مشیر تجارت کے خیالات اور چینی آٹے کی مہنگائی

مشیر تجارت کے خیالات اور چینی آٹے کی مہنگائی

  

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قائم کردہ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ملک میں مہنگائی، چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا اعتراف کیا ہے۔ عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیشن نے آج تک چینی کے ذخائر کو نہیں دیکھا، چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست تھا،چینی کی قیمت میں اضافے کا اس کی ایکسپورٹ سے کوئی تعلق نہیں، اضافے کی وجہ صرف مافیا کا گٹھ جوڑ نہیں،بلکہ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو چیلنج کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی کی برآمد کی اجازت کے وقت ملک میں چینی ضرورت سے10 لاکھ میٹرک ٹن زیادہ تھی، روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، آٹے اور چینی کی قیمتیں بھی بڑھیں، چینی پر سیلز ٹیکس بڑھانا بھی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ ہے، ملک میں گندم اور چینی کا سٹاک موجود ہے، تاہم ان دونوں اشیاء کی قلت کا تاثر پیدا کر دیا گیا ہے۔ اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے گندم اور چینی درآمد کی جا رہی ہے۔ مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ اشیائے خور و نوش کے حوالے سے ملک میں بزنس ماڈل نہیں، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

جب سے شوگر کمیشن کی رپورٹ آئی ہے اس پر طرح طرح کے تبصرے جاری ہیں۔ حکومتی حلقے لُڈیاں ڈال رہے ہیں کہ ”شوگر مافیا“ کے گرد شکنجہ کس دیا گیا ہے، پروپیگنڈے کا ایک طوفان بھی اٹھایا گیا ہے کہ حکومت کو اپنے پرائے کی کوئی پروا نہیں،جو کوئی بھی غلط کام کرے گا دھر لیا جائے گا۔ کمیشن کی رپورٹ کی مجرد اشاعت ہی کو اتنا بڑا کارنامہ قرار دیا گیا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے، حالانکہ اس عرصے میں چینی کی قیمتیں کئی شہروں میں سو کے ہندسے کو چھو چکی ہیں، چینی کی  پیداواری لاگت کی روشنی میں کمشن نے جن نرخوں کا تعین کیا ہے ان پر چینی کسی جگہ دستیاب نہیں، حتیٰ کہ سرکاری اہتمام میں کام کرنے والی یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے سٹوروں پر بھی نہیں، جسے سستی اشیاء کے لئے اربوں روپے کی سبسڈی بھی ملتی ہے۔ شوگر ملوں کے مالکان اپنی جگہ حیران پریشان ہیں اور داد رسی کے لئے عدالتوں کا رُخ کر رہے ہیں۔ ان کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ملوں کے گوداموں میں پڑی ہوئی چینی کو نئی تعریف کی رو سے ”ذخیرہ اندوزی“ قرار دے دیا جائے گا، حالانکہ سیدھی سی بات ہے کہ شوگر ملیں تین، چار مہینے چلتی ہیں اور اس عرصے میں جو چینی تیار ہوتی ہے وہ اگلے کئی ماہ میں فروخت ہوتی ہے،جو چینی تیار ہوتی ہے وہ جادو کی کسی ترکیب سے چشم زدن میں تو فروخت نہیں ہو سکتی، یہ اپنے مارکیٹنگ میکنزم ہی کے ذریعے فروخت ہو گی،لیکن جو طوفان اٹھایا گیا ہے اس میں ہر گناہ چینی کے مالکان کے کھاتے میں لکھ دیا گیا ہے۔

اس لحاظ سے عبدالرزاق داؤد کی آواز پہلی آواز ہے،جو سرکاری حلقوں سے اُٹھی ہے اور جس میں صورتِ حال کو معروضی تناظر میں دیکھا گیا ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ جس وقت حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی اُس وقت چینی کے ذخائر ملکی ضرورت سے دس لاکھ ٹن زیادہ تھے، انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ شوگر کمیشن نے آج تک چینی کے ذخائر نہیں دیکھے، عام تاثر تو یہی ہے کہ چینی کی برآمد کی وجہ سے قیمتیں بڑھیں، کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے، لیکن مشیر تجارت کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں سیلز ٹیکس کی وجہ سے بھی اضافہ ہوا ہے، ہم نے ان کالموں میں تجویز کیا تھا کہ حکومت اگر قیمتیں کم کرنا چاہتی ہے تو سیلز ٹیکس ختم کر کے ایسا کیا جا سکتا ہے، لیکن لگتاہے حکومت اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بھی دستبردار نہیں ہونا چاہتی اور قیمتیں بڑھنے کا ذمے دار ”مافیا“ کو قرار دے کر خود بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ اضافے کا ذمے دار جو بھی ہو، قیمت کو معقول حد کے اندر ر کھنا تو حکومت ہی کی ذمے داری ہے، جو نبھائی نہیں جا رہی۔”شوگر مافیا“ نے اگر قیمتیں بڑھائی ہیں تو اس کے خلاف کارروائی سے کس نے روکا ہے، لیکن تادمِ تحریر چینی کی مہنگائی کے کسی سبب کی باقاعدہ نشاندہی نہیں کی گئی، بس مذمت کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری  ہے، قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں، لیکن اعلانات یہی ہیں کہ قیمتیں بڑھانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت اگر عوام کے مفاد کو ترجیح دیتی ہے تو ضروری ہے کہ چینی پر سیلز ٹیکس فوری طور پر ختم کر دیا جائے جسے مشیر تجارت نے چینی کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔

