قیام پاکستان کے وقت حامد میر کے خاندان کے ساتھ کیا کیا گیا ؟جان کر آپ کا دل بھی پگھل جائے گا

قیام پاکستان کے وقت حامد میر کے خاندان کے ساتھ کیا کیا گیا ؟جان کر آپ کا دل ...
قیام پاکستان کے وقت حامد میر کے خاندان کے ساتھ کیا کیا گیا ؟جان کر آپ کا دل بھی پگھل جائے گا

  


اسلا م آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے قیام پاکستان کے وقت اپنے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا تھاکہ ہجرت کے دوران قافلے پر حملہ ہوا اور ان کی خالہ کو ہندﺅں اور سکھوں نے اغواءکر لیا تھا جن کا آج تک کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا ۔

نجی ٹی وی 92نیوز کے پروگرا میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے بتایا کہ ان کے نانا کا نام غلام احمد تھا وہ جموں میں مسلم لیگ کی کانفرنس میں بہت ایکٹو رہنما تھے اور وہ چوہدری غلام عباس کے بہت قریب تھے ،چوہدری غلام عباس کو قائداعظم نے یقین دلایا تھا کہ جموں پاکستان کا حصہ بنے گا اس لیے انہوں نے ہجرت نہیں کی ،ان کا خیال تھا کہ یہ علاقہ پاکستان میں ویسے ہی شامل ہو جائے گا ،لیکن اکتوبر اور نومبر میں حالات بہت زیادہ خراب ہو گئے تو انہیں ہجرت کرنا پڑی ،چوہدری غلام عباس کی بیٹی کو ہندﺅں نے اغواءکر لیا تھا اور میرے نانا ان کی بیٹی کی کھوج لگانے کیلئے ہر ممکن کو شش کر رہے تھے ،میرے نانا نے اس دوران نانانی اور میری خالہ کو قافلے کے ساتھ سیالکوٹ روانہ کر دیا ،لیکن ہندﺅں اور سکھوں نے قافلے پر حملہ کر دیا جس میں میری خالہ بھی زخمی ہوئی تاہم میری نانی نے انہیں لاشوں کے نیچے چھپا دیا ۔بعد میں جب میری خالہ نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی اور جنگل کی طرف بھاگیں تو انہیں ہندﺅں اور سکھوں نے اغواءکر لیا،میری والدہ ساری زندگی اپنی بہن کا پتہ چلانے کی کوشش کرتی رہیں لیکن ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا ۔ان کا کہناتھا کہ میرے دادا کا نام میر عبدالعزیز تھا وہ فارسی اور اردو کے شاعر تھے ،وہ مسلم لیگ کے جلسوں میں نظمیں بھی پڑھا کرتے تھے ۔

مزید : اسلام آباد


loading...