آزادی کی کہانی دادا جان کی زبانی قیامِ پاکستان کے دوران ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی قربانیاں

آزادی کی کہانی دادا جان کی زبانی قیامِ پاکستان کے دوران ہجرت کرنے والے ...

  

حافظ غلام صابر

14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب الوطنی کے جذبے سے بھرپور ایک یادگار دن ہے۔اسی دن بر صغیرکے مسلمانوں کے نحیف و نزار لیڈرقائدِ اعظم محمد علی جناح اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنی ذہانت، فطانت، دیانت،جہدِمسلسل اور عظیم قائدانہ صلاحیتوں کے زور پر انگریزوں اور ہندو¶ں کو چارو ں شانے چت کرکے ہمارے لیے الگ وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جب ہزاروں خاندانوں نے اپنی جائے پیدائش، گھربار، کاروبار سب کچھ چھوڑ کر ایک نئے وطن کی طرف ہجرت کی اور ان دیکھی سرزمین کی طرف نئی امیدوں کے ساتھ چل پڑے۔ لاکھوں افراد اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔ نجانے کتنے بچے اپنی ما¶ں سے جدا ہو گئے کتنی بہنوں، بیٹیوں، ما¶ں کو وحشیانہ آبرو ریزی کے بعد ذبح کر دیا گیا۔

اس ملک کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے لیکن بدقسمتی سے آج کے نوجوان مملکتِ خداداد پاکستان کے قیام کے مقاصد کے لئے دی جانے والی عظیم قربانیوں کو فراموش کر چکے ہیں۔ آج بھی پاکستان کے حصول کیلئے دی جانے والی قربانیوں کی یاد کو زندہ رکھنا انتہائی ضروری ہے اس ملک کے قیام کے پیچھے ہزاروں لرزہ خیز کہانیاں دفن ہیں۔ ان کہانیوں میں ایک کہانی لاہور کے علاقہ گڑھی شاہومیں مقیم راقم الحروف کے دادا محمد رمضان کی ہے۔ جب میں نے اپنے دادا سے یہ داستان سنی تو اس وقت ان کی عمر بیاسی (82) سال تھی۔ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کو 50 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا لیکن اس تقسیم کے نتیجے میں محمد رمضان اور ان کے خاندان پر گزرنے والی قیامت کا ایک ایک لمحہ ان کے ذہن پر نقش تھا۔ تقسیم کے دوران گزرنے والی قیامت صغریٰ کے واقعات محمد رمضان کی زبانی سنتے ہیں۔

”میرا خاندان برصغیر کی تقسیم سے پہلے امرتسر کے مشہور علاقہ خزانہ گیٹ کا رہائشی تھا تقسیمِ ہند کے وقت میری عمر اٹھائیس، انتیس سال تھی۔ میرا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔امرتسر میںہمارا چارپائیاں بنانے اور برتن قلعی کرنے کا وسیع کاروبار تھا۔ پاکستان کا قیام 26 ماہ رمضان المبارک 1368ھ بمطابق 14 اگست 1947ءعمل میں آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کسی خاص مصلحت یامشیت کی طرف اشارہ تھا کیونکہ یہ رات لیلة القدر تھی۔ اگلادن 27رمضان المبارک اور جمعة الوداع تھا اور اس کے تین روز بعد عید الفطر آنے والی تھی۔ مسلمانوں کیلئے یہ ہر اعتبار سے ایک مبارک رات، مبارک دن اورمبارک ماہ تھا۔ پورے ہندوسان کے مسلمان خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے۔ جشنِ آزادی کی تیاریوں میں مبارک بادیں دی اورلی جارہی تھیں۔نعرہ تکبیر بلند ہورہے تھے۔گلی گلی،گا¶ں گا¶ں اور شہر شہر ’پاکستان زندہ باد‘ اور’قائداعظم زندہ باد‘ کے فلک شگاف نعرے گونج رہے تھے۔

