عمران خان کی خودنوشت (2)

عمران خان کی خودنوشت (2)
عمران خان کی خودنوشت (2)

  

میرے جیسے لوگ جو مغربی دنیا میں رہ رہے تھے، انہوں نے اسلام مخالف تعصبات کا وہ بوجھ سب سے زیادہ برداشت کیا جو اس کتاب کے ردعمل کے طور پر مسلمانوں پر وارد کیا گیا۔ ایسے میں ہمارے پاس صرف دوہی راستے کھلے تھے۔۔۔۔ یعنی یہاں سے بھاگ (Flee)جاؤ یا مقابلہ(Fight) کرو۔۔۔ چونکہ میں سخت طیش میں تھا کہ اسلام پر یہ حملے بِلا جواز اور مبنی برانصاف نہیں اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ بھاگوں گا نہیں۔۔۔ لڑوں گا۔ لیکن تب مجھے پتہ چلا کہ میں اس لڑائی کے لئے پوری طرح مسلح نہیں ہوں کیونکہ اسلام کے بارے میں میری معلومات بہت ناکافی تھیں۔ لہٰذا میں نے مطالعہ اور ریسرچ شروع کی۔۔۔ اور یہی وہ وقت تھا جو میرے خیالات و افکار کو مطلعِ انوار بناگیا۔۔۔۔ میں نے علی شریعتی، محمد اسد، علامہ اقبال اور گئی اٹین(Gai-Eaton) کا مطالعہ شروع کردیا اور علاوہ ازیں مطالعہء قرآن پر بھی بھرپور توجہ دی!

[گائی ایٹن1921ء میں سوئٹزر لینڈ میں پیدا ہوا اور89برس کی عمر پا کر2010ء میں برطانیہ میں فوت ہوا۔دوسری عالمی جنگ میں فوج جوائن کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ 1950ء میں لیکچرار بنا اور مصر میں ایک اخبار کی ادارت کی۔بعد ازاں1953ء میں سفارت کاری کی سروس جوائن کی۔ جمیکا، انڈیا اور گھانا میں سفارتی خدمات انجام دیں اور 1974ء میں انگلینڈ واپس لوٹا اور تین سال بعد 1977ء میں ریٹائر ہو گیا۔

1951ء میں اس نے اسلام قبول کیا اور آخر دم تک لندن کی مسجد میں اسلامک کلچرل سنٹر میں مذہبی مشیر کے فرائض انجام دیئے۔ کئی کتابوں کا مصنف تھا جن میں ’’اسلام اور تقدیر‘‘ 1994)ء (۔۔۔ یادِ خدا2000)ء ( ۔۔۔مذاہبِ عالم کا تقابلی مطالعہ2004)ء ( ۔۔۔ایک بڑا آغاز اور اسلام کا صراطِ مستقیم2009)ء ( اور میری سرگزشت وغیرہ بہت مشہور ہوئیں۔ اسلام کا زبردست حامی تھا اور اس کو وفات کے بعد لندن کے ’’اسلامک قبرستان‘‘ میں دفن کیا گیا۔اسلام لانے کے بعد اس کا نام ’’حسن عبدالحکیم‘‘ رکھا گیا۔مترجم]

میں کوشش کروں گا کہ نہائت اختصار سے آپ کو بتاؤں کہ میرے لئے ’’سچ کی دریافت‘‘ کا مطلب کیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ مومنوں سے قرآن کریم میں خطاب ہوتا ہے تو فرماتا ہے کہ: ’’ یہ کلام ان کے لئے ہے جو ایمان لاتے اور اچھے عمل کرتے ہیں‘‘۔۔۔۔ دوسرے لفظوں میں ہر مسلمان کو دو طرح کے فرائض انجام دینے پڑتے ہیں۔۔۔ ایک وہ جن کا تعلق اللہ کی ذات سے ہے اور دوسرا وہ کہ جن کا تعلق بنی نوع انسان سے ہے۔

اللہ پر ایمان لانے کا سب سے بڑا اثر جو مجھ پر ہوا وہ غیراللہ کے خوف کا کافور ہونا تھا۔ میں نے انسانوں کی طرف سے وارد ہونے والے ہر خوف سے نجات حاصل کرلی۔ قرآن ایک انسان کو دوسرے انسان کی غلامی سے اس وقت آزاد کردیتا ہے جب فرماتا ہے کہ زندگی اور موت اور عزت اور ذلت سب کی سب اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ چنانچہ ہمیں کسی بھی انسان کے آگے سر نہیں جھکانا چاہئے۔

علاوہ ازیں چونکہ یہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے جس میں رہ کر ہم اپنی دائمی قیام گاہ کی تیاری کرتے ہیں اس لئے میں نے اپنے اوپر جو خود ساختہ قدغنیں لگائی ہوئی تھیں، سب کی سب توڑ ڈالیں۔۔۔۔ مثلاً بڑھاپے کا احساس( یہ احساس مغرب میں اس قدر زیادہ ہے کہ وہاں پلاسٹک سرجن کروڑوں میں کھیلتے ہیں)۔۔۔ مادہ پرستی۔۔۔ اَنا۔۔۔ اور لوگوں کا خوف کہ وہ آپ کے بارے میں کیا کہیں گے وغیرہ وغیرہ۔یہ بات نوٹ کرنے کی ضرورت سب سے زیادہ ہے کہ انسان دنیاوی خواہشات کو یکسر ختم نہیں کرسکتا۔ لیکن بجائے اس کے وہ خواہشات آپ کو کنٹرول کریں، آپ ان پر کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں!۔

اسلام پر ایمان لانے کے اس دوسرے دور نے مجھے ایک بہتر انسان بنادیا۔ اپنے آپ کے لئے زندہ رہنے اور خود پرستی کی بجائے میرے اندر سے یہ احساس پھوٹا کہ ذاتِ باری تعالیٰ نے تو مجھ کو سب کچھ دے رکھا ہے ۔تو میں کیوں نہ اس کی عطاؤں کو ان لوگوں پر خرچ کروں جن کے پاس یہ نہیں ہیں یا ہیں تو بہت کم ہیں۔ میں نے ان کو یوں اختیار کیا کہ اسلام کی مبادیات پر عمل کرنا شروع کردیا اور کلاشنکوف لہرانے والے پاگلوں اور جنونیوں کاسا وتیرہ نہ اپنایا۔

میں ایک ایسا انسان بن گیا جو حلم و برداشت کا حوصلہ رکھتا ہے اور جو ان لوگوں کے لئے مہربان اور شفیق بن جاتا ہے جو کم مایہ اور کم ثروت مند ہوتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ میں اپنی کامیابیوں اور کامرانیوں کو اپنی محنت کا صلہ شمار کرتا میں نے ان کو خدا کی عطا سمجھا ہے اور اسی طرح غرور و تکبر کی بجائے عجز وانکساری اختیار کی!

اس کے علاوہ میں نے عوام کے ساتھ ’’بھورے صاحب‘‘ کا سا متکبرانہ رویہ بھی بالائے طاق رکھ کر ان سے مساوات کا سلوک روا رکھا اور ان کے ساتھ جو ناانصافیاں ہوئی تھیں اور ہمارے معاشرے میں غریب لوگوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جاتا تھا (اور کیا جاتا ہے) اس کے خلاف آواز اٹھائی۔

قرآن کہتا ہے:’’ظلم کرنا، قتل کرنے سے بھی بدتر ہے‘‘۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے اسلام کا صحیح مفہوم اب جاکر سمجھا ہے اور یہ جانا ہے کہ جب آپ اللہ کے حضور جھک جاتے ہیں تو آپ کا ضمیر مطمئن ہو جاتا ہے۔

دینِ اسلام کے طفیل میں نے اپنے اندر ایک نئی طاقت کا سراغ پایا ہے۔ اس سے پہلے مجھے ہرگز یہ اندازہ نہ تھا کہ میرے اندر اتنے سارے ممکنات کی قوت موجود ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں ہم ایک مخصوص برانڈ کے اسلام (Selective) کو اپنائے ہوئے ہیں۔ صرف زبانی کلامی خدا پر ایمان لانا اور چند ظواہر کی پابندی کرلینا ہی کافی نہیں، اس کے لئے ایک اچھا انسان بننا نہائت ضروری ہے۔ میں یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ مغرب میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جن میں پاکستان کی نسبت اسلام کی بہت سی خوبیاں پائی جاتی ہیں بالخصوص اس ذیل میں کہ وہ لوگ اپنے شہریوں کے حقوق کا ہم سے کہیں زیادہ بہتر تحفظ کرتے ہیں اور میں تو یہ تک کہوں گا کہ ان لوگوں کا نظامِ انصاف بھی ہم سے بہتر ہے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ جہاں تک میں جانتا ہوں ان معاشروں میں بہت سے ایسے لوگ بستے ہیں جو خدا کی بہترین مخلوق ہیں۔

لیکن جس چیز کو میں برا سمجھتا ہوں وہ ان کا وہ دہرا معیار ہے جس کا مظاہرہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی صورت میں تو کرتے ہیں یعنی اپنے شہریوں کے حقوق کا تو سب سے زیادہ خیال رکھتے ہیں لیکن دوسرے ممالک کے شہریوں کے بارے میں ان کا سلوک یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے سے ادنیٰ تر مخلوق تصور کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنی جوہری آلودہ کثافتوں کو تیسری دنیا کے ملکوں میں لا کر ذخیرہ کردینا، سگریٹوں کے وہ اشتہار چلانا جن کی اجازت ان کے اپنے ملک میں نہیں اور ان ادویات کو ہمارے ہاں فروخت کرنا جن کی فروخت ان کے مغرب میں ممنوع ہے۔

پاکستان کو آج جو مسائل درپیش ہیں ان میں ایک پرابلم درج بالا دو باہم متخالف گروپوں کی پولرائزیشن ہے۔ یعنی ایک طرف مغرب زدہ گروپ ہے جو اسلام کو مغرب کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور زیر بحث موضوع کا کوئی زیادہ ادراک نہیں رکھتا۔ یہ گروپ ان لوگوں کی بڑھ چڑھ کر مخالف کرتا ہے جو پاکستانی معاشرے میں اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں وہی اسلام رائج ہونا چاہئے جو مخصوص برانڈ کا اسلام (Selective Islam) ہے۔۔۔ اور دوسری طرف وہ گروپ ہے جو اسی قسم کے مغرب گزیدہ اسلام کے اشرافیہ کو ہم پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور اسلام کا دفاع کرنے کا دعویدار بنتا ہے۔اس کا رویہ تحمل اور بردباری سے عاری ہے،لیکن وہ گروپ اپنے آپ کو خود ساختہ قسم کا حق پرست گردانتا ہے،حالانکہ ان کا عمل اسلام کی روح کے لئے کراہت انگیز ہے۔

میرے خیال میں ان دونوں گروپوں میں مکالمہ ہونا چاہئے لیکن ایسا تبھی ممکن ہو گا جب اس گروپ پر کہ جس میں اس ملک کے غالب تعلیمی وسائل خرچ ہو رہے ہیں، اس کو اسلام کے درست اور صحیح مطالعے کا ادراک ہوگا۔

اگر کوئی شخص واقعی پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے یا صرف توحید پرست ہی رہنا چاہتا ہے تو یہ اس کی ذاتی چوائس ہے۔ قرآن کا حکم ہے کہ :’’دین میں کسی قسم کا کوئی جبر نہیں‘‘ تاہم ان حضرات کو اسلام کے ان ہتھیاروں سے ضرور لیس ہونا چاہئے جن سے وہ انتہا پسندی کے خلاف صف آرا ہو سکیں۔ صرف انتہا پسندوں سے زبانی کلامی نفرت کرنا مسئلے کا کوئی حل نہیں۔

قرآن مسلمانوں کو ’’امتِ وسطیٰ‘‘ قرار دیتا ہے اور انتہا پسندی کا قائل نہیں۔ ہمارے پیارے پیغمبرؐ کو بتایا گیا تھا کہ اس بات کی پروا نہ کریں کہ کوئی شخص حلقۂ اسلام میں داخل ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔یہ آپ کا کام نہیں۔۔۔چنانچہ اسلام میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ آپ زبردستی اپنی تجاویز اور رائے کسی دوسرے پر تھوپیں۔

علاوہ ازیں ہمیں دوسرے مذاہب کا احترام کرنے کا حکم ہے اور ساتھ ہی ان کے مقاماتِ مقدسہ اور ان کے رسولوں کی عزت کرنا بھی ہم پر لازم ہے۔یہ بات آپ کے نوٹ کرنے کی ہے کہ ملائشیا اور انڈونیشیا پر کسی مسلم فوج نے لشکر کشی نہیں کی تھی اور نہ کوئی اسلام کا مبلغ ان ممالک میں گیا تھا۔ان ممالک کے لوگ اپنی مرضی سے اُن مسلم عرب تاجروں اور سوداگروں کے حسنِ کردار کو دیکھ کر ایمان لائے جو وہاں آتے جاتے رہتے تھے۔ وہ ممالک آج اسلام کے بدترین مبلغ ہیں جو مخصوص برانڈ کے اسلام پر عمل پیرا ہیں اور بالخصوص جہاں مغرب کو وہاں کے لوگوں کے حقوق غصب کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو معاشرہ اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتا ہے اسے لامحالہ لبرل معاشرہ بننا پڑتا ہے جس میں کسی جبرو اکراہ کو دخل نہ ہو۔

اگر پاکستان کی مغرب زدہ کلاس اسلام کا مطالعہ شروع کر دے تو نہ صرف یہ کہ معاشرے سے شدت پسندی ختم ہو جائے گی بلکہ ان کو خودبخود احساس ہونے لگے گا کہ اسلام کتنا ترقی پسند مذہب ہے! پھر یہ بھی ہو گا کہ یہی لوگ مغرب کو اسلام کی حقیقی تعلیمات و اقدار سے آگاہ کر سکیں گے۔حال ہی میں پرنس چارلس(آف یوکے) نے تسلیم کیا کہ: ’’مغربی دنیا اسلام سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے‘‘۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ جب وہی گروپ کہ جس نے اسلام کی بہترین تعلیمات کو اجاگر کرنا ہے، وہ اپنی اقدار کو مغرب سے سیکھے!۔۔۔ اور یہی وجہ تھی کہ ہمارے پیغمبر حضرت محمدﷺ کو تمام دُنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا۔(ختم شد)

مزید : رائے /کالم