کراچی کی بارشیں اور ہمارا میڈیا

کراچی کی بارشیں اور ہمارا میڈیا
کراچی کی بارشیں اور ہمارا میڈیا

  


امسال بقر عید گزشتوں برسوں کی نسبت بہت ”سخت اور مشکل“ گزری ہے۔ ایک تو عمومی مہنگائی نے لوگوں کی قوتِ خرید کم کر دی ہے اور دوسرے بارشوں نے بالخصوص کراچی اور دوسرے ساحلی شہروں (ٹھٹھہ، بدین وغیرہ) میں وہ غضب ڈھایا ہے کہ اس تقریب سعید کا تقدس اور خوشیاں دونوں غرقِ بادوباراں ہو گئی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا نے ویسے تو صرف کراچی کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بارشیں صرف کراچی ہی میں ہو رہی ہیں، سڑکوں اور دوسرے پبلک مقامات کا حالِ زار صرف کراچی ہی میں ہے اور دوسرے مقامات، بارش کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہیں۔ یہ درست ہے کہ جتنی بارش گزشتہ چند دنوں میں کراچی اور اس کے قرب و جوار میں ہوئی ہے۔اتنی کہیں اور نہیں ہوئی لیکن ہمارا میڈیا (بالخصوص الیکٹرانک میڈیا) اس سلسلے میں بہت مبالغے سے کام لے رہا ہے۔ کراچی چونکہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور اس کی غالب آبادی بارشی سیلابوں سے متاثر ہوئی ہے اور چونکہ کراچی میں بیشتر ٹی وی چینلوں کے ہیڈکوارٹرز ہیں اس لئے ان چینلوں کا سارا زور بارشی سیلاب کی عکاسی پر دیا جا رہا ہے۔ باقی وہ چینل جن کے ہیڈکوارٹر کراچی میں نہیں، وہ کراچی کے چینلوں سے بصری تصاویر لے کر ان کو اپنے نمائندوں کی زبان میں دکھا اور سنوا رہے ہیں۔ یہ شائد اس لئے بھی ہو رہا ہے کہ وابستہ صحافیانہ مفادات کو حکومت کے خلاف کوئی اور مواد دستیاب نہیں ہو رہا اس لئے وہ بار بار سندھ میں پی پی پی حکومت کی ناقص کارکردگی اور مرکز کی طرف سے لاپرواہی کو دن رات اپنی سکرینوں کی زینت بنا رہے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ اس برس کراچی میں بارشیں زیادہ ہوئی ہیں لیکن میڈیا پر تاثر دیا جا رہا ہے کہ صوبائی اور فیڈرل حکومتوں نے بروقت حفظِ ماتقدم کے اقدامات نہیں اٹھائے۔ لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بارشوں اور سمندری طوفانوں (سونامیوں) کی کثرت ایک بین الاقوامی آفت ہے۔ دنیا کے موسم تبدیل ہو رہے ہیں اور اس برس یورپ میں جتنی شدت کی گرمی پڑی ہے گزشتہ پوری صدی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اس موسمی تبدیلی کا سبب گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار کی کثرت ہے جس کے مجرم خود یورپی اور امریکی ممالک ہیں۔ اور یہ کوئی نیا عجوبہ نہیں۔ عالمی ماہرینِ موسمیات کئی برسوں سے سرپیٹ رہے ہیں کہ گرین ہاؤس گیسوں کی زیادتی کی وجہ سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں

، سمندروں کی سطحِ آب اونچی ہو رہی ہے اور گرم موسم کی شدت کے سبب سمندروں میں آبی بخارات اٹھ کر بادلوں اور بارشوں کی کثرت کا سبب بن رہے ہیں۔ مغرب کے بہت سے موسمیاتی تھنک ٹینک دنیا کی توجہ اس آفتِ ارضی و سماوی کی طرف دلا رہے ہیں لیکن اس کا کچھ بھی اثر ان ترقی یافتہ ممالک پر نہیں ہو رہا۔ گزشتہ گرمیوں میں یورپ اور امریکہ کی کئی ریاستوں میں بارشوں اور دریاؤں کے پانیوں نے جو قیامت ڈھائی ہے اس کا عشرِ عشیر بھی کراچی کی موجودہ سیلابی کیفیت میں نظر نہیں آتا۔ اگر آپ بی بی سی، سی این این، سکائی نیوز اور دیگر مغربی ٹی وی چینلوں کی نشریات دیکھ رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کراچی کی بارشوں اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی خبروں کا شائد ان عالمی ابلاغی وسیلوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے……9اگست 2019ء کا ”دی نیویارک ٹائمز“ (بین الاقوامی ایڈیشن) میرے سامنے ہے اس کے صفحہ نمبر3پر آدھے صفحے پر پھیلی ایک سٹوری فائل ہوئی ہے جس کا عنوان ہے: ”گرم ہوتا ہوا ہمارا کرۂ ارض فوڈ سپلائی کی شدید کمی کی خبر دے رہا ہے“۔

