"تابعدار "والدین

"تابعدار "والدین

  

اسلام میرے رب کا پسندیدہ نظام ہے۔ یہ دین فطرت ہے۔انسانی مزاج اور طبیعت کے عین مطابق بھی ہے۔ اس میں ایک کامیاب و خوشحال زندگی گزارنے کے لئے و ہ تمام رازورموز موجود ہیں جن پہ عمل کر کے ہر انسان اپنے رب کو، اس کے بندوں کو اور خود کو خوش رکھ سکتا ہے۔ بس عبادات و معاملات میں تھوڑا توازن چاہیے۔ اللہ کی حکمت دیکھئے کہ اپنی عبادت کے فریضے کے فوراً بعد والدین کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کو درجہ عطا کیا۔ کتاب لاریب کے کئی مقامات اس کی گواہی میں  احکام موجود ہیں۔وہ مہربان رب ایسا کیوں نہ کرتا، رنگ ونور سے بھری اس دنیا میں ہر انسان کچھ رشتوں سے جُڑا ہے۔شائد ہر رشتہ خود غرض، ہر تعلق ریاکاری ہے! ایک اور صرف ایک ہی رشتہ ہے جو سر تا پا خلوص، اول تا آخر بے لوث اور ہر لحاظ سے بے مثل و بے مثال ہے۔ جی ہاں وہ ماں باپ کا رشتہ ہے۔

محترم قارئین!

کوئی وقت تھا جب والدین کو واقعی حقیقی عزت و تکریم ملا کرتی تھی۔ان کے سامنے نظریں نیچی رکھنا، ان کے سامنے یا برابر میں بیٹھنے سے اجتناب کرنا، بات کرتے وقت آواز دھیمی اور لہجہ نرم رکھنا،کانوں میں  ان کی آواز پڑتے ہی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جی جی کرتے ہوئے دست بستہ حاضر ہو جانا، نقاہت یا تھکاوٹ کے باعث ان کی کراہ نکلے تو بے چین ہو جانا اور اس طرح کی ہروہ بات اور ہر وہ عمل جس میں کہیں بھی گستاخی یا برتری کا شائبہ ہو، اس سے ارادتاًاور عادتاً اجتناب کرنا، یہ ماورائی قصّوں کی وارداتیں نہیں، بلکہ ماضی قریب کی وہ اقدار ہیں جو گھروں میں سکھائی جاتی تھیں، مکتب میں پڑھائی جاتی تھیں اور چوپال میں سنائی جاتی تھیں۔ تب اولاد تابعداری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے درپے ہوتی تھی۔ اگر آج ان میں سے کہیں کوئی جھلک نظر آجائے تو انہونی سی بات لگتی ہے۔

وقت نے جب جدت اور جدیدیت کے نام پر کروٹ بدلی تو اس کے نیچے جہاں اور بہت کچھ دب کے رہ گیا، وہاں یہ اقدار بھی  مَنوں مٹی تلے چلی گئیں۔ آج کے والدین اگر اپنے بچوں کو ان اقدار میں سے کسی ایک کا حوالہ دینے کی کوشش کرتے ہیں تو بچے مسکرا کے نہیں، بلکہ زناٹے دار قہقہہ لگا کے گویا ہوتے ہیں:

"کس زمانے کی بات کرتے ہو

ہمیں بہکانے کی بات کرتے ہو"

ہائے کس قدر افسوس کی بات ہے کہ دور جدید میں جہاں باہمی رشتوں میں خلوص کی جگہ بغض، لالچ اور کینہ نے لے لی ہے، وہاں اس کا سب سے بڑا شکار والدین ہوئے ہیں۔ آج کے ہو س خوردہ ماحول میں صبح سے رات گئے تک بوڑھا والد صرف اس لئے اپنی بساط سے زیادہ مشقت کرتا ہے کہ تعلیمی اور عملی میدان میں مقابلہ کئی گنا بڑھ گیاہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے لخت ِ جگر اور نور نظرِ تنگی رزق یا عدم تکمیل ضرورت سے پریشان ہو کر مقابلے سے باہر ہو جائیں۔ سرِ شام جب بوڑھا والد دن بھر کی مشقت سے چُور ہر دُکھ کو دبائے، سوچوں میں گم، اولاد کے سہانے مستقبل کے خواب لئے دروازے پر دستک دیتا ہے تو دروازہ دیر سے کھلتا ہے کیونکہ اس کی بوڑھی شریک حیات قدم گھسیٹتے ہوئے کُنڈی کھولنے آتی ہے۔ جونہی بوڑھا گھر کے اندر قدم رکھتا ہے، اُس کی جوان اولاد اپنے اپنے موبائل فون لئے صوفوں اور چارپائیوں پر دراز کہیں بہت دور کی دنیا میں مصروف  نظر آتی ہے۔ والد کو دیکھ کر ان کے پاس بیٹھنے اور اس کی تھکاوٹ اپنے محبت بھرے رویے سے کم کرنے کی بجائے کروٹ بدل لیتی ہے، بوڑھاوالد سب کی طرف نظر دوڑانے کے بعد سب کو "مصروف ِ کار"پا کر ایک ٹھنڈی آہ بھر کے اپنی دن بھرکی تھکان میں کئی گنا مزید بوجھ ڈال کر چارپائی پرڈھیر ہو جاتا ہے۔ یہ صورت ِحال کسی ایک گھر کی نہیں، گھر گھر کی ہے۔

