پاکستان کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

پاکستان کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

  

پروفیسر محمد منور

ایک بار سکندریہ سے آئے ہوئے ایک پروفیسر صاحب نے تقسیم ِ ہند کی وجہ دریافت کی جس کے باعث برصغیر میں پاکستان اور بھارت دو علیحدہ ملک وجود میں آئے۔ سکندریہ کے پروفیسر صاحب کا خیال تھا کہ مسلمان اور ہندو قومیں ایک ہزار سال سے بھی زیادہ سے اکٹھے رہ رہی تھیں ۔ اتنا طویل عرصہ اکٹھے رہنے کے باعث دونوں قوموں نے خاصی حد تک متحدہ ہندوستانی قومیت کی شکل میں ارتقائی سفر کر لیا تھا اور یہ سفر جاری تھا کہ اچانک مسلمانانِ ہند نے برصغیر میں ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لئے تحریک شروع کر دی۔ کیا غیر منقسم اور متحدہ ہندوستان ایک بہتر ملک نہیں تھا؟ کیا متحدہ ہندوستان موجودہ پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں سے زیادہ مضبوط اور بہتر ثابت نہ ہوتا؟

ایک ہزار سال کا عرصہ کسی ملک کی قومیتوں کے لئے بڑا طویل عرصہ ہے کہ وہ باہمی افہام و تفہیم کی راہ پر گامزن ہو کر اپنا ارتقائی عمل جاری رکھیں۔ سکندری پروفیسر صاحب کے ذہن سے یہ بات ظاہر ہورہی تھی کہ مسلمان اور ہندو دونوں قوموں کے لئے بحیثیت ہندوستانی کئی صدیاں مزید اکٹھے رہنے کا امکان موجود تھا ۔پروفیسر موصوف کی رائے تھی کہ اگر ہندو مسلم قائدین کے درمیان کسی قسم کی غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی تو کچھ عرصے بعد اسے رفع کیا جا سکتاتھا ۔برصغیر سے برطانوی حکومت کے نکل جانے کے بعد تمام باہمی شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں دور ہو جاتیں۔ انگریز یقینا تیسری پارٹی تھے اور اپنے استعماری اغراض و مقاصد کے لئے اپنی رعایا کے مختلف دھڑوں او رگر ہوں کے درمیان اختلافات پیدا کرچکے تھے فی الحقیقت برطانوی استعماری پالیسی”پھوٹ ڈالو“حکومت کرو کی تھی۔

پروفیسر موصوف کی اس گفتگو کا انداز بڑا ہمدردانہ ‘ مسکت اور زوردارتھا۔ مذکورہ سکندری پروفیسر صاحب واحد مثال نہیں ہیں جو اس قسم کے سوالات نہ اُٹھاتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تمام مسئلے میں ایسے لوگ خود اپنے خیالات اور شبہات کی نفی کر تے ہیںیہ سوچ فقط غیر ملکی احباب تک محدود نہیں بلکہ خود پاکستانی شہری جو تعلیم یافتہ بھی کہلاتے ہیں غیر ملکی احباب کی طرح نا آگاہ بلکہ تحریک ‘ قیام ِ پاکستان اور دفاع ِ پاکستان کے معاملے میں گمراہ کن منفی معلومات رکھتے ہیں۔

اس سوچ کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں مگر دنیا ظاہری حالات پر جاتی ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی جستجو کر تے ہیں ؟ پروفیسر موصوف کے جواب میں میرا نرم شائستہ مگر پکا جواب یہ تھا کہ قیام ِ پاکستان کا جواز آپ کے اپنے ایک ہزار سال اکٹھے رہنے کے حوالے میں مضمر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانانِ ہند جو اتنے طویل عرصے سے ہندوو¿ں کے ساتھ رہ رہے تھے۔ ہندو کی نفسیات کو بہتر جانتے ہیں ۔اگریہی ہندی مسلمان اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کے حصول کے لئے اصرار کرتے ہیں اور اس حکومت کے زیر تسلط رہنے سے انکار کر تے ہیں جس کی بھاری اکثریت ہندوو¿ں پر مبنی ہو۔ تو یقینا ان کے پاس بہت مضبوط قابل ِ قبول وجوہات ہوںگی۔ ان تمام وجوہات کے باوجود مسلمانانِ ہند کس امر کو ترجیح دیتے ۔کیا وہ ایک چھوٹے مگر آزاد اور خود مختار ملک میں رہنا پسند کر تے یا ایک وسیع سلطنت کے درجہ دوم کے شہری بن کر غلاموں جیسی زندگی گزرانا قبول کرتے؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندو مسلم کے ایک ساتھ رہنے کا نظریہ سوائے ایک تاریخی غلط فہمی کے کچھ نہیں ہے۔ بقائے باہمی کا یہ تاریخی نظریہ انتہائی گمراہ کن ہے۔ ہندو مسلم دونوں قومیں کبھی اکٹھی نہیں رہیں۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے جدا رہی ہیں۔ مسلمان ہندوستان میں ایک فاتح قوم کی صور ت میں وارد ہوئے بعد ازاں ترکی النسل‘ غزنوی‘ غوری‘ خاندان ِ غلاماں اور تغلق آئے جنہوں نے اپنی سلطنت کادائرہ پورے ہندوستان تک پھیلا دیا۔ مغلوں نے ایک وسیع ریاست میں حکومت کی جس کی سرحدیں بلخ سے شروع ہو کر جنوبی ہند کے آخری سرے تک پھیلی ہوئی تھیں۔ بہر حال مسلمان حاکم تھے خواہ ان کی سلطنت چھوٹی تھی یا بڑی۔ ہندو مفتوح قوم کے لوگ تھے اورکیا ان کے روئیے کو بقائے باہمی یا اکٹھے رہنا قرار دیا جا سکتاہے؟

