یومِ آزادی، نصرت پروردگار

یومِ آزادی، نصرت پروردگار
یومِ آزادی، نصرت پروردگار

  


آزادی ایک نعمت ہے، 14 اگست 1947ء وطنِ عزیز پاکستان کی آزادی کا پہلا دن تھا۔ پریشانیوں، الجھنوں اور مصیبتوں میں شب و روز جدوجہد کرنے والے ہی جانتے ہیں کہ کس طرح مملکت خداد داد وجود میں آئی۔ مسلمان معاشی، معاشرتی، ثقافتی، علمی، فکری اور مذہبی فرائض کی ادائیگی میں گھرے ہوئے تھے۔ برصغیر پاک و ہند میں ہندو اکثریت میں تھے، ان کے جورو ستم اور ظلم و استبداد نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ طویل مگر صبر آزما کاوشوں سے بالآخر یوم آزادی دیکھنا نصیب ہوا۔ ہر شعبہ زندگی سے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر آزادی کے لئے تگ و دو کی، علامہ محمد اقبالؒ شاعرِ مشرق نے مسلمان قوم کو خواب غفلت سے بیدار کیا۔ اپنی شاعری اور تقاریر سے جذبہء ملی اجاگر کیا۔

انہوں نے 1930ء میں الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں خطبہء صدارت دیتے ہوئے دو قومی نظریہ کی وضاحت کی۔ انہوں نے فرمایا: ”ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی، تہذیبی، ثقافتی، تمدنی، سماجی اور اقتصادی اختلافات اس قدر بنیادی ہیں کہ یہ کبھی دور نہیں ہو سکتے۔برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ مسلم اکثریت والے علاقوں کو ایک الگ اسلامی ریاست کی شکل دی جائے“۔ علامہ اقبالؒ نے دوسری گول میز کانفرنس منعقدہ لندن میں بھی مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کا کھل کر دفاع کیا۔ عظیم شاعر، خالقِ قومی ترانہ پاکستان ابوالاثر حفیظ جالندھری نے بھی جدوجہد آزادی مسلمانان برصغیر میں بھرپور حصہ ڈالا۔ انہوں نے ایک بار گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مجھے قائدِ اعظمؒ نے مئی 1947ء میں شملہ ایک بہت ہی ضروری خدمت کے لئے بھیجا تھا۔ مَیں شملے میں ہی تھا جب یوم آزادی کا سورج طلوع ہوا، وہیں مسلمانوں کے جلسے میں ”نصرت پروردگار آہی گئی“ کے عنوان سے نظم سنائی جس کے تین مصرعے یہ ہیں:

آسماں سے نصرت پروردگار آہی گئی

گلشنِ اسلام میں تازہ بہار آ ہی گئی

دستِ ملت میں زمام اختیار آ ہی گئی

شملہ ہی میں یوم آزادی پر نئے دور میں ایک اور نظم بھی مَیں نے لکھی تھی جو 3 اگست کو دہلی جا کر قائد اعظمؒ، لیاقت علی خاں اور زاہد حسین کی موجودگی میں سنائی۔ قائد اعظمؒ نے پسند فرمائی، 8 اگست کو آل انڈیا ریڈیو سٹیشن سے قائد اعظمؒ کی ریکارڈ کردہ تقریر کے بعد میری یہ نظم پہلی نظم تھی جو پاکستان کی تشکیل کے سلسلے میں گونجی اور ”نوائے وقت“ نے اس کو شائع کیا۔ جسٹس (ر) ایس اے رحمان مشرقی پاکستان باؤنڈری کمیشن کے ممبر تھے انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں فرمایا: ”مجھے باؤنڈری کمیشن کا ممبر بنایا گیا تو حضرت قائد اعظمؒ نے ہمیں پہلے ہی سے ہدایت کر دی تھی کہ جو فیصلے ریڈ کلف دیں گے منظور کر لیا جائے۔ مسلم لیگ اور کانگرس کے نمائندوں میں اتفاقِ رائے کبھی نہیں ہو سکتا تھا“……ریڈ کلف کو اختیار حاصل تھا کہ وہ حتمی فیصلہ صادر کرے۔

