کشمیر کے معاملے پر دنیا کی بے حسی

کشمیر کے معاملے پر دنیا کی بے حسی

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارتی اقدامات کے خلاف جلد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کریں گے جس کی ذمے داری ہے کہ وہ خطے میں جنگ کے منڈلاتے ہوئے خطرات کو ٹالنے اور امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کردار ادا کرے اس وقت مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بین الاقوامی برادری کی بے حسی کا نتیجہ ہے اسی وجہ سے بھارت کو بے گناہ انسانوں پر مظالم ڈھانے کا حوصلہ ہوا، بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا اور مسلمانوں کی نسل کشی نہ صرف جنیوا کنونشن اور دوسرے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ خود سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق قرار دادوں سے بھی مکمل انحراف ہے۔

پاکستان بھی کئی بار اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کا اعلان کر چکا ہے اب صدر آزاد کشمیر نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا مسئلہ جلد سلامتی کونسل میں لے جایا جائیگا لیکن اس سلسلے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے اس پر وزارت خارجہ اور صدر آزاد کشمیر کو کچھ روشنی ڈالنی چاہئے۔ جتنی جلد ممکن ہو یہ مسئلہ سلامتی کونسل کے سامنے رکھ دینا چاہئے کیونکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل خود بھارت سے کہہ چکے ہیں کہ وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اقدام واپس لے اور اس تنازعہ کو شملہ معاہدے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کرے اس لئے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اب تک یہ مسئلہ کیوں سلامتی کونسل میں پیش نہیں کیا گیا اگرچہ نظر تو یہی آتا ہے کہ چین کے سوا کسی دوسرے مستقل رکن کی طرف سے پاکستان کو حمایت نہیں ملنے والی، روس نے بھی کہہ دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کا اقدام بھارتی آئین کے تحت کیا گیا پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات شملہ معاہدے اور اعلانِ لاہور کے مطابق حل کریں اور کشیدگی کو بڑھانے کی اجازت نہ دیں، امریکہ بھی پہلے ہی اس اقدام کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے چکا ہے، برطانیہ اور فرانس کا ردعمل بھی اگر روس کی طرح ہوا تو ایسی صورت میں سلامتی کونسل جا کر بھی کچھ حاصل ہوتا ہوا نظر تو نہیں آتا تاہم پھر بھی اگر معاملے کو عالمی ادارے میں لے کر جانا ہے تو تاخیر روا نہیں رکھی جانی چاہئے تاکہ پتہ چل سکے عالمی ادارہ اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے یا وہ بھی بڑی طاقتوں کی سیاست کا اسیر ہی بنا رہے گا۔

صدر سردار مسعود نے عالمی برادری کو بے حسی کا جو طعنہ دیا ہے وہ اپنی جگہ کتنا بھی جائز درست اور برمحل ہی کیوں نہ ہو ایسی طعنہ زنی سے دنیا کی برادری اپنے ملکوں کی سیاست کا رخ نہیں بدلتی، بلکہ اپنے اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر پالیسیاں بناتی ہے، اس سلسلے میں مسلم امہ کے بعض اہم ارکان کا کردار بھی چنداں قابل تعریف نہیں ہے بلکہ کئی اسلامی ملکوں نے تو بھارت کو او آئی سی کارکن بنانے کا بھی اعلان کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں یو اے ای پیش پیش ہے، جس نے اپنے ہاں خصوصی طور پر ہندو مندر بنانے بھی اجازت دی ہے، اس سے اتنا اندازہ تو بہرحال ہو جاتا ہے کہ یو اے ای کے بھارت سے جو خصوصی تعلقات ہیں وہ محض ولی عہد کی گاڑی ڈرائیو کرکے تبدیل نہیں کرائے جا سکتے یہی وجہ ہے کہ یو اے ای میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کو نہ صرف دعوت دی گئی بلکہ پاکستان کے احتجاج کو بھی کوئی اہمیت نہ دی گئی اور یو اے ای کے وزیر خارجہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن جلد آئیگا جب بھارت او آئی سی کا رکن ہو گا اب ایسی او آئی سی سے کوئی کیا امید رکھے، جو ابھی تک مسلم امہ کے دو اہم ارکان سعودی عرب اور ایران کے سفارتی تعلقات تک بحال نہیں کرا سکی، اس لئے جناب صدر آزاد کشمیر سے ہماری درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے زور بازو پر زیادہ بھروسہ کریں اور پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور کریں دنیا کی بے حسی کے تذکرے اس سلسلے میں کاربے کار ثابت ہوں گے۔دنیا ایسے طعنوں سے بے نیاز ہے اور ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ جن ملکوں کے بھارت کے ساتھ بلین ڈالرز کے مفادات وابستہ ہیں وہ سردار مسعود کے طعنے کے بعد اپنی پالیسی بدل لیں گے۔

امام کعبہ الشیخ محمد بن حسن آل شیخ نے اپنے خطبہ حج میں مسلمان امت سے کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اقتصادی اور سیاسی طور پر مضبوط کرے اور مسلمانوں فرقوں کو مٹا کر اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل کریں، اگر مسلمان امام کعبہ کے ان ارشادات پر عمل کر کے اپنی زندگیاں بدل سکیں اور اپنے اپنے ملکوں کی قیادتوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اسلامی تعلیمات کو اپنا کر اپنے اپنے ملکوں کو نہ صرف اقتصادی طور پر مضبوط کریں بلکہ سیاسی طور پر اتنا اعلیٰ و ارفع مقام حاصل کریں کہ غیر مسلم دنیا مسلمان ملکوں کی جانب میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے لیکن مقام افسوس ہے کہ اس کے برعکس مسلمان ملک نہ صرف باہمی طور پر تقسیم ہیں بلکہ پاکستان میں انتشار و افتراق کا جو عالم ہے اس کا اظہار کئی دن تک پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوتا رہا، یہ اجلاس بنیادی طور پر تو کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے بلایا گیا تھا لیکن کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی بجائے باہمی مناقشات کو ہوا دی گئی یہاں تک کہ ارکان چھوٹے چھوٹے الزامات اور اتہاماّت میں الجھے رہے، پرانی الزام تراشیاں بار باردہرائی گئیں اگر مشترکہ اجلاس کی ریکارڈ شدہ کارروائی دوبارہ سن کر اس میں سے وہ حصے نکالنے کی کوشش کی جائے جو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی سے متعلق تھے تو بڑی مایوسی ہو گی ایسے میں مسلمان امہ اور دوسرے ملکوں سے کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں،پاکستان کی حکومتی اور سیاسی قیادت نے محض یہی کافی سمجھ لیا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا پر مخالفین کو رگید کر وقت گزار لیا جائے، ایسے میں کشمیر کی کوئی زیادہ خدمات نہیں ہو سکتی، ضرورت تو یہ تھی کہ آزاد کشمیر کو اتنا مضبوط بنایا جاتا کہ یہ بوقت ضرورت اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی مدد کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا لیکن آزاد کشمیر کی حکومت بھی ہراہم موقع پر پاکستان کی جانب دیکھنے پر مجبور ہے اور خو دآزادی کے ساتھ کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ایسے میں دنیا کو اس کی بے حسی یاد تو کرائی جا سکتی ہے اس کے تعاون کی زیادہ امید نہیں رکھی جا سکتی۔

مزید : رائے /اداریہ