راحت اندوری بھی رخصت ہوئے

راحت اندوری بھی رخصت ہوئے
راحت اندوری بھی رخصت ہوئے

  

بھارت میں مقیم اردو کے صاحب طرز اور منفرد شاعر راحت اندوری مختصر علالت کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ انہیں دو روز پہلے کورونا پازیٹو کی رپورٹ کرنے پر ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا، تاہم وہیں ان کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ اس طرح شاعری کا ایک عہد تمام ہو گیا، ستر سال کی عمر میں راحت اندوری کی وفات ایک ایسے عالم میں ہوئی جب ان کی شاعری کا جادو پوری اردو دنیا میں سڑ چڑھ کے بول رہا تھا۔ بلا شبہ انہیں بھارت کا حبیب جالب کہا جا سکتا ہے، تاہم اس وضاحت کے ساتھ کہ راحت اندوری کی شاعری میں جہاں مزاحمت ملتی ہے، وہیں انہوں نے غزل کے رومانی رنگ کو بھی اپنی شاعری میں ماند نہیں پڑنے دیا۔  تاہم اردو غزل کے عمومی لہجے سے ہٹ کر انہوں نے بے ساختگی، طنز اور سادگی کے انداز کو اپنایا، جس نے ان کی غزل کو منفرد و دو آتشہ کر دیا۔

راحت اندوری کو اُردو سے عشق تھا، شروع دن سے وہ اردو کو اپنی پہچان بنانا چاہتے تھے۔ وہ یکم جنوری 1950ء کو اندور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد رفعت اللہ قریشی ایک ٹیکسٹائل ملز میں ملازم تھے۔ ابتدائی تعلیم نوتن سکول اندور سے حاصل کی، اس کے بعد اسلامیہ کالج کریمیہ اندور سے 1973ء میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ اردو کی لگن انہیں برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال لے گئی، جہاں انہوں نے 1975ء میں ایم اے اردو کیا۔ اردو کی پیاس پھر بھی نہ بجھی تو مدھیہ پردیش بھوج اوپن یونیورسٹی سے 1985ء میں پی ایچ ڈی کی اور ڈاکٹر راحت اندوری بن گئے۔ وہ بھارت میں رفتہ رفتہ اردو کے سب سے بڑے علمبردار بن کر اُبھرے ایک طرف وہ مسلمان تھے اور دوسری طرف ان کی اردو سے محبت مثال تھی۔ ان دونوں کی وجہ سے انہیں کئی حلقوں میں تعصب کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ جب ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا تو ان کا دل بہت کڑھتا تھا۔ ایسے میں وہ اپنا ابال شاعری کے ذریعے نکالتے۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں 

یہاں یہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

سبھی کاخو ن ہے شامل یہاں کی مٹی میں 

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

تاہم وہ عمومی طور پر عام آدمی کی آواز تھے انہوں نے بھارت کے پسے ہوئے طبقوں کی نمائندگی بڑی جرأت مندی سے کی وہ ہند سرکار کی عوام دشمن پالیسیوں کو کھل کر اپنی شاعری میں ہدف تنقید بناتے تھے۔ ان کی مقبولیت چونکہ چہار وانگ عالم پھیل چکی تھی، اس لئے بھارت میں کبھی کسی حکمران نے ان کی زبان بندی کا حوصلہ نہیں کیا۔ وہ خود بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے، اس لئے شاعروں میں چن چن کر ایسا کلام سناتے جو عوام کے دلوں کی آواز ہوتا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ مشاعروں کے شاعر تھے، مشاعرہ لوٹ لینا ان کے لئے ایک معمول کی بات تھی۔ انہوں نے پوری دنیا میں مشاعرے پڑھے اور کئی شہروں میں ان کے ساتھ تقریبات اور جشن راحت اندوری منائے گئے، وہ واجبی سی شکل و صورت کے انسان تھے۔ لیکن انہوں نے اپنی شاعری سے سپر سٹار سے بھی زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ اس پر مستزاد ان کے پڑھنے کا انداز تھا، وہ مشاعرے کو بھی ڈرامے کا ایک اسٹیج سمجھتے تھے جس پر الفاظ کے ساتھ ساتھ حرکات و سکنات بھی بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ شعر پڑھتے ہوئے سامعین کو ایک سحر میں مبتلا کر دیتے اور وہ اپنی سماعتوں کے ساتھ ساتھ آنکھوں کو بھی ایک پل جھپکنا بھول جاتے۔