11 اگست کو جسٹس محمد اکرم اور مَیں نے ان پر نقشوں کی مدد سے واضح کیا کہ سلہٹ کا سارا علاقہ پاکستان میں شامل ہونا چاہئے۔ ہندو اکثریت کے تین تھانے جو مشرقی بنگال سے ملحق تھے، بحث میں طے پایا کہ وہ جغرافیائی جبر کی وجہ سے پاکستان کو ملنے چاہئیں، کیونکہ وہ کاملاً مسلمان اکثریت کے علاقوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ سلہٹ کے مشرق میں کاچار کے علاقے میں بھی مسلم اکثریت تھی۔ ریڈ کلف نے مکمل یقین دلایا تھا کہ یہ تمام علاقے پاکستان کو ملیں گے، لیکن اعلان ایوارڈ کے بعد تعجب کی انتہا نہ رہی جب ہمارا حق ہمیں نہ دیا گیا، کیونکہ ریڈ کلف نے دیانتداری سے کام نہیں لیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کون سے عوامل ریڈ کلف پر اثر انداز ہوئے۔ کسی زبردست اثر کے ماتحت ہی ان میں تبدیلی آئی تھی۔بے انصافی کے باوجود قائد اعظمؒ نے ثالثی فیصلے کو اس لئے قبول کیا کہ انہیں اپنے عہد کا مومنانہ پاس تھا۔ پھر حالات ایسے تھے کہ جو کچھ مل گیا، اسی پر قناعت ضروری تھی، ورنہ سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہتا۔ اسی لئے 3 جون کے منصوبے کا اعلان سن کر ہم شاداں اور فرحاں تھے کہ ہماری محنت ٹھکانے لگی۔

بے شمار حوالہ جات اور واقعات ہیں جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان حاصل کرنے کے لئے کتنی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ کیسی کیسی ہستیوں نے دن رات ایک کر دیا۔ صبح سے شام اور شام سے صبح ہوتی گئی، عالی دماغ چراغ سے چراغ روشن کرتے رہے اور آزادی کا قافلہ رواں دواں رہا اور بالآخر 14 اگست 1947ء کو آزادی کا سورج طلوع ہوا جس کی روشنی اس پر بھی پڑی جس نے کچھ نہیں کیا یا مخالفت کی۔ یہ خدا کی منشا تھی جو سب پر رحمت بن کر برسی۔ ہمیں آزادی کی اس نعمت کا پاس رکھنا ہے، بچوں اور نوجوانوں کو بتانا ہے کہ آزادی کِس قیمت پر حاصل کی جاتی ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں جس ظلم و استبداد کی انتہا ہو گئی ہے کیا فی زمانہ سائنسی، فکری اور تہذیبی گراوٹ کا شکار نہیں، قومیں پنپنے کے بجائے وحشیوں کے ہتھے چڑھی ہوئی ہیں۔ یہ ظلم و ستم مسلمانوں پر ہی کیوں ہو رہا ہے اور پھر وہ مسلمان جو نہتے اپنے علاقے میں آزادی کے خواہاں ہیں؟

مردوں کے شانہ بشانہ خواتین نے بھی ظلم و جبر، زندگی کی تمام تر ناہمواریوں اور تکلیفوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔قائد اعظمؒ کی ہمشیرہ، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے کمال ہمتی سے آزادی کے لئے قائد اعظمؒ کا ساتھ نبھایا۔ برصغیر کے طول و عرض میں طوفانی دورے کئے۔ خواتین کی ہمت بندھائی، کمیٹیاں تشکیل دیں اور جگہ جگہ خطاب کیا۔ محترمہ فاطمہ جناح قائد اعظمؒ کی طرح بے حد قابلِ احترام تھیں، مرد و خواتین، نوجوان اور بزرگ سب ان کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے۔ محترمہ فاطمہ جناح نے پنجاب کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور، راولپنڈی، جالندھر، ہوشیار پور، انبالہ اور لدھیانہ میں مسلمان خواتین کے ساتھ رابطے کے لئے ان پر آزادی کی حقیقتوں کو اجاگر کیا۔ خواتین کی سماجی اور سیاسی تربیت کی۔ ان کی اپنی شخصیت ہی ایسی تھی کہ دیکھنے اور ملنے والا خود ہی اپنے آپ کو اخلاقی، اسلامی اور تمدنی بہتری میں ڈھال لیتا تھا۔ عظیم سیاستدان بھی ان کا بے حد احترام کرتے تھے اور بہت زیادہ متاثر تھے کہ اس قابل زیرک اور معاملہ فہم خاتون کی عظمتوں کو سلام پیش کرتے تھے۔

