گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ پہلی قسط

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ پہلی قسط

  


پاکستان کو ناقابل تسخیر دفاع اور اقتصادی ترقی کا نسخہ فراہم کرنے والے ساتویں وزیر اعظم بیرسٹر ملک فیروز خان نون کی قومی خدمات جلیلہ سنہری حروف سے رقم کرنے کے قابل ہیں ۔ قوم انکی مقروض ہے مگر افسوس کہ یہ ان کا نام بھی بھول چکی ہے۔ یہی ملک فیروز خان نون تھے جنہوں نے بھارت اور دوسری دشمن قوتوں کوقانون اور خارجہ پالیسی سے مات دیکر گوادر کو سلطنت عمان سے خرید کر پاکستان کا حصہ بنادیا اور مسئلہ کشمیرکواقوام متحدہ میں لے جاکراستصواب رائے کا حق منظور کرالیاتھا۔وہ ایک سال(سولہ دسمبر 57 سے سات اکتوبر 58ء) تک پاکستان کے حکمران رہے ،اگر انہیں مہلت دی جاتی تو وہ کشمیر کو بھی جنگوں کے بغیر پاکستان کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے اور پاکستان کبھی ایسی ریشہ دوانیوں اور دہشت گردی کا نشانہ نہ بنتا جس نے استحکام و سلامتی کو داؤ پر لگا رکھا ہے بلکہ پاکستان خطے کا حکمران بن چکا ہوتا۔ملک فیروز خان نون قائد اعظم کے دست راست تھے،پنجاب کے وزیر اعلٰی اورمشرقی بنگال میں گورنر جنرل رہے۔قیام پاکستان سے پہلے برٹش گورنمنٹ میں بھی لوکل منسٹر اور انگلستان میں ہندوستان سفیرمقرر ہوئے ۔ملک فیروز خان نون کی حیات کے بعد بھی خاندان نون نے ملک کی سیاست میں کلیدیکردار جاری رکھا۔ انکی اہلیہ بیگم وقار النسا نون نے پاکستان میں تعلیمی انقلاب برپا کیا ،جبکہ ان کے صاحبزادے ملک نورحیات نون متعدد بار وفاقی وزیر بنے ،پوتے ملک عدنان حیات خان نون اور طحیہ عدنان نون موجودہ سیاست میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ملک فیروز خان نون نے اپنی ذاتی اور سیاسی جدوجہد کو اپنی آپ بیتی ’’ چشم دید ‘‘ میں قلمبند کیا تھا جو ایک تاریخی دستاویز کا درجہ رکھتی اور ادب کی چاشنی سے مرصّع ہے،اسے پڑھتے ہوئے قاری کئی زمانوں کی زندگی کا لمس محسوس کرتا ہے ۔ڈیلی پاکستان آن لائن اس بالغ النظر سیاستدان و حکمران کی آپ بیتی یہاں قسط وار شائع کررہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں 7مئی 1893ء کو صبح 4 بجے، موضع ہموکا میں پیدا ہوا۔ یہ گاؤں دریائے جہلم کے مغربی کنارے، خوشاب سے 20 میل اور ہمارے آبائی گاؤں نور پور نون سے ناک کی سیدھ میں 30 میل پر واقع ہے۔ میری والدہ کنبے کے رواج کے مطابق اپنے پہلوٹھی کے بچہ کی پیدائش کے سلسلے میں اپنی ماں کے یہاں ہموکاآگئی تھیں۔ اکثر رواجوں کی تہہ میں بڑے معقول اسباب ہوتے ہیں۔ اس قسم کے موقع پر نوعمر بیٹی کے پہلو میں ماں کی موجودگی بیٹی کے لئے حوصلہ اور اعتماد کا موجب ہوتی ہے۔ یہی صورت حال میری ماں کے ساتھ پیش آئی ہوگی۔ جن کی عمرمیری پیدائش کے وقت محض 16برس تھی۔

