لہو لہو کشمیر،کب جاگے گا دُنیا کا ضمیر؟

لہو لہو کشمیر،کب جاگے گا دُنیا کا ضمیر؟
لہو لہو کشمیر،کب جاگے گا دُنیا کا ضمیر؟

  


دُنیا کے کونے کونے میں نماز عیدالاضحی کے بڑے بڑے اجتماعات ہوئے، سوائے مقبوضہ جموں و کشمیر کے، یہ جدید انسانی تاریخ کا غالباً سب سے بدنما،ظالمانہ اور بزدلانہ واقعہ ہے کہ آپ لوگوں سے اتنے خوفزدہ ہو جائیں کہ انہیں نمازِ عید کے لئے بھی اکٹھے ہونے کی اجازت نہ دیں۔اِس وقت بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو بدترین مظالم ڈھا رہا ہے،اُس کی برصغیر کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، عورتوں اور بچوں کو بطور خاص نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کشمیریوں کے جذبہ ئ مزاحمت و حریت کو کمزور کیا جائے۔لگتا ہے نریندر مودی اور اُن کے ساتھی بالکل ہی ذہنی دیوالیہ پن کا شکار ہو گئے ہیں،جنہیں یہ سمجھ بوجھ بھی نہیں رہی کہ72برسوں سے چلنے والی آزادی کی تحریک کو اس قسم کے اقدامات سے کیسے دبایا جا سکتا ہے؟اِن ہتھکنڈوں سے اگر کشمیری عوام خوفزدہ ہونے والے ہوتے تو کب کی یہ تحریک آزادی ختم ہو چکی ہوتی،کیونکہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تو ہندو سرکار نے کئی دہائیوں سے جاری رکھا ہوا ہے۔ ایک کروڑ بیس لاکھ کشمیریوں کو بھارت کب تک کرفیو کے ذریعے محبوس رکھ سکتا ہے۔اگر عالمی برادری مصلحتوں کی شکار ہو کر کشمیریوں کی مدد کو نہیں آتی، تب بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بزورِ طاقت قابو میں رکھنا آسان کام نہیں،خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے کشمیرکی آزادی کے لئے جانیں قربان ہوتی دیکھی ہیں،جن کا بچہ بچہ کشمیر بنے گا، پاکستان کا نعرہ سُن کر جوان ہوتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں عوام کرفیو کی پابندی کئی بار توڑ چکے ہیں،اس کے جواب میں بھارتی افواج نے اندھا دھند گولیاں چلائی ہیں اور کئی کشمیری اس جارحیت کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست کہا ہے کہ کشمیریوں کو گھروں میں محبوس رکھنے کی بھارتی حکمت ِ عملی کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے، ایک دو علاقوں میں تو کرفیو لگ سکتا ہے،پوری ریاست کو کرفیو کے ذریعے کیسے یرغمال بنایا جا سکتا ہے۔سو اب وہ وقت آیا چاہتا ہے،جب کشمیری عوام پابندیوں کو توڑ کر سڑکوں پر ہوں گے اور قابض بھارتی فوج کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں گے، کیا دُنیا اس لمحے کا انتظار کر رہی ہے،کیا مختلف ممالک کے مصلحت میں ڈوبے مریل بیانئے اس المیے کو جنم لینے سے روک سکتے ہیں۔

کیا مودی سرکار میں اتنی عقل اور بصیرت ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کو سمجھ سکے۔اگر یہ عقل اور بصیرت ہوتی تو آناً فاناً کشمیر پر قبضے کی احمقانہ کوشش ہی نہ کرتے،35اے اور370 شقوں کو ختم کرنا انہوں نے گڈے گڈی کا کھیل سمجھ لیاہے۔اس کے نتائج پر نظر ڈالنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی گئی۔ وادی میں چند ہزار مزید فوج بھجوا کر گویا کشمیریوں کے ردعمل کے سامنے بند باندھ دیا گیا،حالانکہ فوج کے ذریعے کشمیریوں کے جذبات اور جدوجہد کو روکا جا سکتا تو اب تک مقبوضہ کشمیر سے کشمیریوں کی جدوجہد کا نام و نشان تک مٹ چکا ہوتا، کیونکہ بھارت کی آٹھ سے نو لاکھ تک فوج ہمیشہ کشمیر میں موجود رہی ہے اور اس نے کبھی مظالم ڈھانے سے ہاتھ نہیں روکا۔ آج بھارت کے یکطرفہ اقدام کو ہوئے ایک ہفتہ ہونے کو آیا ہے۔ اِس دوران کوئی لمحہ بھی ایسا نہیں آیا جس میں بھارتی افواج کو چین ملا ہو، کرفیو کے باوجود انہیں شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور ننگی جارحیت کے باوجود کشمیری عوام خوفزدہ ہو کر گھروں میں بیٹھنے کو تیار نہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اس وقت جو حالات کی کروٹ ہے،وہ کسی بڑے المیہ کی نشاندہی کر رہی ہے۔عالمی ضمیر بالکل سویا ہوا ہے۔ بھارت کی عددی اکثریت اور تجارت کی جکڑ بندیاں بہت سے ممالک کے پاؤں کی زنجیر بن چکی ہیں۔ اگرچہ وزیراعظم عمران خان نے ترکی کے صدر طیب اردوان، ملائشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد، سعودی عرب کے ولی عہد، انڈونیشیا اور ایران کے صدور سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور انہیں علاقے کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے بارے میں آگاہ کیا ہے، تاہم سوائے ترکی کے باقی سب نے روایتی بیانات دیئے ہیں اور معاملے کو افہام و تفہیم اور بات چیت سے حل کرنے کو کہا ہے۔مجھے اس وقت بڑی کوفت ہوتی ہے جب کوئی یہ کہتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ کیا یہ بات ایسا مشورہ دینے والے بھارت کو سمجھاتے ہیں؟بھارت کشمیر کے ایشو پر پاکستان کے ساتھ بات کرنے سے بدکتا ہے۔ کئی برس ہو گئے اس نے سیکرٹریوں کی سطح پر بھی مذاکرات منسوخ کر رکھے ہیں، بھارت کشمیر پر قابض ہے،

اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کشمیری عوام پچھلی کئی دہائیوں سے جدوجہد کر رہے ہیں،اُن پر ظلم کی داستانیں بھی دُنیا کے سامنے موجود ہیں۔ اب کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت نے اسے اپنا علاقہ قرار دینے کی جو جسارت کی ہے،دُنیا کے لئے اتنا ہی مواد کافی ہے کہ وہ اس کی مذمت کرے، کیونکہ بھارت کا یہ عمل بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ میں اس کی متنازعہ حیثیت کا پورا ریکارڈ موجود ہے۔ یہ بات بھی شرمناک ہے کہ چھ دن ہو گئے، سوا کروڑ افراد کرفیو کی زد میں ہیں۔ ان کے لئے زندہ رہنے کی کوئی صورت بھی باقی نہیں رہی۔ وہ کب تک بھوکے، پیاسے اور سنگینوں،نیز گولیوں کے سائے میں زندگی گزاریں گے۔ بھارتی سرکار میں تو یہ جرأت نہیں کہ کرفیو اُٹھا کر کشمیریوں کو آزادی سے گھومنے پھرنے کا موقع دے، کیونکہ یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ کشمیریوں نے کرفیو اُٹھتے ہی بھارت کے سارے ظلم و جبر کی اینٹ سے اینٹ بجا دینی ہے، نہ صرف یہ بلکہ لاکھوں بھارتی فوجیوں کے لئے بھی اپنی عزت بچانا مشکل ہو جائے گا۔

اقوامِ عالم بے شک سوئی رہیں، دُنیا بھر میں کشمیری اور پاکستانی جاگ رہے ہیں،ہر بڑے ملک میں بھارتی سفارت خانے کے باہر ہزاروں کشمیری و پاکستانی مظاہرے کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر بڑے بڑے مظاہرے اِس بات کا ثبوت ہیں کہ مصلحتوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر دُنیا اگر کشمیریوں پر مظالم دیکھ کر بھی خاموش بیٹھی رہے، کشمیری اور پاکستانی اس کے ضمیر کو جھنجھوڑتے رہیں گے۔ کشمیر پہلے جنوبی ایشیا کے سینے پر ایک ناسور تھا، اب دُنیا کے جسم پر ایک پھوڑے کی صورت میں موجود ہے،اگر اِس پھوڑے کا علاج نہیں کیا جاتا تو اس کی زہر ناکی پوری دُنیا کے امن کو تہہ و بالا کر دے گی۔ مقبوضہ وادی کو جیل خانے میں تبدیل کر کے بھارت نے چند دن گزار لئے ہیں، مگر نہ وہ اسے مستقل جیل بنا سکتا ہے اور نہ ہی یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ چند دن بعد کشمیری ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جائیں گے اور پھر وہ اپنا ایجنڈا نافذ کر دے گا۔ آزادی کی تڑپ تو کشمیریوں کی روح، بدن اور خون میں سرایت کئے ہوئے ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ چند دن کی پابندیوں کے بعد وہ اپنی آزادی کو بھول جائیں۔ اب کشمیریوں نہیں، بھارتیوں کے لئے ایک ایک دن گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ ہمارے سیاست دان بھی عجیب ہیں، وہ کشمیریوں کو بھول جاتے ہیں اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے الزام لگاتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے۔ کشمیر کا سودا بھی کوئی کر سکتا ہے۔ کیا آزادی کی تحریکیں سودے بازی سے ختم ہوتی ہیں۔کیا وزیراعظم عمران خان جیسے قومی ہیرو سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسا کوئی قدم اٹھانے کا سوچیں،جو انہیں پلک جھپکتے میں ہیرو سے زیرو کر دے۔ سیاست دانوں کو کم از کم کشمیر کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔آپس میں اُلجھنے کی بجائے ہمیں اپنے واحد دشمن بھارت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مَیں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ مودی کی حالیہ حرکت نے جدوجہد کشمیر میں نئی جان ڈال دی ہے۔یہ اتنا بڑا سچ ہے کہ اسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ آج پوری دُنیا میں ہر طرف کشمیر کا تذکرہ ہے۔ جب کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف آگ مزید بھڑکے گی تو سب خود بخود جاگ جائیں گے، کیونکہ یہ آگ جلتی رہی تو دُنیا کے امن کو جلا کر بھسم کر دے گی۔

مزید : رائے /کالم