ہندوستانی مسلمانوں کے حملوں سے قبل بھی کئی (قوموں کے)حملے دیکھ چکے تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ حملہ آور اول و آخر‘ سرتا پیر جنگجو قومیں تھیں جن کے پاس اپنا کوئی دین یا دھرم نہیں تھا۔ ان حملہ آور اقوام کے پاس زندگی کے بارے میں نہ کوئی واضح نظریات تھے اور نہ دنیا اور کائنات کے باب میں کوئی روئیے ۔ان حملہ آوروں کی بھاری اور غالب اکثریت ملحدانہ اور کافرانہ تھی۔ لہٰذا اس کایہ نتیجہ نکلا کہ یہ حملہ آور قومیں چند نسلو ں کے بعد ہندوستان میں اپنا علیحدہ تشخص کھو بیٹھیںمگر مسلمان حملہ آور بالکل مختلف خمیر اور ضمیر کے مالک تھے ۔ اس ضمن میںڈی اے وی کالج سری نگر کے سابق پروفیسر اور بعد ازاں ہندو انتہا پسند عسکری تنظیم آر ایس ایس کے سر کردہ قائد بلراج مدھوک اپنی کتاب ”ہندوستان دوراہے پر “میں لکھتے ہیں کہ ”مسلمانوں سے پہلے بھی ہندوستان میں کئی حملہ آور آئے لیکن یہ سب حملہ آور یعنی یونانی ‘ کشان ‘ ساکا اورھن وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور ثقافتی اعتبار سے ہندوستان کے مفتوح ہو گئے اور اس طرح یہ یہ حملہ آور اقوام مکمل طور پر ہندو و¿ں میں ضم ہو کر ہندوا ئی گئیںلیکن مسلمان حملہ آوروں کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ کیونکہ یہ خود مشنری روح کے ساتھ ہندوستان میں آئے تھے لہٰذا ہندوستانیوں یعنی ہندوو¿ں کے لئے مسئلہ یہ نہیں تھا کہ مسلمانوں کو کس طرح مدغم کیا جائے بلکہ ان کے لئے مسئلہ یہ تھا کہ کس طرح ہندو اپنے آپ کو مسلمانوں میں جن کی پشت پر سیاسی قوت بھی تھی مدغم ہونے سے بچائیں۔ لہٰذا انہوں نے وہ علاج اپنایا جو کمزور کا ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنا معاشرتی نظام سخت کر دیا اور مسلمانوں سے ہر قسم کا لین دین اور تعلق ممنوع قرار دے کر انہیں ملیچھ کا نام دے دیا ۔ نیز ہندوو¿ں میں اس سوچ کی تخلیق اور ترویج کی کہ ہندو خواہ وہ کم ترین ذات سے تعلق رکھتا ہو ‘ کسی بھی مسلمان سے خواہ وہ بلند ترین اور معزز ترین ذات سے متعلق ہو ‘ بہر حال بہتر ہے۔ اس سوچ نے جو آج بھی جاری ہے، ہندوو¿ں کا مقصد بخوبی پورا کیا۔ جیسا کہ خود (مولانا )حالی نے کہا ہے کہ سفینہ ِ اسلام، جس نے دجلہ و فرات بغیر کس روک ٹوک کے عبو ر کیاتھا ‘ گنگا میں آکر ڈوب گیا۔ یہ اس معاشرتی تفریق و تفاوت کی کہانی ہے جو آج بھی دونوں قوموں میں قائم ہے۔ اگرچہ وہ حالات جنہوں نے اس سوچ کو پروان چڑھایا ‘ مدت ہوئی ختم ہو چکے ہیں “۔

