شاہی قلعہ لاہور میں نصب رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑ نے والے دونوں افراد گرفتار

شاہی قلعہ لاہور میں نصب رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑ نے والے دونوں افراد گرفتار

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور میں دو افراد نے مبینہ طور پر پنجاب کے سابق حکمراں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو توڑ دیا جو شاہی قلعہ میں ان کی قبر کے قریب نصب تھا۔شاہی قلعہ معمول کے مطابق لوگوں کے کھلا تھا جب دو افراد وہاں داخل ہوئے جن میں سے ایک بظاہر پاؤں سے معذور تھا اور اس کے ہاتھ میں لکڑی کی ڈنڈا موجود تھا، جبکہ دوسرا شخص اسے چلنے میں مدد کر رہا تھا۔قلعے میں داخل ہوکر دونوں سیدھا مجسمے کی طرف گئے اور لکڑی کے ڈنڈوں سے اسے مارنا شروع کر دیا جس سے ایک بازو ٹوٹ گیا، جبکہ دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچا۔سیکیورٹی گارڈز وہاں پہنچے اور مجسمہ توڑنے والوں کو پکڑ لیا جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔بعد ازاں حملہ آوروں کو پولیس کے حوالے کردیا گیا جس نے شہری انتظامیہ کی شکایت پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سید غضنفر شاہ نے ڈان کو بتایا کہ حملہ آوروں نے مذہبی بنیادوں پر مجسمہ توڑا۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ حملہ آور یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ان کے جسم میں جنوبی ایشیا کی تاریخ کے معروف جنگجو سلطان محمود غزنوی کی روح موجود ہے۔سید غضنفر شاہ نے کہا کہ حملہ آوروں کا ماننا تھا کہ یہ ان کے مذہب کے خلاف ہے کہ مسلم ملک میں مجسمہ تعمیر کیا جائے اور اگر انتظامیہ نے اسے نہیں ہٹایا تو وہ یہ عمل دوبارہ کریں گے۔واضح رہے کہ شاہی قلعہ کی مائی جِندا کی حویلی میں راجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کی 27 جون کو ان کے 180ویں یوم وفات کے موقع پر نقاب کشائی کی گئی تھی۔کانسی سے بنے اس 9 فٹ اونچے مجسمے میں سکھ بادشاہ کو ہاتھ میں تلوار پکڑے گھوڑے پر بیٹھے دیکھاجاسکتا ہے، جبکہ انہوں نے مکمل سکھ لباس زیب تن کر رکھا ہے۔

مجسمہ

مزید : پشاورصفحہ آخر