ایک عہد کی تکمیل کا دن!

ایک عہد کی تکمیل کا دن!
ایک عہد کی تکمیل کا دن!

  


امسال 14اگست کا تاریخی دن ایسے حالات میں آ رہا ہے کہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے کشمیر کو بھارت کی مستقل ریاست قرار دے دیا ہے، آرٹیکل370 اور 35اے کو ختم کر دیا گیا۔لداخ کو بھارتی وفاق کے زیر کنٹرول علاقہ قراردیا ہے۔بھارت کا یہ اقدام کشمیر پر بین الاقوامی معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی سرا سر نفی ہے،کشمیری قوم بھارت کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہے،جبکہ بھارت نے آٹھ لاکھ فوج کے ساتھ پوری وادی کو ایک بڑی جیل میں بدل دیا ہے۔ 5اگست سے جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ ہے، سوا کروڑ لوگوں کو ان کے گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔تمنائے آزادی اور جذبہ حریت کو بندوق و بارود سے نابود کرنا ممکن ہوتا تو تحریک آزادی کشمیر کب کی دم توڑ چکی ہوتی۔

بھارتی فوج کے بے پناہ انسانیت سوز مظالم کے سامنے کشمیری سرنگوں ہو جاتے،لیکن75سال گزر گئے، ایسا نہیں ہوا۔ عشاق آزادی قافلہ در قافلہ سوئے مقتل رواں دواں ہیں۔جانوں کا نقصان ہمیشہ تحریکوں کو سیراب کرتا ہے اوران کے لئے پیغام زندگی بنتا رہا ہے۔ بھارت نے کشمیر کی خصوصی صورتِ حال ختم کر کے اسے اپنا مستقل حصہ قرار دے دیا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں اور چین سمیت بہت سے ممالک نے اس اقدام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ موقع ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے لئے آگے بڑھے تاکہ خطے کو تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔ پاکستان نے اس بار اپنے یوم آزادی 14اگست کو کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر منانے اور قومی پرچم کے ساتھ کشمیر کا جھنڈا بھی لہرانے کا فیصلہ کیا ہے۔بھارت کے یوم آزادی کو جموں و کشمیر اور پاکستان سمیت پوری دُنیا میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔

قوم کو پاکستان کی اساس سے جوڑنا اور نئی نسل کو نظریہئ پاکستان سے روشناس کروانا دینی و سیاسی قیادت کی اولین ذمہ داری ہے۔ پاکستان مدینہ منورہ کے بعد کرہئ ارض پر اسلام کے آفاقی و غیر فانی نظریہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی پہلی مملکت ِ خدا داد ہے،پاکستان کا قیام بلاشبہ بیسویں صدی کا عظیم معجزہ ہے،اس عطیہء خداوندی کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔قومیں اپنے نظریات کی بنا پر زندہ رہتی ہیں،اپنے اسلاف کے طے کردہ نشانات منزل کو گم کر دینے اور اپنے نظریات کو فراموش کر بیٹھنے والوں کا وجود کائنات زیادہ دیر برداشت نہیں کرتی اور وہ حرف غلط کی طرح مٹا دیئے جاتے ہیں۔پاکستان اپنے نظریے کے بغیر ایسے ہی ہے،جیسے روح کے بغیر جسم!قومی سوچ اور حب الوطنی کے جذ بات کو پروان چڑھانے میں 14اگست کا دن بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ آئندہ نسلوں کو قیام پاکستان کے اعلیٰ و ارفع مقاصد سے روشناس کرنے اور مملکت ِ خداداد کو ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے خواب کو شرمندہئ تعبیر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دامے درمے سخنے تحریک پاکستان اور پاکستان کے حصول کے لئے دی گئی بے مثال قربانیوں کی یاد کو زندہ رکھیں۔

حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھا، بانی ئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے جس خواب کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے دن رات ایک کیا اور پھر برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں نے اپنا خون پیش کر کے جوزمین کا ٹکڑا حاصل کیا تھا، کیا یہ وہی پاکستان ہے!کیا یہ وہی پاک سرزمین ہے،جس کی سرحد پر پہنچتے ہی لٹے پٹے اور زخموں سے چور مہاجرین وارفتگی کے عالم میں زمین پر گر کر اسے چومتے اور اس کی مٹی کو مٹھیوں میں بھر کر اپنی آنکھوں سے لگاتے،اپنے معصوم بچوں کے نیزوں پر جھولتے لاشے اور اپنی عزتوں کو بچانے کے لئے دریاؤں اور کنوؤں میں چھلانگیں لگاتی بہنیں اور بیٹیاں اور اپنے نوجوان بیٹوں کے خاک اور خون میں تڑپتے لاشے دیکھنے کے بعد جن میں زندہ رہنے کی خواہش دم توڑ چکی تھی،اب انہیں زندگی پیاری لگ رہی تھی اور وہ بے ساختہ پکار اُٹھتے کہ ہم نے بہت کچھ کھو کر بھی سب کچھ پا لیا ہے،پاکستان مل گیا ہے تو ہمیں اب اپنے پیاروں کے بچھڑنے، گھروں کے اجڑنے اور بستیوں اور شہروں کے جلنے کا کوئی غم نہیں۔

پاکستان کے قیام کا مقصد محض ایک ریاست کے حصول تک محدود نہیں تھا، بلکہ بقول قائداعظمؒ ”ہمارے پیش نظر ایک ایسی آزاد اور خود مختارمملکت کا قیام ہے، جس میں مسلمان اپنے دین کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں“۔ بانی ئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنے قریبا ً114 خطابات اور تقریروں میں واشگاف الفاظ میں اس عزم کا اظہار کیا تھاکہ پاکستان کا آئین و دستور قرآن و سنت کے تابع ہو گا۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کا دستورکیسا ہو گا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمیں کسی نئے دستور اور آئین کی ضرورت نہیں، ہمارا دستور وہی ہے جو قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال قبل ہمیں عطا کر دیا تھا۔حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے فرمایا تھا کہ ہم پاکستان محض ایک خطہ زمین کے لئے نہیں،بلکہ اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر حاصل کرناچاہتے ہیں جہاں ہم اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں اور اسلام کو ایک نظام زندگی کے طور پر اپناسکیں۔ جب تک قوم بانی ئ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات پر عمل پیرا ہوکر علامہ اقبال ؒ کے خواب کی تعبیر حاصل نہیں کر لیتی، قیام پاکستان کا مقصد پورا نہیں ہو گا۔دستور پاکستان میں عوام کو بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور پسماندہ اور محروم طبقوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے،

عام آدمی کے جائز مفادات کا تحفظ،ہر شہری کی فلاح و بہبود اور ہر قسم کے استحصال کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ ریاست سے وفاداری کو بڑی اہمیت دی گئی ہے، مگر قیام پاکستان کے ساتھ ہی ملک پر انگریز کا پروردہ وہی جاگیر دار طبقہ اقتدار پر قابض ہو گیا،جس سے آزادی کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا اور اسلامیان برصغیر نے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی تھی۔ملکی اقتدار پر مسلط اشرافیہ عوام کو غلام اور اپنا خدمت گزار بنا کر رکھنا چاہتی ہے، اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے سیاسی وڈیرے اور جاگیر دار قانون کی حکمرانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ان کی سیاست کا مرکز و محورہی اپنی ذات کو ہر قسم کی قانونی پابندیوں سے آزاد رکھنا ہے۔ملک میں قانون کی بالادستی کا خواب اس وقت تک شرمندہئ تعبیر نہیں ہو سکتا،جب تک خود صاحب اقتدار طبقہ اس کی پابندی نہیں کرتا اور کوئی بھی ریاست اس وقت تک جمہوری کہلانے کی حق دار نہیں، جب تک کہ جمہور کی مرضی کو فائق نہیں سمجھا جاتا۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لئے ہمیں اس کے بنیادی مقاصد کو پیش نظر رکھنا ہو گا۔ پاکستان کی بنیاد لا الہ الا اللہ محمد رسولؐ اللہ ہے اور ملکی خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود اسی بنیاد سے وابستہ ہے۔