قائد اعظمؒ کے اس جہان فانی سے چلے جانے کے بعد بھی محترمہ فاطمہ جناح سچائی سے جمہوریت نوازی پر کار بند رہیں آخر 9 جولائی 1967ء کو رحلت فرما گئیں۔ پاکستان کا بننا ایک خواب تھا۔ انسانیت کی امنگوں کا خواب، اپنے خواب پورے کرنے کا خواب، مکمل خوشحال پاکستان بنانے کا خواب، وہ وطن جس میں آزادی ہو، خوف اور ڈر کے بغیر شہری حقوق ملیں، یہاں کے شہری کسی جبر کے تحت زندگی نہ گزاریں، بلکہ ایک مثالی ریاست کے قیام کا خواب پورا کریں۔ آزادی کی جدوجہد کرتے وقت ہر ایک کے دل و دماغ میں یہ سمایا ہوا تھا کہ مسلمانوں کا ایک ایسا ملک بننے جا رہا ہے جہاں انصاف ملے گا، رہنے کو گھر، پہننے کو لباس اور کھانے کو خوراک جو انسان کی بنیادی ضرورتیں اور حقوق سب کو ملیں گے۔ اقلیتوں کا خیال رکھا جائے گا تعلیمی، علمی اور فکری میدان میں ہم ترقی کریں گے۔

ہر سال یوم آزادی منایا جاتا ہے، تقریریں ہوتی ہیں، ملی نغمے، قومی ترانہ سنا جاتا ہے۔ جلوس نکالے جاتے ہیں، اجلاس منعقد ہوتے ہیں، لیکن اس بات کا جائزہ نہیں لیا جاتا، جن مقاصد کی تکمیل کے لئے پاکستان حاصل کیا گیا ہے،وہ کتنے پورے ہوئے ہیں۔ کیا نوجوانوں کو آزادی کے حقائق بتا دیئے گئے، انہیں احساس ہے کہ وہ مستقبل میں اس وطن عزیز کو سنبھالنے سے قابل ہو جائیں گے۔ کیا انہیں یہ احساس ہے کہ اگر ہمیں آزادی نہ ملتی تو ہم آج بھی غلام ہی ہوتے۔احسانِ ذمہ داری اجاگر ہونا چاہئے کیونکہ اخلاقی بصیرت آزادی سے جنم لیتی ہے۔ آزادی انسان کی صلاحیتوں کو جِلا بخشی ہے۔ غلامی کے اندھیرے انسانوں کو ابھرنے اور نکھرنے نہیں دیتے۔ آزادی کے ماحول میں بستے ہوئے واضح خصوصیات ہی بہتر سیرت و کردار کا حصہ بنتی ہیں۔

غلاموں کی اخلاقی بصیرت پر کسی قسم کا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ان کے فیصلے اور ان کی باتیں با اعتماد اور دور اندیش بصیرت والی نہیں ہو سکتیں۔ بہترین اقدار کی نشوونما بھی آزادی ہی سے ممکن ہے۔ 14 اگست تجدید عہد کا دن ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں، قابلیتوں اور اہلیتوں کا بھرپور استعمال کریں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی ہر ممکن مدد کریں کہ وہ بھی آزادی کی نعمت سے مالا مال ہو سکیں۔ اللہ پر بھروسہ ہے اور امید واثق ہے، ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والے کشمیری ایک روز ضرور، آزاد ہوں گے۔ یہ نصرتِ پروردگار ان شاء اللہ کشمیری بھائیوں تک بھی پہنچے گی اور وادی کشمیر آزاد ہو گی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ہمیں ایک اور یوم آزادی نصیب ہوا ہے:

نہیں ہے نا امید اقبالؒ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

مزید : رائے /کالم