بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا، کشمیری عوام سے حق خود ارادیت کوئی نہیں چھین سکتا،بلوچستان کی سیاسی قیادت یک آواز ہو گئی

بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا، کشمیری عوام سے حق خود ...
بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا، کشمیری عوام سے حق خود ارادیت کوئی نہیں چھین سکتا،بلوچستان کی سیاسی قیادت یک آواز ہو گئی

  


کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا کہ بھارت جمہوری اور سیکولر ملک رہنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے آرٹیکل 35اے اور 370کے خاتمے سے بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے، کشمیری عوام سے حق خود ارادیت کوئی نہیں چھین سکتا، کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہونا چاہیے، ہم امن پسند ہیں لیکن اگر پاکستان کی سالمیت اور کشمیر پر کوئی آنچ آئی تو بھر پور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

یہ بات ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، سینیٹرز منظور کاکڑ، میر سرفراز بگٹی، انوارالحق کاکڑ، سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزراء و مشیران انجینئر زمرک خان اچکزئی،عبدالخالق ہزارہ، مٹھا خان کاکڑ، ملک نعیم بازئی،اراکین صوبائی اسمبلی بشریٰ رند، دنیش کمار، پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی علی مدد جتک،پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر ڈاکٹر منیر بلوچ،میر فرید رئیسانی،جسبیر سنگھ، خلیل جارج و دیگر نے بدھ کو ریلوے ہاکی گراؤنڈ میں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے منعقدہ جلسہ عام سے خطا ب کرتے ہوئے کہی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے رنگ، نسل، جماعت سے بالاتر ہوکر کشمیر سے یکجہتی کا پیغام دیا ہے ہندوستان عرصہ دراز سے پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں کر رہا ہے اسکا کا ثبوت بلوچستان سے گرفتار ہو نے والا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوہے ،ہم مودی کو پیغام دینا چاہتے ہیں انکی دہشتگردی کا ہم نے ہر سطح پر مقابلہ کیا اور آئند بھی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی دہشتگردی سے صوبے کا ہر طبقہ متاثر ہو ہے بھارت نے سوچا تھا کہ شاید وہ ہمیں الگ الگ کردیگا لیکن ہم آج اکھٹے کھڑے ہیں اور آر ایس ایس کی خواہشات ناکام ہوگئیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں میں ابدالی،غوری، سوری کا خون ہے یہ نام اب میزائل بن چکے ہیں جو ملک کے دفاع میں بھارت کی سرزمین پر گر کر اسے نیست و نابوت کردیں گے، ہم بہادر شاہ ظفر کی طرح ہتھیار نہیں ڈالیں گے بلکہ ٹیپو سلطان کی طرح خون کے آخری قطرے تک مقابلہ کریں گے، ہم نہ کبھی جھکے ہیں نہ بکے ہیں اور نہیں بکیں گے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ کشمیر کا حق آزادی غصب کر نے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے ہماری دھرتی کو خراب کرنے اورنوجوانوں کو ورغلانے والوں کی سازشوں کو کچل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہم نے لاکھو ں قربانیاں دی ہیں اور آگے بھی دینے سے گریز نہیں کریں گے،20کروڑ عوام پاکستان کے سپاہی ہیں،کشمیری عوام نےجس حوصلےسےظلم وجبرکامقابلہ کیاہے،انہیں سلام پیش کرتےہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کو ہر صورت میں آزادی ملے گی ،ہم مسلمانو ں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ ہمارے سیاسی نظریات اور اختلافات ایک طرف ہیں لیکن جب ملک کی بات آتی ہے پاکستانی قوم بلارنگ و نسل اکھٹی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزادی کی قدر عراق، شام، لیبیا جیسے ممالک سے پوچھیں جو اس نعمت سے محروم ہیں،مودی سرکار نے بر بریت کا قانون نافذ کردیا ہے ،کشمیر میں مظالم اور کرفیو سے بھارت کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے ،مودی سرکار اور ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی دہشتگرد حکومت اور ریاستیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کا دل کشمیر کے ساتھ دکھڑکتا ہے ہے ،بھارت کشمیر میں اپنے مظالم چھپانے کے لئے اقوام متحدہ کے مبصرین کو کشمیر میں رسائی نہیں دے رہا ،اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو اسکے اثرات پورے خطے پر مرتب ہونگے ،ہماری امن پسند ی کو کسی صورت ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ،ہم نے چند ماہ پہلے بھی بھارت کو جواب دیا اور مستقبل میں بھی موثر جواب دینے کی قوت رکھتے ہیں۔