دوسری جانب ہندو¶ں اور سکھوں کے سینے پر سانپ لَوٹ رہے تھے۔ان کے ہاں سوگ برپا ہوگیا، صفِ ماتم بچھ گئی اورآہ و بکا شروع ہو گئی۔ تقسیم ہند کے اعلان کے بعد پورے پنجاب میں ہندو، سِکھ مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ 15 اگست 1947ءکو ہمارے گا¶ں کے مسلمان سکھوں کے مظالم کے ڈر سے اپنی عزتوں اور زندگیوں کو بچانے کی کوشش میں بے سرو سامانی کے عالم میں اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا کہ سکھوں کے ایک مسلح جتھے نے ہمارے قافلے پر بندوقوں تلواروں، کرپانوں، نیزوں، برچھیوں اور کلہاڑیوں سے حملہ کردیا اس حملے میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کے دفاع کے لیے قافلے کے ہم چند مسلمان جوان سینہ تان کر سکھوں کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے۔ اس موقع پر ہمارے کئی نوجوان ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا اور قافلے کے تمام لوگ ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کی طرح بِکھر گئے۔ ہر طرف بربریت کا راج تھا اسی ظلم و ستم اور غارت گری میں مجھ سمیت سینکڑوں افراداپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔

یہ تقریباً آدھ میل لمبا پیدل قافلہ تھا اس قافلے میں پانچ سو سے زائد مسلمان موجود تھے جس میں میرے خاندان کے سولہ افراد شامل تھے۔ درندہ نما سکھوں کا ایک گروہ قافلے کی کئی عورتوں کو اٹھا کر لے گیا۔ ان میں سے کچھ عورتوں نے ا پنی عزت بچاتے ہوئے اپنے شیرخوار بچوں سمیت قریبی کنوئیں میں چھلانگیں لگا کر موت کو گلے لگا لیا۔ جان بچانے کی خاطر میرے ماموں جان بابا نتھو اپنے 6 سالہ بیٹے شاہ دین کو کندھوں پر اٹھا کر موقع سے بھاگ نکلے اور قریب گنے کی فصل میں چھُپ گئے۔ اسی گنے کی فصل میں میرے گا¶ں کے کئی مسلمانوں نے جان بچانے کے لئے پناہ لے رکھی تھی۔ ننھا شاہ دین خوف کی وجہ سے مسلسل رو رہا تھاشاہ دین کے رونے کی آواز سن کر کئی مسلح سکھ اس فصل میں آ گھسے اور اندھا دھند مسلمانوں کو قتل کرنے لگے۔ اتنے میں بابانتھو اپنے بیٹے کو اٹھائے بغیر وہاں سے بھاگ نکلے۔لیکن ننھے شاہ دین کی چیخ و پکار نے بابا نتھو کے قدموں کو آگے بڑھنے نہ دیا۔(''میاں مینوں چھڈ کے نہ جا۔۔۔ میاں مینوں چھڈ کے نہ جا'') مجبور باپ جب اپنے جگر کے ٹکرے کو اٹھانے کے لیے واپس مڑا تو دو سکھوں نے تلواروں سے بابا نتھو پر حملہ کر دیا اور سر پر تلواروں کے وار کیے جس سے پورے سر پر تقریباً ایک انچ گہرے زخم آئے اور وہ لہو میں لت پت بابا نتھو کو مُردہ سمجھ کر آگے بڑھ گئے۔ بعد میں آنے والے مسلمانوں نے سسکتے ہوئے معصوم شاہ دین کو اپنے ساتھ لے لیا۔ شاہ دین نے ہچکیاں لیتے ہوئے حسرت بھری نگاہوں سے اپنے بابا کو آخری بار دیکھا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بعد میں آنے والے مسلمانوں کے ایک قافلے نے جن کے پاس بیل گاڑیاں تھیں خون میں نہائے ہوئے بابا نتھو کو دیکھا تو اس کی سانسیں ابھی چل رہی تھیں۔انہوں نے بابا نتھو کو بیل گاڑی پر رکھا اور واہگہ میں مہاجرین کے کیمپ چھوڑ دیا۔ جہاں ڈاکٹرز نے دوا لگا کر بے ہوش بابا نتھو کے سر پر پٹیاں باندھ دیں۔