مسلمانوں کے طویل دور حکومت میں ہندو بحیثیت ایک قوم مسلمانوں سے الگ تھلگ رہے ۔ انہوں نے اپنے معاشرے کو چاروں طر ف سے مقفل کر لیا ۔ اپنی بت پرستی بحا ل رکھی اور اس طرح اپنی روح پر بر ہمنی تسلط کے ساتھ ذات پات کا نظام بھی قائم اور محفوظ رکھا۔ انفرادی تعاون یا معاشرے کے بعض لوگوں کامصلحت آمیز رویہ اجتماعی قومی روئیے سے خاصی مختلف اوراستثنائی بات ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کے سیاسی زوال کے بعد ہندوو¿ں نے اپنی علیحدہ قومی روح اورروئیے کا اظہار کیا۔ اپنی ہندو دھرمی حکومت قائم کر نے کے لئے جدوجہد بھی کی اور ملک کے خاصے بڑے حصے پر اپنا اقتدار بھی قائم کر لیا۔ یہ وہ دور تھا جب ارد گرد جنگیںجاری تھیں‘افراتفری عروج پر تھی اور انگریزوں اور فرانسیسیوں نے ہندوستانی حاکموں کے سیاسی امور میں مداخلت شروع کر دی تھی۔ فرانسیسیوں نے بالآخر سیاسی مداخلت کی پالیسی ترک کر دی۔ فرانسیسیوں کی پالیسی کی تبدیلی کا بڑاسبب یورپ میں ہفت سالہ جنگ میں ان کی شکست تھا‘ جبکہ انگریزوں نے (یورپ میں )اپنی برتری منوالی تھی۔

فرانسیسیوں کے ہندوستان سے بحیثیت ایک سیاسی قوت کے اخراج کے بعد انگریزوں نے تمام ہندوستان پر قبضہ جما لیا ۔ اس طرح مسلمان اور ہندو دونوں انگریز کی رعایا بن کر رہ گئے۔ کیا دو مختلف قوموں اور دھڑوں کا ایک مشترکہ مقتدر حکومت کی رعایا بن کر رہنے کامطلب ان (قیدی)قوموں اور دھڑوں کا ایک ہو جانا ہے؟ سادھو سنگھ اپنی کتاب ”سکھ اپنے وطن کامطالبہ کر تے ہیں“(سالِ اشاعت1946ء‘ صفحہ : 18)میں تحریر کرتے ہیںکہ ”اتحاد ایکتا کے ساتھ رہنے کے احساس کا نام ہے۔ ایکتا اور اتحاد اس کیفیت یا حیثیت کا نا م نہیں ہے جو کسی وجہ سے مشترکہ ماحول کے باعث جنم لیتی ہے۔ ہم یقینا کرنسی کے اشتراک کو اتحاد اور ایکتا کا نام نہیں دیتے، جبکہ کرنسی پر ایک ہی حاکم اور بادشاہ کی تصویر ہوتی ہے اور وہ ایک ہی عزت مآب بادشاہ کی زرگر فیکٹری (ٹکسال)سے تیار ہو کر جاری ہوتی ہے۔ اگر ایک تھانیدار پنڈت جواہر لال نہرو اور ایک سماج دشمن مجرم کو ایک ہی حوالات میں بند کر دے تو یہ کہنا نہ صرف توہین ہے بلکہ غلط بھی کہ حوالات کی قید نے ان دونوں قیدیوں میں باہم اتحاد ‘ یگانگت اور ایکتا قائم کر دی ہے“۔

ہندی قوم کی ایکتا‘اتحاداور وحدت ہند کے بارے میں یہ تمام پروپیگنڈہ ایک طرف تمام دنیا کو دھوکہ دینے کا ڈھونگ تھا تو دوسری طرف مسلمانانِ ہند کو اکثریتی قوم کی فرمانبرداری قبول کر نے کی دھمکی بھی تھی۔ حریص ہند و اکثریت سب کچھ اپنے قبضے اور تصرف میں رکھنا چاہتی تھی اور اس طرح مسلمانوں کو بحیثیت ایک قوم ان کے قانونی جمہوری حقوق سے محروم رکھنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ جبکہ مسلمان بحیثیت ایک قوم ہندو و¿ں سے تاریخی ‘ ثقافتی اور مذہبی اعتبار سے یکسرمختلف تھے ‘ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جدوجہدِ آزادی کے پر جوش برسوں میں بھی ہندو قوم نے عملا ً ایک جذاگانہ اور علیحدگی پسند قوم کی طرح رہنا چھوڑ دیا تھا ۔ وہ ایسا کر بھی نہیںسکتے تھے ۔ یہ ہندو قوم کے بس سے باہر کی بات ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے کی طرح رہ سکے جو دیگر اقوام کو ساتھ لے کر چلے۔

