میرِ کاروانِ آزادی

میرِ کاروانِ آزادی
میرِ کاروانِ آزادی

  


رہبرِ قوم ترے عزمِ فروزاں پہ سلام

جس نے منحوس اندھیروں کا جگر چاک کیا

نہیں ملتی ترے اخلاصِ فراواں کی مثال

جس نے کی مردِ مسلماں کو نئی روح عطا

تو نے جو مشعلِ شب تاب ہمیں بخشی تھی

اپنا خوں دے کے بھی وہ ہم نے جلائے رکھی

آندھیاں اٹھیں، بپھرتے ہوئے طوفاں آئے

ہم نے لَو اس کی بہرحال بچائے رکھی

آج اس شمعِ جہاں تاب کی ضو کے آگے

بزمِ گیتی کی ہر اک جوت ہے شرمندہ سی

یہ شفق رنگ اُجالا ہے اُسی مشعل کا

تو نے تاریک فضاؤں میں جو روشن کی تھی

یہ اُجالا کہ جو ہے دیدہئ گیتی کا فروغ

تا ابد دیتا رہے گا یونہی منزل کا سراغ

چلتے جائیں گے ترے نقشِ قدم پر راہی

تا ابد جلتے رہیں گے تری یادوں کے چراغ

مزید : رائے /کالم