میرے ایک دوست جو گورنمنٹ میں ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں، جنہوں نے نیک نیتی، محنت اور خدا کے بھروسے پر بہت نچلی سطح سے اپنے عملی سفر کا آغاز کیا، جو اپنی ایمانداری اور پیشہ وارنہ قابلیّت کی وجہ سے جملہ سرکاری محکموں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ایک دن ملاقات کے لئے تشریف لائے تو انہیں دیکھتے ہی میرے اندر فطری طور پرخیال آیاکہ ان سے لوگ علم کے ساتھ ساتھ ادب و اخلاق بھی سیکھتے ہیں۔ ان کے بچے تو لوگوں کے لئے اعلیٰ اخلاق و کردار کا نمونہ ہوں گے۔ مَیں اسی سوچ کے تحت پوچھ بیٹھا:

" سرآپ کے بچے تو ما شاء اللہ بہت تابعدار ہوں گے"۔

 میری بات سن کر ان کی گردن یکدم جھُک گئی اور مَیں نے دیکھا کہ ان کی گود میں دوموٹے موٹے آنسوؤں کے قطرے گرے اور آدھی گود کو بھگو گئے۔ 

" میری اولاد تو بہت اچھی ہے، مگر فی زمانہ ان کی جتنی تابعدار ی ضروری تھی شاید مَیں نہیں کر پایا۔ اس میں ان کا نہیں، یقیناً میر ا ہی قصور ہے"۔ انہوں نے ٹھنڈی آہ بھرکے کہا۔

مجھے اپنے دوست کا ایک ایک لفظ زخم رسیدہ، درد سے کراہتا ہوا محسوس ہوا۔

مَیں نے کہا: ”یار!تابعداری تو اولاد کو کرنی چاہیے نہ کہ والدین کو “۔

اس پروہ کہنے لگے: ”عاربی صاحب! تابعدار اولاد کا زمانہ بیت گیا، وہ اقدار قصّہ پارینہ بن گئیں، آج کے جدید روّیوں، اعلیٰ تعلیم اور معاشرتی رابطوں نے والدین کو اس جگہ پرلا کھڑا کیا ہے جہاں اپنی محنت کی کمائی سے بنائے ہوئے گھر میں رہنے اور دو وقت کی روٹی کے حصول کے لئے اپنی اولاد کی تابعداری نا گریز ہو گئی  ہے"۔

مَیں نے اپنے دوست کی بات سن کر ارد گرد کے ماحول پر نظر دوڑائی تو مجھے ہر گھر میں تابعدار والدین دکھائی دیئے۔

مَمیں نے اپنے دوست سے آخری بات پوچھی: ”آپ اپنے بچوں سے کیا توقع رکھتے ہیں“؟ملاحظہ فرمائیے گا،کیا کہا۔سچی بات تو یہ ہے کہ ان کی بات سن کر میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ کہنے لگے:

قبل از موت، اتنی سی خواہش ہے!

میرے بچے مجھے، باپ سمجھ لیں 

ہائے،یہ سب زمینی حقائق نامی ناگ ہیں جن کے بل ہر گھر میں پڑ گئے ہیں۔یہ زہر گھرکے ہر صحن میں پھیل چکاہے۔کہیں کم تو کہیں زیادہ۔ سوچنے کی بات مگر یہ ہے کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے یا نکل رہے ہیں؟اس کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ جن والدین کی دعائیں بچوں کی زندگی کو گل و گلزار کر دیتی تھیں، دل اطمینان،ذہن آسودگی اور گھر برکت سے بھرے رہتے تھے،وہ برکتیں، وہ رونقیں اور وہ روشنیاں گھروں  سے رخصت ہو چکیں۔ اس کا  روحانی اور مادی ہر اعتبار سے اولاد کو بے حد خسارہ ہوا ہے۔دوسرا نقصان یہ کہ موجودہ نسل دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کے ان انمول تجربات سے فائدہ اُٹھانے سے محروم ہو گئی ہے جو انہوں نے ایک عمر گزار کے حاصل کئے تھے۔اور جو وہ بڑے خلوص کے ساتھ اولاد کی جھولی میں ڈالنا چاہتے تھے۔یہ بات طے ہے کہ کبھی کوئی شخص والدین سے زیادہ اولاد کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ تیسرا نقصان یہ کہ دنیا بہرحال خدا کے بنائے نظام اور طے کردہ اُصولوں پر استوار ہے۔ خدائی نظام کے اصولوں میں سے ایک اصول مکافات عمل بھی ہے۔سادہ الفاظ میں اس کا مطلب ہے ”جیسا کرو گے،ویسابھرو گے“۔ظاہر ہے آج کی اولاد اپنے ماں باپ کے ساتھ جو سلوک روا رکھے گی، کل کو ان کی اولادیں بھی یہی سلوک ان کے ساتھ روارکھیں گی۔

 نوجوانو!یہ سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔آج بھی وقت ہے والدین کو تابعدار کرنے کی بجائے خود تابعدار بن جاؤ۔

مزید :

رائے -کالم -