برسات،عید، قربانی کے مسائل اور گندگی!

برسات،عید، قربانی کے مسائل اور گندگی!

برسات کی دوسری بارش نے کراچی کی حالت کو مزید ابتر کر دیا اور برساتی پانی نے سیلاب کی سی کیفیت اختیار کر لی، عیدالاضحی کی آمد سے قبل پانی نے قربانی بھی مشکل بنا دی،اسی طرح لاہور، راولپنڈی اور پشاور میں بھی تیز بارش ہوئی۔کراچی میں سڑکیں، گلیاں اور بازار دریا بنے،گھروں میں پانی داخل ہوا تو ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی ایسی ہی صورتِ حال تھی،البتہ یہ فرق ضرور پڑا کہ لاہور سے پشاور تک چند گھنٹوں کے بعد برساتی پانی سڑکوں اور گلیوں سے نکل گیا،تاہم پارکوں اور گرین بیلٹوں کا بُرا حال ہے،پانی کھڑا ہونے کے باعث گھاس اور پودے نہیں رہے ہیں،لیکن کراچی میں تو عید کے دن تک سڑکوں اور بازاوں میں پانی موجود تھا،جس کے باعث جانور قربان کرنے میں مشکلات پیش آئیں،کراچی والوں کے لئے تو یہ بھی تجویز کیا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں قربانی تیسرے دن تک ملتوی کی جائے،لیکن شہریوں نے کان نہ دھرے اور پہلے دوسرے روز جس کو جہاں جگہ ملی اس نے وہاں قربانی کی اور آلائشیں لاپرواہی سے سڑکوں پر پھینک دیں،جانوروں کا خون برساتی پانی میں مل گیا اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس طرح کوئی وبائی مرض بھی پھوٹ سکتا ہے،(اللہ اپنا کرم کرے) جہاں تک تیز بارشوں کے باعث پانی جمع ہونے کا تعلق ہے تو ایسا کراچی سے پشاور تک ہوا،لیکن کراچی میں نکاسی آب کا نظام ضرورت کے مطابق نہ ہونے،برساتی نالوں میں گندگی کے باعث پانی کا اخراج رُک جانے اور جگہ جگہ گندگی کی وجہ سے حالت خراب ہوئی،اس پر طرہ یہ کہ باہمی اتفاق رائے سے کراچی میں صفائی مہم چلانے کی بجائے، اس اجتماعی مسئلہ پر بھی سیاست شروع ہوگئی اور وفاقی وزیر علی زیدی نے ایم کیو ایم اور میئر وسیم اختر کے ساتھ مل کر دو سے تین ہفتے میں کراچی میں صفائی درست کرنے کا اعلان کر دیا اور پیپلزپارٹی کی کارکردگی پر اعتراض کئے، حالانکہ ضروت تو اس امر کی ہے کہ سب لوگ جماعتی حیثیت سے بالاتر ہو کر اور ملکر یہ بیڑہ اٹھائیں تو صفائی ممکن ہو سکے،ورنہ اتنے بڑے شہر کو صاف کرنا ممکن نہیں جب عوام بھی تعاون نہ کر رہے ہوں۔ یہ تو پانی کا عالم ہے،لیکن گندگی اور غلاظت کا جو عالم ہے وہ کراچی میں خراب تر ہے تو دوسرے بڑے شہروں میں بھی خراب ہے،اس کی وجہ اگر وسائل اور مشینری کی کمی ہے تو عملے کی لاپرواہی اور کام چوری کا بھی دخل ہے، جبکہ شہری بھی تعاون نہیں کرتے،حالانکہ گندگی پھیلانے میں ان کا سو فیصد اور آلائش اور غلاظت کا عوامی مقامات پر پھینکنے میں 50فیصد حصہ ہے۔ قربانی کی آلائشیں محکموں کی مقررہ جگہوں تک لے جانے اور کنٹینرز میں پھینکنے سے گریز کرتے ہوئے سڑکوں، گلیوں اور سبزہ زاروں میں پھینک دیا جاتا ہے،جانور، گلیوں،بازاروں اور سڑکوں پر ذبح کئے جاتے اور پانی کو خون آلود کر کے ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔یوں شہریوں کا عدم تعاون اور خود غرضی بھی سبب ہے۔صفائی کمپنیوں کی طرف سے عہدہ برآ نہ ہونے اور آلائشیں بروقت نہ اٹھانے کی شکایات عام ہیں،تمام بڑے چھوٹے شہروں میں بدبو سے دماغ پھٹ رہے ہیں۔اس سلسلے میں جہاں محکموں کے اہلکاروں کی عدم توجگہی درست کرنے اور آلات و مشینری مزید فراہم کرنے کی ضرورت ہے،وہاں شہریوں کی تربیت اور تعاون بھی لازم ہے۔یہ بھی درست ہے کہ اس حوالے سے ان حضرات کو جرمانے بھی کئے جا سکتے ہیں،جو تعاون نہ کریں۔یہ کام کسی تعصب، سیاسی بالاتری اور ذاتی مفادات سے ہٹ کر مکمل تعاون ہی سے ممکن ہے کہ برسات اور عید تو ہر سال آئے گی۔

مزید : رائے /اداریہ