ہندوو¿ں کا جدا گانہ طرزِ حیات ان کی فطرت کاحصہ بن گیااور ان کا یہ عمل ایک صریح حقیقت کے طور پر اسی طرح باقی رہا جیسا کہ پہلے تھا۔وہ مسلمانوں کو زراعت ‘ صنعت ‘تجارت اور بینکنگ میں پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔وہ بمشکل ہی کسی مسلمان کو اس ادارے میں بھرتی کرتے تھے جس میں انہیں تھوڑا بہت بھی اختیار حاصل تھا ۔ ہندو و¿ ں کا یہ حال تھا کہ ہندو مسلم یگانگت کے روح پرور اور پر ُجوش پروپیگنڈہ کے دور میں بھی ہندو وہ کھانا نہیں کھاسکتے تھے جسے مسلمانوں نے چھو لیا ہو۔ یہ ہندو و¿ں کا اجتماعی رویہ تھا ۔ اس روئیے کے برعکس کم مثالیں ملیں گی۔ ”ہندو پانی “ اور ”مسلمان پانی“ابھی تک بھارتی معاشرے میں مروج اور موجو دہے اور ہندو مالک مکان آج بھی کسی مسلمان کو اپنے محلے میں مکان کر ایہ پر دینے سے نفرت کر تے ہیں۔اس کے باوجود ہندو پروپیگنڈے کے ماہرین آج بھی اپنی پرُجوش تقریروں میں مسلمانوں پر علیحدگی پسند ہونے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔ البتہ ہندو و¿ں نے اس امر کا عملاً ثبوت دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے نہ صرف ایک اجنبی بلکہ دشمن قوم ہیں۔ انہوں نے معاشرتی زندگی کے تمام معاملا ت میں مسلمانوں کے ساتھ اختلاف اور تصادم کا رویہ رکھا۔

 پس مسلمانوں نے اپنے شاندار ماضی اور پرُ امید مستقبل کی روشنی میں ایک غیرت مندانہ رویہ اپنا یا۔ مسلمانوں نے یہ قومی رویہ طویل اور ٹھنڈے دل سے غور خوض کر نے کے بعد اپنایا تھا۔ مسلمان قوم کی اکثریت نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ سنگ دل ہندو اکثریتی قوم کے آگے نہیں جھکے گی۔ انہو ں نے ہندو ریاست میں درجہ دوم کے شہری کی حیثیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ یوپی کے ایک ہندو دانشور لیڈر سندر لا ل نے 1941ءمیں اجلاس کانگریس جو بمبئی میں منعقد ہوا تھاکے دوران کہا تھا کہ ”دونوں قوموں کے درمیان اختلافات آزادی ہند کی راہ میں نا قابل حل رکاوٹ بن کر کھڑے ہیں۔ یہ حقیقت آپ کونا پسندہو سکتی ہے ‘ مگر آپ کو یہ تسلیم کر نا پڑے گا کہ ہندو خود مطالبہ پاکستان کے ‘ جو بظاہر مسلمانوں کی جانب سے کیا گیا ‘ذمہ دار ہیں۔ یہ ہندو تھے جنہوں نے پاکستان کا آغاز کیا تھا۔ تمہیںہر ہندو گھر میں پاکستان نظر آئے گا۔ اگر کوئی غیر ہندو پانی کی طلب میں آپ کے گھر آتا ہے تو آپ اسے اپنے پانی کابرتن بھی دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اگر ہندو کا یہ اجتماعی رویہ نہ ہوتا تو صدائے پاکستان کبھی سنائی نہ دیتی“ ۔