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہو ئے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کے عوام گلدستہ کی مانند ہیں ،چند کاغذات کشمیر کی روح اور بدن کو پاکستان سے دور نہیں کرسکتے ،مودی اورانکے حواری کان کھول کرسن لیں کہ ہم علامہ اقبالؒ اور دیگر اکابرین کے پیروکار ہیں، کشمیر کا ایک ہی علاج ہے، وہ الجہاد،الجہاد ہے ۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے کشمیریوں کو کرفیو نافذ کرکے گھروں میں محصور اور قتل کیا جارہا ہے، بھارت نے کشمیر کی خصوصی اہمیت کو تبدیل کرکے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم آزاد کشمیر کی جدوجہد کو تیز کریں، کشمیر کی آزادی کی جنگ پاکستانی قوم لڑے گی، آج تجدید عہد کا دن ہے ،ہم بھارتی عزائم کو خاک میں ملائیں گے۔

صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ ہم عدم تشدد کے پیروکار ہیں، ہم نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے، مسئلہ کشمیر تشدد کی بجائے مذاکرات سے حل ہونا چاہئے لیکن بھارت زبردستی کشمیر پر قبضہ نہیں کرسکتا ،اگر تشدد ہوا تو بھارت سمیت کوئی نہیں بچے گا،کشمیریوں کو زبردستی اپنے ساتھ رکھنے کا بھارتی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا،کشمیر میں ریفرنڈم اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کیا جائے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایچ ڈی پی کے چیئرمین و صوبائی مشیر کھیل عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ بھارت نے 72سال سے کشمیریوں پر ظلم،بربریت،ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے ،بھارت دنیا کی بدنام ترین جمہوریت بن چکا ہے اور بطور ملک بھارت مکمل طور پر ناکامی کی طرف جارہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ آزادی ایک نعمت ہے، پاکستان کی آزادی میں بلوچستان کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ،آج بھی تمام جماعتوں نے یہ پیغام دیدیا ہے کہ ہم ملک کے دفاع اور کشمیر کے لئے اکٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ منافقین جنہوں نے آج کے جلسے میں شرکت نہیں کی اچھا ہوا کہ وہ نہیں آئے کیونکہ انکا چہرہ بھی عوام کے سامنے آنا چاہئے، پاکستان قائم و دائم رہنے کیلئے بنا ہے، اسے کوئی کچھ نہیں کرسکتا،بلوچستان سے جانے والے پیغام کی دنیا بھر میں اہمیت ہے ،مودی یہ سن لے کہ کشمیر پاکستان بنے گا ،بلوچوں کی تلوار کے نشان آج بھی دہلی میں موجود ہیں، آج ہمارے فلگ شگاف نہیں دہلی تک پہنچ گئے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر ڈاکٹر منیر بلوچ نے کہا کہ آج ہم جشن آزادی پر بھارت کی ناپاک فوج کی جانب سے کشمیر میں کیئے جانے والے مظالم کے خلاف خوشیاں نہیں منارہے،بھارت نے ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے، کشمیری عوام کواقلیت میں تبدیل کرنے کا بھارتی منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اراکین صوبائی اسمبلی بشریٰ رند، دنیش کمار،میر فرید رئیسانی،جسبیر سنگھ، خلیل جارج،ڈاکٹر ہارون اوردیگر نے کہا کہ بھارت نے اب تک کشمیر میں لاکھوں مظلوم افراد کو شہید بچوں کو یتیم اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی ہے بھارت کس منہ سے انسانیت کی بات کرتا ہے جب وہ اپنے ہی ملک اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہاء کر رہا ہے، آج ہم تجدید عہد کا دن منارہے ہیں کہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ ضرور بنائیں گے، پاکستان اور کشمیر روح اور بدن کی مانند ہیں، انہیں کبھی الگ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان کے دفاع کیلئے اقلیتیں سب سے آگے کھڑی ہیں، اب صرف کشمیر ہی نہیں خالصتاً بھی بنے گا۔جلسے کے اختتام پر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے ہاتھوں کی زنجیر بناکر کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