عمران خان کی حکومت”ڈمی“ ہے جس کے پاس کوئی اختیار نہیں،میاں افتخار

   عمران خان کی حکومت”ڈمی“ ہے جس کے پاس کوئی اختیار نہیں،میاں افتخار

چارسدہ (بیو رو رپورٹ)اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ریاست اور ریاستی ادارے دہشت گردی کے منافع بخش کاروبار میں ملوث ہیں۔ عمران خان ریت کی بوری ہے۔ریت کی بوری کے پیچھے قوم کا اصل دشمن چھپا ہو ا ہے۔مودی نے مقبوضہ کشمیر کے بھارت میں مکمل الحاق سے پہلے امریکہ، چین اور عرب ممالک کو اعتماد میں لیا تھا۔ عمران خان کا دورہ امریکہ نمائشی تھا اصل دورہ آرمی چیف کا تھا جنہوں نے امریکہ سے سارے معاملات طے کر لئے۔ وہ تاریخی مسجد غازی گل با با میں یوم بابڑہ کے حوالے سے منعقدہ تقریب اور بعد ازاں شہدائے یاد گار پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ تقریب سے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان اور ضلعی صدر ایم پی اے شکیل بشیر خان عمر زئی نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر ایم پی اے نثار مہمند اور دیگر قائدین و کارکنان بھی موجود تھے۔ میاں افتخار حسین اور دیگر نے شہدائے بابڑہ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ شہدائے بابڑہ کی قر بانیاں رائیگاں نہیں جائیگی۔ 12اگست 1948میں بابڑہ کے مقام پر باچا خان کے پیرو کاروں نے قیوم خان کی یزیدیت کا مقابلہ کیا اور سینکڑوں خدائی خدمتگاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کر کے ہمیشہ کیلئے امر ہو گئے۔ میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت ڈمی حکومت ہے جس کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ تمام فیصلے اسٹیبلشمنٹ اور فوج ہی کر رہی ہے۔ عمران خان کی مثال ریت کی بوری ہے جس کے پیچھے قوم کا اصل دشمن چھپا ہو ا ہے جس کو بے نقاب کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا دورہ امریکہ ایک نمائشی دورہ تھا۔ اصل دورہ آرمی چیف کا تھا جن کے ساتھ امریکہ نے سارے معاملات طے کر لئے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کے مکمل الحاق سے پہلے امریکہ، چین اور عرب ممالک سمیت عالمی قیادت کو اعتماد میں لیا تھا یہی وجہ ہے کہ آج مسئلہ کشمیر پر اپنے اور پرائے کوئی بھی کھل کر پاکستان کی حمایت نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ کپتان کی غلط پالسیوں کی وجہ سے سی پیک جیسا بڑا منصوبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا جس کی وجہ سے اب چین سی پیک میں مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں لے رہا۔ آئی ایم ایف کو سی پیک کے حوالے سے تمام دستاویزات فراہم کرکے چین کا پاکستان پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ سی پیک چین اور پاکستان کے معاشی ترقی کا بڑا منصوبہ تھا جس کے تمام خفیہ دستاویزات امریکہ اور بھارت کے ہاتھوں لگ چکے ہیں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے مگر اپو زیشن کے جو سنیٹر ز ہارس ٹریڈینگ میں ملوث ہیں ان کو قوم کے سامنے لا یا جائیگا۔انہوں نے واضح کیا کہ جن کے اشاروں پر سنیٹرز نے وفاداریاں تبدیل کی ان کے نام بھی قوم کو بتائے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ مودی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے 370اور 35Aشق پر نظر ثانی کرکے مقبوضہ کشمیر کی حصوصی حیثیت بر قرار رکھیں اوراقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرلیں۔مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے مودی کا موجودہ اقدام ان کے انتخابی منشور کا حصہ تھا۔مودی نے کشمیر کے حوالے سے 370اور 35Aکے خاتمے سے پہلے ٹرمپ سمیت عرب ممالک اور چین کو بھی اعتماد میں لیا تھا۔ ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے خافظ سعید کو گرفتار کیا گیا اور دورہ امریکہ کے بعد ان کو رہا کیا گیا۔ خافظ سعید ریاستی اداروں کا آلہ کار ہے اور جب چاہے ان کو گرفتار کریں یا ان سے کام لے۔ میاں افتخار حسین نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ریاست اور ریاستی ادارے دہشت گردی کے منافع بخش کاروبار میں ملوث ہے جس میں صرف انسانی خون بہہ رہا ہے۔ اے این پی افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا بھار ت سے الحاق کے بعد کشمیر کے جہادیوں کو افغانستان لانے کی تمام سازشوں کو بے نقاب کرینگے۔انہوں نے کہا کہ لر او ر بر کے پختونوں  نے بڑی قربانیاں دئیے ہیں۔ اے این پی افغانستان اور خیبر پختونخوا میں مزید خونریزی برداشت نہیں کرسکتی۔ افغانستان ہمارے دا د ا اور پاکستان باپ کا وطن ہے۔کپتان کی موجودگی میں امریکہ میں کشمیر کا سودا ہوا اور اب موصوف مگر مچھ کے آنسو بہا کر قوم کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ عمران خان کل مودی کو مقبوضہ کشمیر سمیت خطے کیلئے نجات دہندہ قرار دیکر ان کے انتخابی کامیابی کے دعائیں مانگ رہا تھا اور اسی نجات دہندہ کو بڑا دہشت گرد کہہ رہے ہیں۔ 

میاں افتخار

مزید : صفحہ اول