آتے جاتے پل یہ کہتے ہیں ہمارے کان میں 

کوچ کا اعلان ہونے کو ہے تیاری رکھو

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے

نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو؟

لے تو آئے شاعری بازار میں راحت میاں 

کیا ضروری ہے کہ لہجے کو بھی بازاری رکھو

راحت اندوری نے شاعری کو ایک طاقتور ذریعہئ اظہار کے طور پر استعمال کیا۔ وہ جانتے تھے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی صورت حال قابل ستائش نہیں، پھر انہیں اس بات کا بھی احساس تھا کہ وہ ایک مسلمان ہیں اور بھارت کی سرکار ہمیشہ ہندوؤں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ بھارت میں ہندو شاؤٹزم کی برتری سے بھی آگاہ تھے۔ اس لئے ان کی کوشش ہوتی تھی کہ بھارت کے عام آدمی کی بات کریں، اسے کسی مذہب یا عقیدے کا لبادہ نہ اوڑھائیں، اس کے باوجود یہ اس لئے آسان نہیں تھا کہ ہندو انتہا پسند کسی شعبے میں بھی مسلمانوں کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ راحت اندوری کی شاندار ذہانت اور اور ہندو سماج میں جگہ بنانے کی دلیرانہ حکمتِ عملی تھی کہ جس نے انہیں بھارت کا سب سے بڑا اور نمائندہ شاعر بنا دیا۔ ان کے لہجے کی کاٹ دیکھئے۔

میں جبر ہوں تو جبر کی تائید بند ہو

میں صبر ہوں تو مجھ کو دعا دینی چاہئے

سچ بات کون ہے جو سر عام کہہ سکے

میں کہہ رہا ہوں مجھ کو سنوا دینی چاہئے

بھارت کہ جہاں اُردو سے نفرت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور ہمیشہ ہی سے ہندی رسم الخط میں اُردو کو ہندی کے قالب میں ڈھال کر اُسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، راحت اندوری نے اسے اپنی شاعری سے اُردو رسم الخط سمیت زندہ رکھا۔ حتیٰ کہ جب انہیں بھارتی فلموں کے گانے لکھنے کی پیشکش ہوئی تو وہاں بھی انہوں نے خالص اردو میں ہندو الفاظ کا تڑکا لگائے بغیر گانے لکھے اور مقبول بھی ہوئے۔ اگر یہ کہا جائے کہ راحت اندوری کی وفات سے اردو ادب کا ایک عہد تمام ہوا ہے، تو بے جا نہیں ہوگا، انہوں نے ایک عرصے بعد اپنی شاعری سے ہر طبقے کو متاثر کیا، وہ شاعری کو عام آدمی کی دسترس میں لے آئے۔ بوجھل الفاظ یا مرضع شاعری کی بجائے انہوں نے سادہ اور عام لفظوں میں انسانی جذبات کو اس طرح سمویا کہ ان کی شاعری دلوں کی آواز بن گئی۔ آخر میں ان کے چند اشعار!

اپنی تعبیر کے چکر میں مرا جاگتا خواب

روز سورج کی طرح گھر سے نکل پڑتا ہے

اس کی یاد آتی ہے سانسوں ذرا آہستہ چلو

دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے

عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے

میں تو چلتے ہوئے دریاؤں کا اک پتھر تھا

تم تو دریا تھے مری پیاس بجھاتے جاتے

مزید :

رائے -کالم -