اللہ پاک کو ہمارے اس خاندان کو بچانا مقصود تھا اس لئے ایک بوڑھے سکھ نے ہماری عورتوں کے زیورات کے بدلے انہیں واہگہ کیمپ تک پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائی اس سکھ نے صرف زیور ہی نہیں بلکہ ہمارے تمام سازو سامان کو اپنے پاس رکھ کے میرے خاندان کے بچے کھچے افراد کوچند روز بعد واہگہ کیمپ پہنچادیا جہاں پہلے سے ہی بابا نتھو نیم مردہ حالت میں زخمی پڑا تھا۔ بابا نتھو کو دیکھتے ہی میرے گھر والوں کی جان میں جان آگئی۔ میرا خاندان انتہائی دکھ اور صدمہ کی حالت میں تھا۔ لیکن کیمپ میں موجود ہر شخص اپنے خلاندان کے لوگوں کو قربان کر کے وہاں پہنچا تھا۔ میری والدہ، بیوی، بچوں، چھوٹے بھائیوں اور ماموں بابا نتھو کے خاندان کے افراد نے کئی دن کیمپ میں قیام کیا۔ اس قیام کے دوران کھانا نہ ملنے کی صورت میں درختوں کے پتے تک کھا کر گزارہ کیا۔

اسی طرح کئی دن بعد بابا نتھو کو بھی ہوش آیا تو کیمپ میں اپنے گھر والوں سے مل کر سکون کا سانس لیا۔ لیکن میری اور ننھے شاہ دین کی غیر موجودگی سے بابا نتھوپر ایک مرتبہ پھر صدمے کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔خیر۔۔۔۔ دن گزرتے رہے۔ اور بابا نتھو صحت یاب ہوتے گئے۔ اب نہ جانے شاہ دین کن حالات میں زمانے کے ستم اپنی ننھی جان پر جھیل رہا تھا۔

میں اور میرے نوجوان مسلم ساتھی سکھوں کا روپ دھار کر اپنے گھر والوں کو تلاش کرتے رہے اور اس دوران دُکھی، بے بس، لاچار اور بے یارو مددگار مسلمان مہاجرین کی مدد کرتے رہے۔ مہاجرین کے مختلف کیمپوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر بھی تلاش کیا۔ نومبر 1947 ءکی ایک شام واہگہ ریلوے سٹیشن پر ہم اہلِ لاہور کے ساتھ اس گاڑی کے استقبال کے لیے موجود تھے جو مسلمان مہاجرین کو لے کر کالکا سے روانہ ہوئی تھی اور براستہ امرتسر پاکستان پہنچ رہی تھی۔طویل انتظار کے بعد جب دور سے گرد کا ایک طوفان سٹیشن کی جانب بڑھتا ہوا محسوس ہوا تو ہجوم میں یک دم خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ یہ ریل کا انجن تھا۔ ہم پانی اور مشروبات کے مٹکوں اور چاٹیوں کا جائزہ لینے لگے جو آنے والے مہاجر بھائیوں کے لیے تیار کیے گئے تھے۔گاڑی قریب آئی تو سب نے نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرنا شروع کر دیے۔لیکن گاڑی سے نعروں کا کوئی جواب نہ آیا اور گاڑی کا کوئی دروازہ نہ کھلا۔ جب ہم نے کھڑکیوں سے گاڑی کے اندر جھانکا توہمارے دل کانپ گئے اور رونگٹے کھڑے ہو گئے۔تلواروں سے کٹے ہوئے گلے، گولیوں سے چھلنی سینے، پھٹے ہوئے پیٹ اورجسموں سے علیحدہ بازو اور ٹانگیں ظلم و تشدد کی المناک داستان سنا رہے تھے۔ ہم نوجوانوں نے گاڑی کے ڈبے تقسیم کیے اور خون میں لت پت لاشوں کو آبدیدہ آنکھوں سے نہایت عزت و احترام کے ساتھ اتارنے لگے۔پھر بیس بیس شہداءکو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ اس سے زیادہ بہیمیت اور درندگی کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