نومولود کے لئے ایک دینی تقریب یہ ہوتی ہے کہ مسجد کا امام فوراً موقع پر پہنچتا ہے اور اس کے کان میں اذان دیتا ہے۔بچے کا نام عام طور پر کنبہ کا سربراہ تجویز کرتا ہے۔ میرے معاملہ میں یہ گذرا کہ ملک حاکم خاں نے اپنے 8 سالہ فرزند ملک سردار خان سے پوچھ لیا کہ بچے کا نام کیا ہونا چاہیے، چونکہ ہمارے کنبہ کے ایک مہان راجہ فیروز خان جو احمد آباد بالمقابل بھیرہ کے رہنے والے تھے۔ حال ہی میں ملک حاکم خاں کے ہاں قیام کرچکے تھے، اور یہ نام ملک سردار خان کی زبان پر چڑھا ہوا تھا اس لئے باپ کے سوال کے جواب میں وہی نام بے اختیار اس کے منہ سے نکل گیا اور لوگوں نے بھی اسے پسند کیا۔ لہٰذا اسی دن سے میں فیروز خان بن گیا۔ اس کے بعد سے والدہ نے سعادت اور خوش بختی کے لئے فیرو زخان کے ساتھ محمد کا اضافہ کردیا۔

ان دنوں آمدورفت کیلئے محض گھوڑے اور اونٹ کی سواریاں میسر تھیں میرے بچپن کی بات ہے کہ بارہا میری والدہ نے اونٹ کی پشت پر بندھے ہوئے کجاوہ میں سفر کیا۔ کجاوہ لکڑی کا صندوق ہوتا تھا، جو اونٹ کے دونوں طرف لٹکتا رہتا تھا۔ خادمائیں بھی اونٹ پر ہی سفر کرتیں اور محافظ ساتھ ساتھ گھوڑوں پر سوار ہوکر چلتے تھے۔ ان دنوں گرمی کے موسم میں دن کی دھوپ اور تپش سے بچنے کیلئے بالعموم رات کے وقت سفر کیا جاتا تھا۔ ایک بار محافظوں میں سے ایک پرانے ملازم نے عقلمند بننے کی کوشش میں سفر کا آغاز آدھی رات کے وقت کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ راستے کا اندازہ ستاروں سے ہوتا رہے گا لیکن رات بھر سفر کرنے کے بعد جب صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ ہم قافلے والے اپنے گھر سے بمشکل دو میل دور خاردار جھاڑیوں کے جنگل میں چکرا لگائے چلے جارہے ہیں ۔ہم ابھی تک نورپر میں ہی تھے۔

دیہات کے سبھی اونچے گھرانوں میں پرانے معتمد ملازموں کی ایک کھیپ موجود رہتی تھی۔ یہ لوگ سفر میں عورتوں کی سواریوں کے ساتھ ساتھ رہتے تھے اور مالک کی عدم موجودگی میں ان کا ہر طرح خیال رکھتے تھے۔ عورتیں ان آدمیوں سے پردہ بھی نہیں کرتی تھیں۔

ہم لوگ نسلاً بھٹی راجپوت ہیں۔ ہمارے اجداد راجپوتانہ کے ہندو تھے اور 500برس قبل ترک وطن کرکے شمال میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ ان کا قبیلہ سفر کے دوران میں جب پاکپتن پہنچا، جو ستلج کے کنارے پر ایک قصبہ ہے، تو اس نے مشہور صوفی بزرگ حضرت بابا فریدؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ ہمارے اجداد یہاں سے شمال مغرب کی طرف روانہ ہوئے اور دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے درمیان عین ریگستان میں مٹھاٹوانہ کے مقام پر پڑاؤ ڈال دیا۔ ملکوں کا سردار اس جگہ اقامت اختیار کرنے کے بعد گویا آس پاس کے سارے علاقہ کا حکمران قرار پایا۔ 1800ء سے 1849ء تک کے درمیانی عرصے میں، جن دنوں سکھوں نے اس سرزمین پر حکومت کی اور بالآخر انگریزوں کے ہاتھوں شکست کھاگئے، مٹھا ٹوانہ کا ملک سردار ملک فتح خان ٹوانہ تھا۔ سکھ حکمران، دریائے جہلم کے مغربی علاقہ کو ملک سردار کے سپرد کردیتے تھے اور ملک اس علاقہ کی آبادیوں سے من مانے ٹیکس وصول کرنے کے بعد معمولی سی رقم لاہور میں سکھ دربار کو بھجوادیا کرتا تھا۔

یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ سکھ فوجوں نے دو بار مٹھا ٹوانہ پر حملہ کیا اور یہاں کی بستیوں کو آگ لگادی۔ ایسے موقعوں پر ملک سردار اپنے قبیلہ کو ساتھ لے کر ادھر اُدھر بھاگ جایا کرتے تھے اور تمام علاقہ خالی کردیا کرتے تھے۔

مجھے اپنے گاؤں کا ایک مزارع، محمد خان ڈھینگ اب تک یاد ہے۔ اس کے دادا نے ہمارے آبائی مکان کو حملہ آوروں کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا حالانکہ مکان خالی کردیا گیا تھا اور تمام عورتیں جان بچانے کے لئے ادھر اُدھر جاچکی تھیں لیکن سکھوں کو اس نے آگے بڑھنے سے روکا، باقاعدہ مقابلہ کیا اور مارا گیا۔

ایک زمانہ میں ملک فتح خاں ٹوانہ کے ذمہ لگان کی عدم ادائیگی کی بناء پر سکھ راجہ رنجیت سنگھ کے ساڑھے تین لاکھ روپے واجب الادا تھے۔ راجہ نے ملک فتح خاں ٹوانہ کو بلوا بھیجا اور لاہور کے قلعہ میں قید کردیا۔ ملک فتح خاں ٹوانہ جب اپنے گاؤں سے نکلے تھے تو ساڑھے تین لاکھ کی رقم، راجہ کو ادا کرنے کے لئے ان کے پاس موجود تھی لیکن وہ ر استے میں یہ رقم محتاجوں اور ناداروں کے درمیان تقسیم کرتے گئے اور جب لاہور پہنچے تو صرف پانچ ہزار روپے ان کے پاس رہ گئے تھے۔ ملک غلام محمد ٹوانہ ان کے شریک تھے اور خزانچی بھی۔ اس کے علاوہ وہ ٹوانوں کے دوسرے ایک اہم کنبہ کے سربراہ تھے۔ ملک فتح خاں ٹوانہ نے اپنے خزانچی سے جب ایک بار پھر اللہ کے نام پر پانچ سو روپوں کا مطالبہ کیا تو انہوں نے ملک صاحب کو خوب ڈانٹا، لیکن رقم دے دی۔ ٹوانوں کے تین گھرانے نہایت اہم تھے۔ تیسرے گھرانے کے سربراہ ملک اللہ داد تھے۔ جن کے بیٹے نواب خان کی شادی میرے والد کی سب سے بڑی بہن یعنی میری پھوپھی کے ساتھ ہوئی۔ نواب خان کے بھائی شیر خان نے میری چھوٹی پھوپھی کے ساتھ شادی کی۔ ملک فتح خاں اور رنجیت سنگھ میں خاصی دوستی تھی اور جب فتح خان کو لاہور کے قلعہ میں قید ہوئے دو دن گزرگئے تو رنجیت سنگھ نے اپنی بیوی سے کہا ’’جنداں! میں نے فتے کو قلعہ میں بند کرادیا ہے۔ اس کے لئے کھانا ہمارے باورچی خانہ سے جائے گا۔‘‘

جنداں نے پوچھا ’’لیکن وہ ہمارے روپے کیوں نہیں دیتا؟‘‘

’’یقیناًًاس نے ساری رقم خرچ کردی ہوگی، اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔‘‘

دو دن بعد رنجیت سنگھ نے پھر کہا ’’جنداں! میری طرح فتے کو بھی افیون کھانے کی عادت ہے۔ اس لئے فتے کو ہر روز ہمارے یہاں سے افیون بھی جائے گی اور یہ نہ بھول جانا کہ افیون کے ساتھ دودھ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔ دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر


loading...