” ہم مودی کے ہاتھ توڑ دیں گے لیکن ۔۔“

” ہم مودی کے ہاتھ توڑ دیں گے لیکن ۔۔“
” ہم مودی کے ہاتھ توڑ دیں گے لیکن ۔۔“

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن ) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے بھارتی وزیراعظم کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہاہے کہ ہم مودی کے ہاتھ توڑ دیں گے لیکن کشمیر پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے،مودی نے پاکستان کی شہہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے،پوری قوم کو عہد کرنا ہو گا کہ پاکستان کی شہہ رگ سے مودی کا ہاتھ الگ کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، کشمیر آزاد کروانا ہے تو ہمیں ٹرمپ کا سہارا یا پیسہ نہیں بلکہ اللہ کا سہارا چاہیئے،ہمیں ٹرمپ کارڈ نہیں بلکہ پاکستانی کارڈ چاہیئے۔

تفصیلات کے مطابقماڈل ٹاون میں جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کے لیے خون کے نذرانے پیش کیے گئے، پاکستان کو آزاد ہوئے 72 سال ہو چکے ہیں جو نعمت اللہ نے عطا کی اس کا سہرا قائداعظم کی لیڈر شپ کوجاتا ہے، لاکھوں مسلمانوں نے خون کے دریا کو عبور کیا۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مودی کشمیریوں کا قتل عام کررہا ہے، گجرات کے قاتل مودی نے اب کشمیریوں پر ظلم ڈھائے، قائداعظم نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ہم مودی کے ہاتھ توڑ دیں گے لیکن کشمیر پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے، مودی ہزاروں مسلمانوں کا قاتل ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ مودی نے 5 اگست کو کشمیر کے حوالے سے آرٹیکل ختم کر کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کی کوشش کی،کروڑوں پاکستانیوں کے دل کشمیر کے ساتھ دھڑکتے ہیں ، اب فیصلے کا وقت آ گیا ہے،مودی نے پاکستان کی شہہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے،پوری قوم کو عہد کرنا ہو گا کہ پاکستان کی شہہ رگ سے مودی کا ہاتھ الگ کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوال پوچھنا ہے کہ ایسا کیوں ہونے دیا گیاجبکہ پاکستان کی تاریخ عظیم کارناموں سے بھری ہوئی ہے؟بھٹو سے نواز شریف تک پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل کیا گیا،وزیراعظم نواز شریف نے امریکی صدر کی 5 ارب ڈالر کی پیشکش مسترد کر کے ملک کا نام اونچا کیا،65 کی جنگ میں پوری قوم افواج پاکستان بن گئی اور دشمن کا حملہ پسپا کیا، اسی سال فروری میں بھارت نے پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو ہمارے شاہینوں نے اس کو نکال کر رکھ دیا۔

میاں شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر میں ہونے والے ایک ایک ظلم کا حساب لینے کا وقت جلد آئے گا،اس کے لئے زبانی نہیں بلکہ عمل سے ثابت کرنا ہو گا،صرف باتوں اور تقریروں پر اکتفا کرینگے تو کشمیری ہمیں معاف نہیں کرینگے،کشمیریوں نے اپنا حق ادا کر دیا،آج ہمیں امریکی صدر کی جانب نہیں بلکہ اللہ کی جانب دیکھنا ہے پھر اللہ کی نصرت آئے گی، ہمیں امانت اور دیانت سے کام کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ مشرقی اور مغربی جرمنی کی جنگ کے بعد جرمن قوم نے ہمت نہیں ہاری اور آگے بڑھتے رہےپھر مشرقی جرمنی پکے ہوئے پھل کی طرح مغربی جرمنی کی جھولی میں آ گرا، دیوار برلن فوجی جنگ سے نہیں گری تھی بلکہ مغربی جرمنی کی معاشی طاقت کی وجہ سے ایسا ہوا،اگر کشمیر آزاد کروانا ہے تو ہمیں ٹرمپ سہارا یا پیسہ نہیں چاہیئے بلکہ اللہ کا سہارا چاہیئے،ہمیں ٹرمپ کارڈ نہیں بلکہ پاکستانی کارڈ چاہیئے، ہمیں اپنے شانوں کی طاقت پر یقین کرنا ہو گا،ایک وقت ضرور آئے گا کہ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اور پھر مودی کچھ نہیں کر سکے گا،ہمیں اپنے پیروں پر خود کھڑا ہونا ہو گا اور یہی سبق علامہ اقبالؒ نے بھی دیا تھا۔

میاں شہباز شریف نے کہا کہ ادھار کی زندگی ہے کہ کبھی ہم ٹرمپ کے پاس چلے جاتے ہیں،آج چین اور ترکی کے علاوہ کتنے ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہیں؟معاشی آزادی حاصل کئے بغیر ہم حقیقی آزاد نہیں ہو سکتے، مانگنے والے کبھی پسند کا سودا نہیں لے سکتے،آج بھی علامہ اقبالؒ کے پیغام پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کی عظیم قیادت میں یہ پاکستان انصاف، عدل، امانت اور دیانت کی امید پر وجود میں آیا،72 سال گزر گئے، دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ لاکھوں شہدا قبروں میں تڑپ رہے ہیں،آج ملک میں کوئی انصاف یا روزگار نہیں، میں تفرقہ والی بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ تفرقہ پیدا کرنے کے لئے موجودہ حکمران کافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم روز قیامت اپنے رب کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے؟ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اور وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں،ہم دنیا کو بتائیں کہ ہم بھیک کی بجائے محنت اور دیانت سے کام لیں گے اور بھیک کو دفن کر دینگے،اللہ محنت کے بغیر کچھ نہیں دیتا اس لئے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے ہمیں خود محنت کرنا ہو گی،ایک وقت آئے گا کہ مودی سرکار لیٹی ہو گی اور ہم کشمیر آزاد کروا لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تقاریر میں عمل نہ ہو تو سب کچھ وقت کا ضیاع ہے،اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ملک میں محبت امن کو فروغ دینا ہے،نواز شریف ملک سے اندھیرے دور کئے اور سی پیک لے کر آئے،آج وقت ہے کہ ہمیں ایک لڑی میں سب کو پرونا ہو گا اور عظیم تحریک شروع کرنا ہو گی۔

مزید : قومی