کیا عمران خان کا جنون کام کرے گا ؟

کیا عمران خان کا جنون کام کرے گا ؟
کیا عمران خان کا جنون کام کرے گا ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان کے متوقع وزیر اعظم جناب عمران خان آنے والے ہفتہ کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے انہیں وزیر اعظم کے جلیل القدر عہدے کے لئے نامزد کیا ہے۔پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں مختلف طریقوں سے وزیر اعظم نامزد ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان کے اب تک کے وزرائے اعظم کی کل تعداد اٹھارہ ہے ۔ ان میں مرحومہ بے نظیر بھٹو کا دو بار اور نواز شریف کا تین بار وزیر اعظم ہونے کو شخصیات کے حوالے سے تعداد بتائی گئی ہے۔

لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، محمد علی آٖف بوگرہ، چودھری محمد علی، حسین شہید سہروردی، آئی آئی (ابراہیم اسماعیل ) چندریگر، فیروز خان نون، نور الامین ، ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو ( دو ادوار ) ، میاں محمد نواز شریف ( تین ادوار) میر ظفر اللہ خان جمالی، چوہدری شجاعت حسین، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی اب تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ تمام ہی وزیر اعظم غیر جمہوری طریقوں یا سیاسی سازشوں کے نتیجے میں اپنی اپنی مدت پوری کرنے سے قاصر رہے۔ ان کے علاوہ نگراں وزرائے اعظم بھی ہیں۔ عوام اپنے وزیر اعظم کی حکومت سے بہت ساری امیدیں اور توقعات باندھتے ہیں۔ عوام ان کی شکایات کی فوری داد رسی چاہتے ہیں۔ عوام فوری انصاف کی فراہمی کے ہمیشہ سے خواہش مند ہیں۔ عوام بہتر زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ عوام ترقی کے مواقع چاہتے ہیں۔ ماضی میں ہر وزیر اعظم نے اپنے اپنے مزاج، سوچ ، ترجیحات کے مطابق فیصلے کئے ۔ ان پر عمل در آمد کرایا۔ مجموعی طور پر عوام کی حالت بہتر نہ ہو سکی۔ نہ ہی فوری داد رسی کے اسباب پیدا ہوئے، نہ ہی بہتر زندگی گزارنے کے آثار پیدا ہو سکے اور ایک مخصوص طبقے کے علاوہ عام آدمی کو ترقی کے مواقع بھی نہیں میسر ہوئے۔

اس کالم میں پاکستان کے کچھ وزرائے اعظم کے بارے میں گفتگو کرنا تھی جو جگہ کی قلت کے باعث ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کی حصوصیات ، مزاج، ان کی ترجیحات، ان کے رویہ، ان کے ذاتی معامالات وغیرہ۔ سب ہی خوبیاں اور خامیاں تھیں۔ فرد کی خوبی اور خامی کے اثرات اور خمیازہ اس کی ذات کی حد تک محدود رہتا ہے لیکن سیاست دان اور خصوصاً سربراہ حکومت کی خوبیاں اور خامیاں ریاست پر اثر انداز ہوتی ہیں جن کے فوائد اور نقصانات قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ تاج دار عادل نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’’پوپ گریگوری اول نے 590ء میں سات خوفناک گناہوں کی فہرست جاری کی تھی،ان کا کہنا تھا انسان کو سات گناہ ہوس، بسیار خوری، لالچ، کاہلی، شدید غصہ، حسد اور تکبر ہلاک کر دیتے ہیں، انسان اگر ان سات گناہوں پر قابو پا لے تو یہ شان دار، بھرپور اور مطمئن زندگی گزارتا ہے، گاندھی جی نے پوپ گریگوری کے سات گناہوں کی فہرست سے متاثر ہو کر 1925ء میں سات سماجی گناہوں کی فہرست جاری کی، ان کا کہنا تھا، جب تک کوئی معاشرہ ان سات گناہوں پر قابو نہیں پاتا، وہ اس وقت تک معاشرہ نہیں بنتا۔ گاندھی جی کے بقول اصولوں کے بغیر سیاست گناہ ہے، کام کے بغیر دولت گناہ ہے، ضمیر کے بغیر خوشی گناہ ہے، کردار کے بغیر علم گناہ ہے، اخلاقیات کے بغیر تجارت گناہ ہے، انسانیت کے بغیر سائنس گناہ ہے اور قربانی کے بغیر عبادت گناہ ہے‘‘۔ پوپ گیری گوری اول کی فہرست کو سامنے رکھ کر دیکھیں کہ ہمارے وزرائے اعظم میں کیا کیا کمزوریاں تھیں۔ ان ہی کمزوریوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان مسائل کے ایسے انبار میں دھنسا ہوا ہے جو ہمالیہ سے کم نہیں ہیں۔ لیکن ہمالیہ کو بھی تو انسان ہی سر کرتے رہے ہیں۔ کوئی وزیر اعظم معاشی صورت حال پر قرضے لئے بغیر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے، اس ملک میں سماجی نظام اور جمہوریت کو مستحکم کر پائے۔ ان دونوں کاموں سے قبل وزیر اعظم کو ملک کے مقتدر اداروں کے درمیان ایسے روابط کی بنیاد ڈالنا ہوگا جو قدم قدم پر کچے دھاگے سے بندھے ہوئے محسوس نہ ہوا کریں۔