ان لوگوں کی تعداد اور اہمیت زیادہ نہیں ہے جو سندر لال اور سوامی دھر ماتیرتھ جی مہاراج کی طرح باتیں کر تے ہیں۔ان لوگو ں کو جنہوں نے اپنے قومی عیوب اور نقائص کے خلاف باتیں کی ہیں‘ ±معاشرے نے پسند نہیں کیا۔ اس لئے کہ جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے وہ عمومی ہندو معیاری ذوق کے مطابق نہیں ہے۔ ہندوو¿ں نے لاجپت ‘ ہر دیال ‘ شام پر شاد ‘ساوتری ‘ نارنگ ‘ دیانند ‘ گاندھی اور مدھوک کی سنی اور ان جیسے دیگر رہنماو¿ں کی جانب کان دھرے جو ایک طرف پورے ہندوستان میں ہندو بالادستی اور برتری کے لئے کوشاں تھے تو دوسری طرف مسلمانوں کے جدا گانہ تشخص کے خاتمے کے لےے بھی سر گرم عمل تھے ۔ میں بلراج مدھوک کا ذکر کر تا ہوں ۔ اس بااثر ہندو قائد کا ایک ہی اقتباس مسلمانان ِ ہند کے بارے میں ہندو قو م کے بدنیتی پر مبنی عقائد اور عزائم قارئین پر واضح کرنے کے لئے کافی ہے ۔ یہ اقتباس جس کتاب سے ماخوذ ہے وہ 1946ءمیں شائع ہوئی۔ یعنی تقسیم ہند سے بمشکل ایک سال پہلے ۔ ”فی الحقیقت یہ بد قسمتی ہے کہ ہندو دھرمی پروہتوں نے بد ھ اور دیگر بندو ںکی طرح محمد (ﷺ)کا بت(نعوذ باﷲ )بنا کر اپنے ہندو مندروں میں شامل نہیں کیا اور ہندو مت کی دولت ِ مشترکہ میں مسلمانوں کو ایک نئی ذات یا فرقہ بنانے کے لئے سوچ سمجھ سے بالا تر داستان او ر دیو مالائی کہانی نہیں گھڑی ۔ جیسا کہ ہندو پروہتوں نے ماضی میں یونانی اورھن قوموں کے باب میں کیا تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس معاملے میں بہت زیادہ مشکلات تھیں ‘ تاہم کوشش ضرور کر نا چاہئے تھی۔ جس دن مسلمانوں کے ہندیائے جانے کی پالیسی مکمل ہو گی اور ان کی ورائے ہند(ہندوستان سے باہر یعنی ‘مکہ ‘ مدینہ وغیر ہ )حب الوطنی جڑ سے اکھاڑ باہر پھینک دی جائے گی‘ اس وقت ہی ہندوستان میں فرقہ وارانہ مسئلہ ختم ہو گا“۔

یہ تو واضح ہے مذکورہ بالا اقتباس میںلفظ ہندپائے جانے کامفہوم مسلمانوں کو ہندو بنایا جانا ہے اور سارا زور اس امر پر ہے کہ ایسا ماحول پیدا کر دیا جائے جو ہندوستان میں اسلام کے ہندو مت سے جدا ‘ علیحدہ اور آزاد تشخص اور وجود کو عملا ً نا ممکن بنادے۔ مسلمانانِ پاکستان کے لئے وارننگ کے طورپر چند مزید الفاظ اس مقالے کی آخری چا ر سطورسے پیش کئے جارہے ہیں۔ اہل پاکستان کو ہندو کے خطرنا ک عزائم سے آگاہ رہنا چاہئے۔ ہندو و¿ں نے پاکستان کو ایک حقیقت کے طورپر قبول نہیں کیا اور نہ وہ ایسا کبھی کر یں گے۔ لہٰذا ہمیں استحکام ِ پاکستان کی مسلسل مہم بھی اسی ا ستقامت کے ساتھ چلانی چاہئے جس استقامت کے ساتھ حصول ِ پاکستان کے لئے تحریک چلائی گئی تھی اور ا س کا اول و آخر تقاضایہ ہے کہ اپنا پیٹ کاٹ کر بھی پاکستان کا دفاع مضبوط سے مضبو ط تر رکھا جائے۔ مضبوط ترین افواج پاکستان کی اہمیت و ضرورت خودد شمن واضح کئے دیتا ہے ۔ ذرا رام پر شاد مکر جی جو آل انڈیاہندو مہاسبھا کے صدر بھی رہے ہیں‘کے الفاظ پڑھئے ‘جن کا بلراج مدھوک نے اپنی کتاب ”ہندو ستان دوراہے پر “میں حوالے دیا ہے ۔

”اگر برطانوی حکومت ہندو ستان کی جبری تقسیم کے بعداپنا تسلط چھوڑ دیتی ہے تو پھر ہندوستان کی آزاد ریاست کو پورے ہندوستانی علاقوں میں دوبارہ اپنااقتدار قائم کر نے سے کون روکے گا“۔

مزید :

ایڈیشن 1 -