وہ عرب ملک جس کے فوجی آج بھی بڑے شوق سے واقعی دشمنوں کے جسم سے خون نکال کر پیتے ہیں

وہ عرب ملک جس کے فوجی آج بھی بڑے شوق سے واقعی دشمنوں کے جسم سے خون نکال کر پیتے ...
وہ عرب ملک جس کے فوجی آج بھی بڑے شوق سے واقعی دشمنوں کے جسم سے خون نکال کر پیتے ہیں

  


بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک)شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجوﺅں کی وحشیانہ کارروائیوں کا ذکر تو آپ نے ضرور سنا ہوگا لیکن حیرت کی بات ہے کہ ان کے خلاف برسرپیکار کرد جنگجو بھی کچھ کم خوفناک نہیں ہیں۔ برطانیہ سے بھاگ کر داعش سے لڑنے کیلئے شام جانے والے ایک برطانوی فوجی نے کرد جنگجوﺅں کے بارے میں کچھ ایسے انکشافات کئے کہ جان کر عقل دنگ رہ جائے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ٹم ورڈز ورتھ کے سر پر داعش سے لڑنے کا جنون ایسا طاری ہوا کہ وہ کسی کو بتائے بغیر خاموشی سے شام فرار ہوگیا ۔ وہاں اس نے کرد ملیشیا ’پیپلزپروٹیکشن یونٹس آف سیرین کردستان‘ میں شمولیت اختیار کرلی۔ ٹم کا کہنا ہے کہ کرد جنگجو داعش کے جنگجوﺅں کو مارنے کے بعد ان کا خون پی جایا کرتے تھے، اور ان کے ساتھ ملکر وہ بھی یہ کام کرتا رہا۔

یہ تصویر یمن یا شام کی نہیں بلکہ سعودی عرب کی ہے، اس علاقے کی یہ حالت کیسے ہوگئی؟ حقیقت ایسی کہ پوری دنیا میں ہنگامہ برپاہوگیاکیونکہ۔۔۔

ٹم نے برطانیہ واپس پہنچنے کے بعد ایک انٹرویو میں بتایا کہ ”میں نے شام میں تباہی و بربادی کے ایسے مناظر دیکھے کہ جن سے جنگ عظیم اول کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔ میں نے میدان جنگ میں بکھری ہوئی بے گوروکفن لاشیں اور حتیٰ کہ گھروں کے اندر قتل کئے گئے افراد کی ہڈیوں کے پنجر دیکھے ہیں۔ میں نے وحشت کے ایسے مناظر پہلے کبھی نہیں دکھے تھے۔ داعش کے جنگجو کمسن یزیدی لڑکیوں کو اغوا کرتے تھے اور انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتے تھے۔ اگر کوئی لڑکی مزاحمت کرتی تو اس کے چہرے پر تیزاب ڈال دیا جاتا تھا یا اسے چھت پر لیجاکر نیچے پھینک دیا جاتا تھا۔ داعش کے ان مظالم کی وجہ سے ہی میں نے ان کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ میں نے داعش کے خلاف تقریباً سات ماہ تک لڑائی کی اور تقریباً تین ماہ تک قید میں بھی رہا۔مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ میں شام جیسے میدان جنگ سے زندہ سلامت برطانیہ واپس آنے میں کامیاب ہوگیا۔“

مزید : عرب دنیا


loading...