عمران خان کی ذات میں بھی خوبیاں اور خامیاں اور کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ ان کی اب تک کی زندگی ناکامیوں اور کامیابیوں سے عبارت ہے۔ ان کی بعض کامیابیاں ان کے جنون کی داستان ہیں اور اپنے مقصد سے انتہائی حد تک مخلص ہونے کا ثبوت بھی ہیں۔ لیکن اقتدار کی چکا چوند کردینے والی راہداریوں میں موجود روشنی آ نکھیں موند دیتی ہیں اور خوشامدیوں کا ایک ایسا ہالہ بن جاتا ہے جس سے محفوظ رہنے کے لئے انسان کو اپنے اندر کی قوت درکار ہوتی ہے۔ خواجہ ناظم الدین جیسا ایماندار، محمد علی آٖف بوگرہ جیسا اعلی تعلیم یافتہ منجھا ہوا سفارت کار،چودھری محمد علی جیسا محنتی ہوش مند شخص، حسین شہید سہروردی اور آئی آئی (ابراہیم اسماعیل) چندریگر جیسے قابل قانون دان ، فیروز خان نون جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور دور رس نگاہیں رکھنے والے جاگیردار، نور الامین ، ذوالفقار علی بھٹو جیسا زیرک سیاست داں، محمد خان جونیجو جیسا سادہ مزاج شخص ، بے نظیر بھٹو جیسی ذہین ، میاں محمد نواز شریف جیسا کامیاب سرمایہ دار، میر ظفر اللہ خان جمالی اور چوہدری شجاعت حسین جیسے کامیاب سیاست داں ، شوکت عزیز جیسا پیسہ جمع کرنے کا رسیا خوشامدی، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف جیسے حکم کے غلام اور شاہد خاقان عباسی جیسا تجارت پیشہ سیاست دان جیسے لوگ محفوظ نہیں رہ سکے۔

سب ہی سازشوں کے کسی نہ کسی طور شکار ہوئے۔ کسی کا دور بھی پاکستان کے عوام کے لئے سنہری دور قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ پوپ گریگوری اول کے بیان کردہ سات خوفناک گناہوں ، ہوس،بسیار خوری ،لالچ ،کاہلی ،شدید غصہ،حسد اورتکبر ہلاکت کا سبب بنتے ہیں ، انسان اگر ان سات گناہوں پر قابو پا لے تو یہ شان دار، بھرپور اور مطمئن زندگی گزار سکتا ہے۔ صاحبان اقتدار کے لئے بہت ضروری ہے کہ ان سے ہر حال اور قیمت پر پرہیز کریں لیکن پاکستانی سیاست دانوں نے اب تک تو ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ ’’ پاکستان کا مستقبل ‘‘ کے نام سے شہاب نامہ کا آخری باب ہے جس میں قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں ’’ ہمیں حب الوطنی کا جذبہ نہیں جنون درکار ہے۔ جذبہ تو محض ایک حنوط شدہ لاش کی مانند دل کے تابوت میں منجمد رہ سکتا ہے۔ جنون جوش جہاد اور شوق شہادت سے خون گر ماتا ہے۔ اسی میں پاکستان کی سلامتی کا راز پوشیدہ ہے۔

خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں

مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر

مزید : رائے /کالم