دعویٰ ہے کہ ملک میں بہت سے کام پہلی مرتبہ ہو رہے ہیں،اِس لئے یہ بھی پہلی مرتبہ دیکھا گیا کہ گندم کے سیزن میں گندم کی قلت کا تاثر پیدا ہو گیا ہے، حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ہدف سے زیادہ گندم خریدی گئی ہے، خریداری مہم کے دوران ایسی اطلاعات بھی ملتی رہیں کہ کسانوں نے بیج کے لئے جو گندم رکھی ہوئی تھی وہ بھی زبردستی خریدی گئی، گھریلو ضروریات کے لئے رکھی گئی گندم بھی اُٹھا لی گئی، بیج تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی گندم خریدنے نہیں دی گئی، فلور مل مالکان بھی گندم نہ خرید سکے، اس کے باوجود حکومت کا ہدف پورا نہ ہوا، اب حالت یہ ہے کہ فلور ملیں گندم کی کمی کا رونا رو  رہی ہیں۔ کہیں کہیں ایسا بھی ہو رہا ہے کہ فلور ملوں کو چند بوری گندم دی جا رہی ہے۔ رحیم یار خان میں ملوں کے مالکان نے ہڑتال کر دی، کیونکہ ان پر الزام تھا کہ وہ سستا آٹا سندھ میں فروخت کر دیتے ہیں اِس لئے ان کا کوٹہ کم کر دیا گیا، اب پورے ملک میں آٹے کی ایک ہی قیمت مقرر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جو بظاہر ناممکنات میں سے ہے۔صوبہ خیبرپختونخوا میں ایسے دشوار گزار پہاڑی علاقے  بھی ہیں جہاں آٹے کی بار برداری کے اخراجات بہت زیادہ ہیں،وہاں اُن علاقوں کے مساوی قیمت کیسے رکھی جا سکتی ہے، جہاں آٹا آسانی سے پہنچایا جا سکتا ہے، ایک ہی قیمت مقرر کرنے کے لئے تو ہر جگہ سبسڈی دینا پڑے گی جو ایک پیچیدہ عمل ہے، آٹا اگر سرکاری نرخوں پر فروخت کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ فلور ملوں کی گندم کی ضروریات پوری کی جائیں، اب درآمدی گندم پر انحصار ہے،جس کی آمد پر قیمتیں شاید کچھ وقت کے لئے کم ہو جائیں گی،لیکن یہ بھی کئی عشروں میں پہلی مرتبہ ہوا کہ گندم کے سیزن ہی میں بیرون ملک سے گندم خریدنے کا فیصلہ کر لیا جائے، حالانکہ دعویٰ یہ ہو کہ حکومت نے خریداری کا ہدف پورا کر لیا ہے۔

عبدالرزاق داؤد نے چینی کی ایکسپورٹ کا جو دفاع کیا ہے اس کا جائزہ لے کر نئے سرے سے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے، جنہیں رو بہ عمل لا کر چینی کی قیمتیں کم کی جا سکیں۔ ایف آئی اے نے شوگر ملوں کے خلاف جس کارروائی کا منصوبہ بنایا ہے، اس کے منفی اثرات کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے عوام کی بنیادی ضرورت اور مطالبہ تو یہ ہے کہ اُنہیں چینی مناسب نرخوں پر ملے، انہیں اِس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ حکومت مافیا سے نپٹتی ہے یا اس کے محض دعوے کرتی ہے؟جس دیہاڑی دار نے ایک کلو (یا اس سے بھی کم) چینی خریدنی ہے وہ تو ان بھول بھلیوں کو سمجھ ہی نہیں سکتا،جس میں حکومتیں اُلجھی رہتی ہیں اور اربوں کمانے والے خاموشی سے کمائی کرتے رہتے ہیں۔اگر چینی بدستور ایک سو روپے کلو بکتی رہی تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عوام کے نام کی مالا جپ کر عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -