ذاتی اناؤں کی قربانی دیں

ذاتی اناؤں کی قربانی دیں
ذاتی اناؤں کی قربانی دیں

  

پاکستان کو ایک نئے دور میں کیسے داخل کیا جا سکتا ہے؟۔۔۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ پاکستان عرصہ دراز سے گوناں گو مسائل میں گھرا ہوا ہے اور ہم ہر آنے والی حکومت( سول ہو یا فوجی) سے بے شمار توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔۔۔ یا پھر جسے دیکھو وہ اللہ کے حضور دعا مانگتا نظر آتا ہے کہ اے اللہ ہمارے اوپر رحم فرما، ہمیں مخلص اور باکردار حکمران عطا فرما، ہمارے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے، ہمارے تمام مسائل حل کر کے ہمیں ترقی کی راہ پر گامزن فرما۔ اب ایک بار پھر حکومت بدل رہی ہے اور ایک نئی سیاسی جماعت، جس سے ہماری بہت زیادہ توقعات ہیں، برسر اقتدار آنے کو ہے۔ تو ہماری باچھیں کان تک کھلی ہوئی ہیں۔ہم ایک دوسرے کو مبارک دے رہے ہیں کہ اب بن کے رہے گا نیا پاکستان، وہ بھی دو نہیں، بلکہ ایک پاکستان۔ ہمارا خیال ہے کہ بہت جلد ملک سے لاقانونیت، ناانصافی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ملک سے فقیروں اور گداگروں کا بھی خاتمہ ہوگا اور ہم اپنی زکوۃ اور خیرات درختوں کے ساتھ باندھنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ بظاہر ہمیں کوئی بندہ ایسا نہیں ملے گا۔ جو زکوٰۃکا حقدار ہوگا، ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی بدعنوان بندہ نہیں ملے گا۔ہماری عدالتوں کے جج واقعی خاموش ہو جائیں گے اور ان کے فیصلوں کی گونج مشرق و مغرب میں سنائی دے گی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ اور ہو بھی کیوں نہ ہم سب نے یہی دن دیکھنے کے لئے ہی تو شب و روز محنت کر کے اپنے اور عمران خان کے خوابوں کی تعبیر پائی ہے۔

مگر ایک بات سوچنے کی ہے کہ کیا یہ سب انتخابات جیت لینے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے یا اس کے لئے کئی اور دریا بھی عبور کرنے ہوں گے؟ یہ جان لینا چاہیے کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور جب تک فرد کا کردار مثالی نہیں ہو گا، معاشرہ کیوں کر مثالی ہوگا۔ ہمارے ملک میں اکثر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ لوگ اپنے حقوق کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں، لیکن اپنے فرائض ادا کرنے سے مکمل طور پر قاصر رہتے ہیں۔ معاشرے اور ملک کی مثال بھی ایک گھر یا دکان کی ہے،آپ جتنی توجہ اپنے گھر یا دکان کو دیں گے اتنے ہی نتائج بہتر آئیں گے۔ اسی طرح معاشرے میں بھی آپ جتنی توجہ دیں گے اور اپبے حصے کا کام کریں گے اتنا ہی معاشرہ بہتر نتائج دے گا۔ فرد پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا تو معاشرہ یا ریاست بعد میں ریٹرن دے گی۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ والدین اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اولاد بعد میں کچھ ہمارے لئے کرے گی یا نہیں۔ اسی طرح ہر فرد کو اپنے ملک کے لئے کچھ نہ کچھ بے لوث کرنا چاہیے۔ اگر ریاست فرد کو ٹیکس کے بینیفٹ نہیں دیتی تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہم ٹیکس دینا چھوڑ دیں، بلکہ اس حکومت اور انتظامیہ کو بدلنا چاہئے جو عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ کھا جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ معاشرے میں بہتری لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ اپنے رویوں کا جائزہ لے اور ان میں مثبت تبدیلی لائے۔ جب فرد یا افراد ذمہ دار ہوں گے۔ حق اور سچ پر عمل پیرا ہوں گے۔ تو پھر معاشرے میں خود بخود مثبت تبدیلی آجائے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جدید طریقوں سے عوام کی تربیت کرے، تمام اداروں کی نئے سرے سے تربیت کی جائے اور میڈیا اپنا حقیقی اور مثبت کردار ادا کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اداروں میں مداخلت بند کرے اور میرٹ کو ترجیح دی جائے۔ ہمارے بے شمار مسائل ایسے ہیں جن کا علاج ہم بغیر پیسے کے بھی کر سکتے ہیں۔ اس لئے وسائل کا رونا رونے کی بجائے ہمیں اپنی سوچ کوبدلنا ہوگا۔

ہم اپنی آزادی کے 72ویں برس میں داخل ہوگئے جا رہے ہیں، جس میں ہم تبدیل ہوتا پاکستان بھی دیکھ رہے ہیں۔ میں ذاتی طور پر کسی نئے پاکستان کی بات نہیں کرتا، ہمارا پاکستان ایک پاکستان ہے اور وہی پاکستان ہمیں اپنی جان سے پیارا ہے ہمیں کسی نئے پاکستان کی ضرورت نہیں، بلکہ نئے انسان کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے کردار کو مثبت کرنا ہے، ہمارے راہنماؤں کو تاریخ سے سبق سیکھنا ہے اور اپنی پہلی ترجیح پاکستان کو بنانا ہے۔ ہم ایک امید لئے نئے دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ سب نے قومی سوچ پیدا کرنی ہے۔ ہمارے سامنے ایک نئی حکومت بننے جا رہی ہے اور نئی اپوزیشن بھی۔ اب ان دونوں کے کردار پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان کو بھی ایک نئے اور روشن دور میں داخل کرتے ہیں یا اندھیروں میں دھکیل دیتے؟

اگر اپوزیشن جماعتوں نے نئی حکومت سے پرانے حساب کتاب چکانے کی ٹھانی۔تو پھر نئے پاکستان کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ سب کو اپنی مفاداتی سیاست سے نکل کر ملک کے لئے سیاست کرنا ہوگی، اور پاکستان کے ہر باسی کو پاکستان کو اپنی پہلی ترجیح بنانا ہوگا، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ خبروں کے مطابق اپوزیشن کی جماعتوں نے لنگوٹ کس لئے ہیں اور وہ پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے کے لئے تیار ہیں، لیکن ان سے اتنی گزارش ہے کہ پی ٹی آئی کو کڑا وقت دینے اور پی ٹی آئی سے حساب کتاب چکانے میں کہیں ملک کا نقصان نہ ہو جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان سے انتقام لینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں کام کرنے کا پورا پورا موقع دے کر اس امتحان میں ڈال دیا جائے کہ وہ پاکستان کو نئے دور میں داخل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟ اگر کامیاب ہو گئے تو ہم سب کا بھلا اور اگر خدا نخواستہ ناکام ہوئے تو اپوزیشن جماعتوں کا بھلا ہو جائے گا۔ اب یہ سب ہمارے راہنماؤں کی سوچ پر منحصر ہے کہ وہ کیا سوچتے ہیں ۔۔۔خدارا اپنی ذاتی اناوں کو قربان کریں اور قومی غیرت کا مظاہرہ کریں۔

مزید : رائے /کالم