ایسا نہیں کہ ہماری طرح یہ مغربی لوگ ان گلوبل موسمی تبدیلیوں سے بے خبر ہیں۔ اس خبر (سٹوری) میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے یہ ممالک ان آفاتِ آسمانی سے بے خبر نہیں ہوئے بلکہ ان ترقی یافتہ اقوام نے خود ان کو آواز دی ہے اور اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی چلائی ہے۔ یہ ان کا پرانا کلچر ہے کہ خود ہی چوری چکاری کے اسباب پیدا کرتے ہیں اور پھر خود ہی واویلا مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ دوڑو، بھاگو، چور آ گئے!……

اس خبر کے دو تین پیراگراف قابل غور ہیں:

1۔ دنیا کے ارضی اور آبی ذخائر بڑی تیزی سے ضائع کئے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے مل کر اس عمل نے نوعِ انسانی پر اتنا پریشر ڈالا ہے کہ بہت جلد انسانوں کو کھانے کے لئے کچھ نہیں ملے گا۔ 8اگست 2019ء کو اقوام متحدہ کی طرف سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ یہ رپورٹ دنیا کے 52ممالک کے 100سے زیادہ ماہرین نے تیار کی ہے اور اس کا جو خلاصہ جنیوا سے شائع کیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 50کروڑ انسان جو پہلے ہرے بھرے میدانوں میں رہتے تھے اب ان کے وہ سبزہ زار، صحراؤں میں تبدیل ہو رہے ہیں اور یہ ارضیاتی تبدیلی بڑی تیزی سے رونما ہو رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے سیلاب آ رہے ہیں، سمندری طوفان برپا ہو رہے ہیں، قحط پڑ رہے ہیں اور موسم اس تیزی سے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں کہ گلوبل فوڈ سپلائی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ دنیا کی 10فیصد آبادی پہلے ہی قحط کی کیفیات میں گرفتار ہے اور اس کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ اگر یہی صورت جاری رہی تو کراس بارڈر تارکین وطن کی تعداد بہت بڑھ جائے گی۔

2۔ یہ غذائی بحران بیک وقت ایک سے زیادہ براعظموں میں پیدا ہو جائے گا۔2010ء اور 2015ء کے درمیانی پانچ برسوں میں ال سیلویڈار، گوئٹے مالا اور ہونڈوراس میں ایسا ہو چکا ہے اور غذائی قلت کے سب کروڑوں لوگ میکسیکو میں آکر امریکہ جانے کے لئے بے تاب ہیں۔ موسم کی تبدیلی، لازماً غذائی قلت کا سبب بن جائے گی۔کاربن ڈائی آکسائڈ اور گرین ہاؤس گیسوں کی زیادتی، عالمی درجہ ء حرارت کو اتنا بڑھا دے گی کہ فصلوں اور مال مویشیوں کے لئے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔

قارئین گرامی! یہ پہلی بار ایسا نہیں ہو رہا۔ ایک کراچی ہی پر کیا منحصر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پاکستان کے دوسرے شہروں میں جابجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ یہی دیکھ لیں کہ پولی تھین بیگوں کا مسئلہ ہر ڈیڑھ دو سال بعد میڈیا پر اٹھایا جاتا ہے، اس کے نقصانات ایک ایک کرکے گنوائے جاتے ہیں، پولین تھین بیگ بنانے والی فیکٹریوں کی بندش کی نوید سنائی جاتی ہے اور پھر ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے!…… اب اسلام آباد میں ان بیگوں کی بندش اور ان کی جگہ دوسرے بیگوں کو متعارف کروانے کا شہرہ سنا اور دیکھا دکھایا جا رہا ہے لیکن آپ دیکھیں گے کہ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ کسی بھی حکومت میں وہ عزم (Will) نہیں جو قوتِ حاکمہ کو قوتِ نافذہ میں تبدیل کرتا ہے!

ہم کراچی کی بات کر رہے تھے…… کہا جا رہا ہے کہ یہ صوبائی مسئلہ ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم سے بات نہیں کی۔ وجہ یہ بتائی ہے کہ کیا عمران خان کو نظر نہیں آ رہا کہ کراچی کی صورتِ حال کتنی مخدوش ہے اور یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ کس مشکل میں گرفتار ہے؟

