس نہیں دیں گے۔ تھوڑی رقم فلم بننے کے دوران میں دیں گے اور بیلنس ریلیز پر۔‘‘

وہ سر کھجانے لگے ’’یار میں ایسا کرتا تو نہیں ہوں اس لئے کہ پروڈیوسروں کا کوئی بھروسا نہیں ہے مگر تمہاری بات اور ہے۔ تمہارے ساتھ رعایت کردوں گا۔‘‘

ہم چلے آئے مگر ان کے اس کاروباری رویّے کا ہمیں بہت دکھ ہوا۔ کم از کم کمال سے ہمیں یہ امید نہ تھی۔ حبیب صاحب سے ہماری یاداللہ بہت پرانی تھی۔ جب لقمان صاحب نے اپنی تاریخی فلم ’’ایاز‘‘ کیلئے انہیں منتخب کیا تھا اس وقت سے ہماری ان سے ملاقات تھی۔ کافی میل جول تھا۔ ہم نے اخباروں میں انہیں پبلسٹی بھی دی تھی۔ بے شمار دن اور راتیں ہم نے ایک ساتھ گزاری تھیں۔(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 181 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...