دوسری جانب میرے گھر والے تقریباًپندرہ روز واہگہ کیمپ میں قیام کرنے کے بعد قریبی ایک اجاڑ بستی میں چلے گئے جسے ہندو¶ں اور سکھوں کی جانب سے لُوٹ مار کے بعد جلا دیا گیا تھا۔گھر والے مجھے اور میں انہیں تلاش کرتا ہوادربدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔جب میں واہگہ کیمپ گیا تب تک میرے گھر والے وہاں سے جا چکے تھے۔ تقریباً دس ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک ہجوم میں مجھے ماموں نتھو نظر آئے۔انہیں دیکھتے ہی میں ان کی طرف لپکا۔ماموں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے میرا ماتھاچوما اور سینے سے لگایا۔اس کے بعد ماموں مجھے ایک جھونپڑی میںلے گئے جہاں میں اپنے گھر والوں سے ملا۔ گھر والوں کو اس حالت میں دیکھ کر مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ پھر ہم سب گھر والے شاہ عالمی (گتہ مارکیٹ) ہندو¶ں کی چھوڑی ہوئی ایک حویلی میں شفٹ ہو گئے۔ چند روز وہاں قیام کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ میری چھوٹی بہن معراج بی بی بھی پڈھانہ گا¶ں سے ہجرت کر کے نیواں احاطہ مولچند گڑھی شاہو رہ رہے ہیں۔ اپنے بہنوئی چوہدری فضل دین کے اسرار پر ہم بھی شاہ عالمی والی حویلی چھوڑ کر نیواں احاطہ کے ایک کوارٹر میں شفٹ ہو گئے اور محنت مزدوری کرنے لگے۔ سفر کی مشکلات، صعوبتوں، پریشانیوں اور بھوک و پیاس کی شدت کی وجہ سے میرا لختِ جگر محمد یٰسین اور ننھی گڑیا صغرٰی شدید بیمارہو گئے تھے۔اور اسی بیماری کے عالم میں اس دارِفانی کو چھوڑکر ابدی نیند سو گئے۔ 1951 ءمیں میرے ہاں ایک بیٹی خورشید بی بی کی ولادت ہوئی۔