آج جب ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کا ایک سابق صدر اور دو وزرائے اعظم کرپشن کے الزامات میں نیب کی حراست میں ہیں۔تین بار وزیراعظم رہنے والا کرپشن کے جرم میں نااہل ہوچکا ہے،سیاسی پارٹیوں میں بڑے بڑے مجرموں نے پناہ لے رکھی ہے،سیاسی جماعتیں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں بن گئی ہیں،جس جمہور اور جمہوریت نے پاکستان بنایا تھا، وہ جمہوریت بچہ جمورا بن چکی ہے اور جمہورکی کوئی سننے والا نہیں۔آج کل ایک نیا بیانیہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ڈکٹیٹر شپ کے مقابلے میں سول بالادستی ناقابل ِ فہم ہے۔یہ بیانیہ وہ لوگ پیش کر رہے ہیں،جو خود ”اسٹیٹس کو“ کے ظلم و جبر پر مبنی نظام کی پیداوار ہیں۔مارشل لاء اور ڈکٹیٹر شپ نے ملک و قوم کے ستر سال ضائع کر دیئے ہیں،عوام کی حکمرانی کا خواب ابھی تک پورا نہیں ہوسکا اور آمریت کے سائے میں پلنے والی جمہوریت نے بھی ہمیشہ عوام کی امنگوں کا خون کیا ہے۔انتخابات کے ذریعے وجود میں آنے والی خاندانی اور موروثی سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت مسلط کی۔یہ سیاسی پارٹیاں نہیں،کلب ہیں، جہاں وڈیروں اور جاگیرداروں نے پناہ لے رکھی ہے۔ان لٹیروں نے عوامی اور قومی خدمت کی بجائے قومی وسائل لوٹ کر بیرون ملک بڑی بڑی جائیدادیں بنائیں۔

ملک سے کھربوں ڈالر لوٹ کر سوئس بینکوں میں منتقل دیئے گئے ہیں،ہم نے اس کرپشن کے خلاف پارلیمنٹ،عدالت عالیہ اور عوام میں آواز بلند کی اور سب کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک حکمرانی کرنے والوں کی اکثریت کرپشن اور لوٹ کھسوٹ میں ملوث پائی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان مکمل نہیں،ضرورت اِس امر کی ہے کہ تحریک پاکستان کی طرز پر قوم”تحریک تکمیل پاکستان“ کا آغازکرے، تاکہ نظریہء پاکستان اور آئین پاکستان کو سبو تاژ کرنے کی سازشوں کو ناکام بنا یا جا سکے۔ کسی بھی مملکت کے نظام کو چلانے کے لئے آئین کی بالادستی اور حکمرانی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک بین الاقوامی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان قانون کی عمل داری کے معاملہ میں 102 ممالک میں سے 98ویں نمبر پر ہے۔قانون کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے کرپشن،غربت، جہالت،عدم توازن اور انتہا پسندی جنم لیتی ہے اور احتساب کے بغیر قانون کی حکمرانی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ہمارے عوام کی اکثریت صرف اِس لئے اپنے حقوق سے محروم ہے کہ انہیں اپنے حقوق کا ادراک نہیں اور اقتدار پر مسلط جاگیر دار،وڈیر ے اور سرمایہ دار سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عوام کو جہالت کی تاریکیوں کا اسیراور قومیت،لسانیت اور مسلکوں کے تعصبات اُبھار کر تقسیم رکھنا چاہتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم