اپوزیشن اتحاد، پیپلزپارٹی سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کیساتھ ہاتھ کرگئی، وزیراعظم کیلئے ووٹ نہ دینے کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد، پیپلزپارٹی سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کیساتھ ہاتھ کرگئی، ...
اپوزیشن اتحاد، پیپلزپارٹی سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کیساتھ ہاتھ کرگئی، وزیراعظم کیلئے ووٹ نہ دینے کا فیصلہ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انتخابات کے بعد مبینہ دھاندلی کیخلاف ’ فری اینڈفیئرالیکشن کیلئے پاکستان اتحاد‘ کے نام سے پلیٹ کی دو جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی تھیں لیکن پیپلزپارٹی ووٹ دینے کے معاملے میں پیچھے ہٹ گئی اور ممکنہ طورپر یہ اتحادبھی پیپلزپارٹی کے مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کو وزارت عظمیٰ کے ووٹ نہ دینے کی وجہ سے ٹوٹتادکھائی دیتا ہے ۔

دی نیوز کے مطابق انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی ، ایم ایم اے ، اے این پی اور دیگر جماعتیں اکٹھی ہوئی تھیں اور کئی میٹگز کے بعد فیصلہ کیاگیا کہ وزیراعظم ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکرکیلئے مشترکہ امیدوار لایاجائے گا اور وزیراعظم کیلئے شہبازشریف ، سپیکر کیلئے خورشید شاہ اور ڈپٹی سپیکر کیلئے مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانااسدالرحمان کے نام پر اتفاق کیاگیا۔ ذرائع نے بتایاکہ حتیٰ کہ اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ کے وقت بھی پیپلزپارٹی کی شیریں رحمان نے ’مشترکہ اپوزیشن “Joint Opposition”کا لفظ لکھنے پراعتراض کیاتھا جس کی وجہ سے مسلم لیگ کے کئی حلقوں میں تشویش پیداہوئی ۔

رپورٹ کے مطابق جب یہ واضح ہوگیا کہ وفاق میں اپوزیشن اتحاد حکومت نہیں بناسکتا تو مسلم لیگ ن کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں فیصلہ کیاگیا کہ شہبازشریف کو عمران خان کیخلاف ہرانے کے لیے میدان میں نہیں لایاجاسکتا کیونکہ اس سے منفی تاثر جائے گا کیونکہ وہ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں گئے ہیں تاہم اپوزیشن اتحاد کیساتھ کیے گئے وعدوں پر پورا اتریں گے اور بعدمیں شہبازشریف کو امیدوار نامزد کردیاگیاتاہم کچھ معاملات پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان طے نہیں ہوسکے ۔ پیر کو پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کو آگاہ کیا کہ پارٹی میں اندرونی طورپر اختلاف ہے اور کچھ ایسی ہی وجوہات کی بناءپر شہبازشریف کو وزارت عظمیٰ کیلئے ووٹ دینے سے قاصر ہیں۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں کا خیال ہے کہ اپنی کمٹمنٹ سے پیپلزپارٹی کے پیچھے ہٹ جانے میں کئی عناصر کارفرما ہیں جن میں نیب انکوائریاں بھی شامل ہیں۔

مزید : قومی /الیکشن /قومی اسمبلی