ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے!

ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے!
ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے!

  


مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرکے اسے ایک عالمی مسئلہ بنادیا ہے۔ کشمیر نظر بند ہے مگر یہ کوشش تو بھارت گزشتہ 72برسوں سے کر رہا ہے اور تسلسل کے ساتھ ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وہاں فلسطین ماڈل نافذ کرنے کی کوشش کی جا ئے گی مگر بھارت اور اس کے حواری بھول گئے ہیں کہ کشمیر پاکستان کے پہلو میں واقع ہے، یہاں کسی فلسطینی ماڈل کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہاں کی فوج تو ایک طرف خود پاکستانی بھی کشمیر کے سٹیٹس میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کریں گے۔ آج یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی جس طرح کشمیر کے ساتھ ربط اور ناتے کا اظہار کر رہے ہیں، وہ مودی کی آنکھیں کھولنے کے کافی ہونا چاہئے۔

اس میں شک نہیں کہ کشمیر کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر ہیں لیکن اس کے باوجود عوام محسوس کرتے ہیں کہ ایک پیج پر ہونے کے باوجود حکومت اور اپوزیشن ایک ہی سطر پر نہیں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت نے تسلسل کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر بات کی ہے لیکن اپوزیشن عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان کی جانب سے کی جانے والی کوششیں ناکافی ہیں۔ خاص طورپر آزاد کشمیر میں مریم نواز نے قیادت کی ریلی کرنی تھی مگر اس سے قبل ان کی گرفتاری نے اپوزیشن حلقوں میں کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو کشمیر سے زیادہ کرپشن میں دلچسپی ہے اور وہ اپوزیشن کی کرپشن کے لئے کشمیر جیسے بڑے کاز پر بھی سمجھوتہ کر سکتی ہے۔ اس اعتبار سے حکومت اور اپوزیشن کا ایک پیج پر ہونا یا نہ ہونا بے معنی سا ہو کر رہ گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے تناظر میں سب سے بڑی بات یہ ہو رہی تھی کہ پاکستان نے سی پیک جیسے بڑے منصوبے کو میں سست روی کے لئے آئی ایم ایف اور امریکہ سے حامی بھرلی ہے لیکن جونہی بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور 35اے کے خاتمے کی بات سامنے آئی پاکستان نے فوری طور پر چین سے رابطہ کیا اور اب چین کے ایک ایک بیان اور ایک ایک اشارے کو حکومت اسی طرح سے بڑھا چڑھاکر بیان کر رہی ہے جس طرح اب سے چند دن پیشتر امریکی صدر کی ثالثی کی بات کو پیش کر رہی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کشمیر کے معاملے پر حکومت امریکہ کی جانب دیکھ رہی ہے یا چین کی جانب!

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیر اعظم خود چین تشریف لے جاتے اور چینی قیادت سے بات کرتے تاکہ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو چینی ہم منصب سے ملاقات کرکے اکیلے چین کی نمائندگی نہ کرنا پڑتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ چونکہ شاہ محمود قریشی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے علم میں پہلے سے تھا کہ بھارت کشمیر کے سٹیٹس کے حوالے سے یہ مذموم حرکت کرنے جا رہا ہے۔ ایسا ہے تو دورہ امریکہ کے دوران ایک مرتبہ بھی وزیر اعظم یا وزیر خارجہ کی جانب سے اس حوالے سے اشارے کنایے میں بھی بات نہ کی گئی۔ اس کے برعکس سارا زور اس پر رہا کہ ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرکے عمران خان کی طلسماتی شخصیت کااعتراف کرلیا ہے، حالانکہ اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے اندازہوتا ہے کہ ٹرمپ کی پیشکش کا پاکستان کو رتی بھر فائدہ نہیں ہوا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ حکومت اور اپوزیشن نے پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن کال کرکے کشمیر کے مسئلے پر اکھٹے ہونے کا تاثر دینے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود عوام میں وہ پیغام نہیں جا سکا ہے جس کی توقع کی جا رہی تھی، خاص طور پر مریم نواز کی گرفتاری اور فریال تالپور کی آدھی رات کو اسپتال سے قید خانے لے جانے کی کاروائی نے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ حکومت کو ہدف تنقید بنائیں۔ یہی نہیں بلکہ چشم فلک نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ہماری عسکری قیادت نے بھی اپوزیشن قیادت کو اس حوالے سے اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ سفارتی و تجارتی تعلقات کی معطلی بھی اس بداعتمادی کو ختم نہیں کر سکی ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ اس حوالے سے ضروری اقدامات کئے جائیں اور ملک میں ون پارٹی رول کا تاثر دینے کی بجائے اجتماعی دانش پر انحصار کرنا چاہئے تاکہ اندرون ملک اور بیرون ملک کشمیر پر پاکستانیوں کی یک جہتی کا پیغام جا سکے جو عالمی برادری پر دباؤ کے ضمن میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر حکومت اور اپوزیشن میں بُعد بڑھتا گیا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان کشمیر کاز کو ہوگا۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے!

مزید : رائے /کالم