کراچی کے دس اراکین اسمبلی کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔ جناب علی زیدی نے کچھ روز پہلے کراچی کے کچرے کو صاف کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا لیکن یہ مسئلہ اتنا کثیر الجہات اور گرینڈ سکیل کا ہے کہ اس کے حل کے لئے ہنگامی صورتِ حال ڈکلیئر کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیلی ویژن پر ابھی اس ”کچرا صفائی مہم“ کی خبریں ”نیمے دروں، نیمے بروں“ کی کیفیت ہی میں تھیں کہ کراچی کو طوفانی بارشوں نے آ گھیرا۔ یہ بارشیں، کچرا صفائی مہم سے کہیں فوری اور عاجل اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں۔ کراچی کا سارا مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ اس بارش نے گویا کراچی کے بہت سے حصول میں کرفیو کا سا سماں پیدا کر دیا ہے۔ نہ گیس ہے، نہ بجلی اور نہ سامانِ خورد و نوش کی فراہمی کا کوئی بندوبست ہے۔پہلے جب سیلابی صورتِ حال ہوتی تھی تو رینجرز اور فوج کے جوان بڑی تعداد میں فوراً مدد کو پہنچ جاتے تھے۔ لیکن اب ملک کی سرحدوں کی صورتِ حال بھی کشمیر کی وجہ سے دگرگوں ہے اور فوج کے لئے سیلابی ریلوں سے بچاؤ کے ساز و سامان کو سرحدوں سے اٹھا کر کراچی لانا شائد ممکن نہ ہو۔ملک کی سرحدوں کی حفاظت کراچی کی بارشوں کی تباہی کی وجہ سے امدادی کارروائیوں سے زیادہ ضروری ہے۔

ہمارے ہاں موسم کی تبدیلیوں کے بارے میں کوئی لانگ ٹرم پیش گوئی نہیں کی جاتی۔ اگر کل کلاں ہمارے شمال مغربی کیچ منٹ ایریاز میں اس طرح کی بارشیں ہوئیں تو دریاؤں کی سیلابی صورت کو سنبھالا نہیں جا سکے گا۔ کراچی کا پانی تو زیادہ سے زیادہ دوچار روز میں سمندر میں جا گرے گا لیکن اگر ملک کے شمالی اور وسطی حصوں کے دریاؤں میں سیلاب آ گیا تو اس کے اثرات بہت دیرپا، نقصان دہ اور خوفناک ہوں گے۔ ایسے میں پاکستان کیا کرے گا اور اس کی اکانومی کی جو خطرات لاحق ہوں گے ان کا مداوا کیسے کیا جائے گا؟ میں ایک اور سنریو پر بھی غور کررہا تھا…… آج پاکستان، کشمیر کے سوال پر جن حالات سے گزر رہا ہے ان میں کھلی جنگ کے امکان کو کلیتاً رد نہیں کیا جا سکتا۔ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان نے 1971ء کی جنگ کے بعد سے لے کر آج تک کے 50برسوں میں کوئی جنگ نہیں دیکھی۔ اب نصف صدی بعد، اگر روائتی جنگ و جدل کا ذکر بھی کیا جائے تو آج کی کنونشل وار، 1971ء کی وار سے کہیں زیادہ مہلک، تباہ کن اور ہولناک ہو گی۔ جنگ کا آغاز میزائل مڈ بھیڑ سے ہو گا اور اگر دشمن نے کراچی کو ٹارگٹ کیا تو جو تباہی ہو گی وہ موجودہ بارشی تباہی سے بڑھ چڑھ کر تباہ کن ہو گی۔ ہم باقی پاکستان کی بات نہیں کرتے اور نہ اس کا ذکر کرتے ہیں کہ پاکستان، کراچی پر حملے کے جواب میں بھارت کے ساتھ کیا ”سلوک“ کرے گا۔ ہم صرف یہ تصور کرتے ہیں کہ آج کی روائتی جنگ میں مرحلہ ء اول میں ڈرونوں، میزائلوں اور طیاروں کی مارو ماری کس سکیل کی ہو گی؟ جانی اور مادی نقصانات کیا ہوں گے، کیا ان نقصانات سے بچنے کے لئے ہم نے کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں؟…… ہم نے تو کراچی کو بارشی تباہی سے بچانے کے لئے بھی کچھ نہیں کیا، جنگی تباہی تو اس سے کئی گنا زیادہ لرزہ خیزہو گی!

اسی طرح کشمیر کے سوال پر جنگ کے خطرے کو یکسر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارے وزیراعظم نے ابھی اگلے روز قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر ”جوہری جنگ“ کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا:”میں نیوکلیئر بلیک میل کی بات نہیں کر رہا، دنیا کے بڑے بڑے ملکوں سے اپیل کر رہا ہوں کہ آنے والے خطرے کا احساس کریں“…… ان کی تقریر کا یہ فقرہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہونا چاہیے تھا لیکن ابھی تک اس پر کسی چھوٹی بڑی پیشرفت کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے…… نجانے ہمارا میڈیا کئی روز سے صرف کراچی کی بارشوں کی کوریج پر اتنا زیادہ زور کیوں دے رہا ہے؟

مزید : رائے /کالم