1956 ءمیں میں اپنے بیوی بچوں اور بھائیوں کے ہمراہ دوبارہ ہندوستان (امرتسر)گیا۔ جہاں سب گلیاں، محلے اور مکانات تو موجود تھے۔ لیکن اب وہاں بسنے والوں میں کوئی بھی ہمیں جانتا نہ تھااور نہ ہی ہم کسی کو پہچان سکے۔ دن، ہفتوں میں اور ہفتے مہینے اورسالوں میں گزرتے گئے۔ ماں باپ کی شفقت سے محروم یتیموں جیسی زندگی گزارنے والا شاہ دین در در کی ٹھوکریں کھاتا ہوا جوان ہو گیا۔ 1983 کی ایک شام شاہ دین محنت مزدوری کے سلسلے میں گڑھی شاہو آیا۔ اس دوران اسے معلوم ہوا کہ یہاں نیواں احاطہ مولچند میں امرتسر سے آئے کئی مہاجر خاندان اپنے پیاروں کو قربان کر یہاں آباد ہیں یہ سنتے ہی اس کے دل کے زخم تازہ ہو گئے اور وہ نیواں احاطہ پہنچ کر بابا نتھو کے بارے لوگوں سے پوچھنے لگا۔پھر ان کے دروازے پر دستک دینے کے بعد جب بابا نتھو باہر آئے تو شاہ دین اپنے باپ کو دیکھتے ہی ''میاں جی میں تہاڈا پُتر شاہ دین'' کہتے ہوئے اپنے بچھڑے ہوئے باپ سے لپٹ کر بچوں کی طرح زاروقطار رونے لگا۔ بابا نتھو بھی اپنے ہم شکل لختِ جگر کو دیکھتے ہی سکتے میں آگیا۔پچپن میں چوٹ آنے کی وجہ سے شاہ دین کے دائیں بازو پر گہرے زخم کا نشان تھا۔جب بابا نتھو نے زخم کا نشان دیکھنے کے لیے اس کا بایاں بازو اوپر کیا تو شاہ دین فوراً بولا ''میاں جی زخم دا نشان میری سجی بانہہ تے اے۔ایہ زخم فلاں جگہ تے میری بانہہ تے لگا سی۔'' یہ سنتے ہی بابا نتھو بھی اپنے جگر کے ٹکرے کو سینے سے لگا کر زاروقطار رونے لگا۔ دونوں باپ بیٹے کیا ملے پورا محلہ خوشی سے نہال ہو گیا۔ بابا نتھو نے اللہ کا شکرادا کرتے ہوئے نوافل ادا کیے، مٹھائیاں تقسیم کیں، دیگیں پکوائیں اورخوب خوشیاں منائیں۔لوگ دور دراز سے شاہ دین کو دیکھنے آتے اور بابانتھو اور ان کے گھر والوں کو مبارکبادیاں دیتے رہے۔گویا عید کا سماں تھا۔''

محمد رمضان اس کہانی کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ زار و قطار رو رہے تھے اور ہم یہ سوچنے پر مجبور تھے کہ قیامِ پاکستان کے وقت لاکھوں مسلمانوں کا اپنے پیاروں کو قربان کرنے کا کیا مقصد تھا؟ یہ سب قربانیاں کسی معاشی تحفظ اور مادی ترقی کے لیے ہر گزنہیں تھیں بلکہ اس کا صرف ایک ہی مقصد تھا اور وہ مقصد پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے سائے میں نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا مکمل نفاذ ہے۔ ان کے علاوہ ہزاروں مرنے والے کئی راز اپنے سینوں میں لیے اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے جنہیں اپنی آپ بیتی کسی کو سنانے اور قلمبند کرنے کا موقع ہی نہ ملا۔

کیا ہمارے ملک کے نوجوانوں اور حکمرانوں کو ان قربانیوں کا ادراک ہے جو اس ملک کے حصول کے لئے دی گئیں۔ہمارے نوجوانوں کو خصوصی طور پرتحریکِ پاکستان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس تحریک کی خون کو گرمادینے والی رُوداد یں اور اس کے کارکنان اور لیڈروں کی جدوجہد، جذبوں اور قربانیوں کی ولولہ انگیز داستانیں پڑھتے ہوئے ہمارا سرفخر سے بلند ہوجاتاہے۔

اب سوال یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پیدا ہونے والی تیسری نسل بھی اب جوان ہوچکی ہے، کیا ہم وہ مقصد حاصل کرسکے ہیں؟ جس کا خواب ہمارے آبا¶اجداد نے دیکھاتھا؟ اور کیا ہم نے ان کے خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کر کے ان کی پاکستان کے لیے دی گئی جان و مال اور عزتوں کی قربانیوں کا وہ قرض چکا دیا ہے جو وہ جاتے ہوئے ہمارے کندھوں پر ڈال گئے تھے؟ اگر نہیں تو کیا یہ ان شہیدوں کے خون سے غداری نہیں؟ اور کیا اس وطنِ عزیز کے حصول کےلیے اپنی گردنیں کٹانے والے باپ، بھائی اوراپنی عصمت کی قربانی دینے والی مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور نیزوں،تلواروں، کرپانوں اور برچھیوں میں پروئے معصوم بچے ہمیں معاف کردیں گے؟

مزید :

ایڈیشن 1 -