”معرکہ کشمیر“……چنار ہے لہو لہو، بہار ہے لہو لہو

”معرکہ کشمیر“……چنار ہے لہو لہو، بہار ہے لہو لہو
”معرکہ کشمیر“……چنار ہے لہو لہو، بہار ہے لہو لہو

  


اگلے روز میں نے کالم لکھنے کے لیے کاغذ قلم اٹھایا اور موضوع پرغور کر ہی رہا تھا کہ دروازے پر گھنٹی بجی، باہر گیا تو ایک کورئیر سروس کے کارندے کو موجود پایا، پیکٹ لے کر اندر آیا کھولا تو ایک کتاب برآمد ہوئی۔ عنوان ”معرکہ کشمیر“ تھا۔ دکھ، رنج و غم اور اداسی کا احساس جاگزیں ہوگیا جو کچھ کشمیر میں ہورہا ہے جو ظلم اور جور و ستم بھارتی حکومت نے معصوم کشمیریوں پر روا رکھے ہوئے ہیں و ہ تصور کے پردہ سکرین پر ایک ایک کرکے سامنے آنے لگے۔ جوانوں، کمزوروں، بوڑھوں،خواتین اور معصوم بچوں کا قتل عام، گھروں کو جلانے کے منظر اور اس پس منظر میں،مَیں نے ”معرکہ کشمیر“ کا مطالعہ شروع کر دیا۔ یہ کتاب جو 192صفحات پر مشتمل ہے اور کشمیر کے بارے میں نظموں اور غزلوں پر مشتمل ہے محترمہ شاہدہ لطیف کی تخلیق ہے، جو صدارتی اعزاز بر ائے حسن کارکردگی کی حامل ہیں اور راولپنڈی، اسلام آباد میں قیام پذیر ہیں۔آپ طویل عرصہ تک اوورسیز پاکستانیوں کا مجلہ بھی شائع کرتی رہی ہیں۔اب تک ان کے متعدد شاعری مجموعے منصہ شہود پر آچکے ہیں۔ کتاب ”معرکہ کشمیر“ کو ماورا پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے۔ کاغذ اور کتابت کی طرح طباعت بھی عمدہ ہے۔ محترمہ شاہدہ لطیف جو ایک پہلودار تخلیق کا رہیں اور خواتین کی بہبود اور بہتری کے لیے بھی ہمیشہ مستعد رہتی ہیں دنیا بھر میں جہاں بھی خواتین کا استحصال ہوتا ہے،اس کے خلاف اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتی ہیں۔ کشمیریوں سے دلی لگاؤ ہونے کے باعث ان کی تصنیف ”معرکہ کشمیر“ میں شامل 150سے زیادہ نظمیں اور غزلیں جن کا محور صرف کشمیر ہے۔ کتاب میں مختلف مشاہیر کی رائے بھی مرقوم ہے۔ڈاکٹر رشید نثار کہتے ہیں کہ شاہدہ لطیف کشمیر کی تاریخی تقدیر میں اپنے ذات کو شامل کرکے غلامی کے خلاف نوائے جہاد بلند کرتی ہیں وہ کہتی ہیں۔

آخری معرکہ ہے خون سے تحریر کرو

لوح تاریخ پہ کشمیر کو تصویر کرو

جمیل یوسف رقمطراز ہیں کہ ”معرکہ کشمیر“ پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ شاہدہ لطیف از سر تا پا سانحہ کشمیر کے غم و اندوہ میں مبتلا ہیں وہ کہتی ہیں۔

جب جب بھی گونج گولی کی سرحد کے پار تھی

سن سن کے اس طرف میرے اشکوں کی دھار تھی

”معرکہ کشمیر“ سے شاہدہ لطیف کا کچھ کلام حاضر ہے۔

جس کا رشتہ مرے اخلاص کی جاگیر سے ہے

وہ نہ پابند رسن ہے نہ ہی زنجیر سے ہے

آج بھی گر د سیاست میں نہیں چھپ سکتی

وہ محبت جو مجھے وادی کشمیر سے ہے

مظلوم کے سینے کی صدا اور ہی کچھ ہے

کشمیر کا اب کرب نوا اور ہی کچھ ہے

ظالم کو ابھی ہوش نہیں، سوچ لے انجام

اس خون کی تاثیر نوا اور ہی کچھ ہے

دیتے ہیں بہت مشورے ہر چند مسیحا

کشمیر، ترے غم کی دوا اور ہی کچھ ہے

؎چنار ہے لہو لہو، بہار ہے لہو لہو

ہیں ان گنت شہادتیں، پکار ہے لہو لہو

؎شکستہ خواب ہیں آنکھوں میں سب کی

عجب سا خوف ہے جو چھار ہا ہے

خبر کیا خاک امیر شہر کو ہے

امیر شہر تو سستا رہا ہے

؎دعائیں کرتا رہتا ہے دل دلگیر میرا

خدا آزاد کروا دے حسین کشمیر میرا

جہاں بھی پاؤں گی انسانیت کے دشمنوں کو

کماں اس رخ تنے گی اور کھنچے گا تیر میرا

آزاد ی کشمیر کے متوالوں کے جذبوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتی ہیں۔

کسی ستم کسی تلوار سے نہیں ڈرتے

یہ لوگ ظلم کی دیوار سے نہیں ڈرتے

اپنی ایک نظم میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی یوں کرتی ہیں

میرے کشمیر کے برادر یہ سمجھ

یہ فقط تیر ا نہیں میرا وطن جلتا ہے

اپنی ایک غزل میں کشمیر پر اپنے دکھ کا اظہار یوں کرتی ہیں

؎یہ کیسی آگ ہے ابر بہار جلتے ہیں

چراغ جلتے نہیں ہیں چنار جلتے ہیں

مقبوضہ کشمیر کی حالت زار پر کہتی ہیں۔

؎لمحے لمحے کی ہر آہٹ، کرچی کرچی ٹوٹ چکی تھی

آفت خوشیاں لوٹ چکی تھی، دریاؤں میں خون بھرا تھا

برف میں جیسے آگ لگی تھی، منظر منظر قہر پڑا تھا

نیلی جھیلوں میں آنسوں تھے، سانسوں میں بارود بھرا تھا

کچھ اور اشعار دیکھئے

؎ ہیں کسی معصوم کی میت پہ آہ و زاریاں

چیر دیتی ہیں سماعت ماؤں کی سسکاریاں

؎ آہنی ٹینکوں کے نیچے لاش اک کچلی ہوئی

اب تلک ہے ذہن سے تصویر وہ چپکی ہوئی

مقبوضہ کشمیر کی آزادی سے پر امید ہوکر کہتی ہیں

؎ کچھ کہنے کو سہنے کو ہوا بول رہی ہے

کشمیر کی وادی کی فضاء بول رہی ہے

ہر رات کے منظر میں سویرا بھی لکھا ہے

جگنو کے ترنم میں ضیاء بول رہی ہے

مزید : رائے /کالم