اے پی ایم اے کے زیر اہتمام ملک بھر میں یوم اقلیت منایا گیا

اے پی ایم اے کے زیر اہتمام ملک بھر میں یوم اقلیت منایا گیا

لاہور (سٹی رپورٹر)آل پاکستان مینارٹیز الائنس (APMA)کے زیر اہتمام پورے ملک میں 11اگست کو "یوم اقلیت" منایا گیا۔اس سلسلے میں پریس کلب لاہور میں APMA کے زیر اہتمام "پاکستان میں اقلیتوں کے کرداراور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی "کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مقررین میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و ممتاز قانون دان چوہدری اعتراز احسن، AMPA کے چیئر مین ڈاکٹر پال بھٹی، AMPA کے وائس چیئر پرسن اور سابق ایم پی اے محترمہ نجمی سلیم، بشپ ڈاکٹر الیگز ینڈر جان ملک، فادر جیمز چنن، جاوید ولیم، ڈاکٹر سردار کلیان سنگھ کلیان، PPP جنوبی پنجاب کے رہنما عبدالقادر شاہین، ڈاکٹر منوہر چاند، سول سوسائٹی کے چیئر مین عبداللہ ملک ایڈووکیٹ، ڈائریکٹر انٹھ فیتھ ڈائیلاگ منہاج القرآن سہیل رضا، چوہدری عذرا شجاعت ایڈووکیٹ،نسیم شہباز سہوترا، چوہدری بشیر الدین، نوید واسطی، نعیم جان ودیگر شامل ہیں۔مقررین نے اپنے خطابات میں بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ کی قرارداد اور شملہ معاہدہ کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور عالمی براداری بھارت کو مجبور کرے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا فیصلہ فی الفو ر واپس لے اور نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو فوراً بند کرے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے۔مقررین نے مزید کہا کہ تمام اقلیتیں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت کرتی ہیں۔مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ 11اگست1947 کا قائد اعظم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی سے اپنے خطاب میں فرمایا تھا کہ ملک پاکستان میں اقلیت اور اکثریت کی کوئی تفریق نہیں ہوگی اور تمام شہری برابر ہونگے اور ان کو یکساں اور مساوی حقوق حاصل ہونگے لیکن افسوس کہ قائد اعظم کی وفات کے بعد آنے والے حکمرانوں نے اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی۔ اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا اورانہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا گیا۔مقررین نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز خصوصاً پاک فوج کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ اور دفاع وطن کے لیے تمام اقلیتیں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ اس موقع پر مختلف قراردادیں بھی منظور کی گئی۔جن میں کہا گیا کہ٭آئین سے غیر مسلموں سے متعلقہ تمام امتیازی شقیں فوری طورپر ختم کی جائیں جن میں غیر مسلموں پر صدر اور وزیر اعظم بننے پر پابندی بھی شامل ہے۔٭اقلیتوں کے خلاف قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ان میں ضروری ترامیم کی جائیں۔٭اقلیتی خواتین کی جبری تبدیلی مذہب یعنی Forced Conversion کے خلاف قانون سازی کی جائے۔٭قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کو موثر اور حقیقی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کا حق دیا جائے جس کے تحت اقلیتیں موجودہ مخلوط طرز انتخاب کے تحت جنرل نشستوں پر ووٹ کاسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی مخصوص نشستوں پر بھی اپنے نمائندے براہ راست اپنے ووٹ سے منتخب کرسکیں۔٭قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے کیونکہ 1973 کے بعد اگرچہ جنرل نشستوں اور خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے لیکن اقلیتوں کی نشستیں نہیں بڑھائی گئیں۔٭مسلم طلباء کی طرح مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے اقلیتی طلباء کو بھی20نمبر دئیے جائیں۔ مسلم طلباء کو حفظ قرآن پاک کے 20 اضافی نمبر دئیے جاتے ہیں لیکن اقلیتی طلباء کو ان نمبروں سے محروم رکھا جاتا ہے جس سے تعلیمی/پیشہ وارانہ اداروں میں اقلیتی طلباء کو داخلوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔٭وفاقی سطح پر وزار ت قومی ہم آہنگیNational Harmony کو فوری بحال کی جائے۔٭تقریب کے اختتام پر مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک قرار داد بھی منظور کی گئی اور ملک کی ترقی و سا  لمیت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

یوم اقلیت

مزید : صفحہ آخر