مندر کی سیاست یا (نا)دیدہ تصادم کی راہ

مندر کی سیاست یا (نا)دیدہ تصادم کی راہ
مندر کی سیاست یا (نا)دیدہ تصادم کی راہ

  

 محکمہ سیاحت کی اشتہاری مہم سے متاثر ہو کر ایک یورپی جوڑا پاکستان آتا ہے۔ ایئر پورٹ پر اتر کر وہ ہوٹل میں قیام کرتا ہے۔اگلے دن اس نے روہتاس کے مشہور قلعے کی سیر کرنا ہے۔اس جوڑے کو بتایا جاتا ہے کہ دیہی علاقوں میں کھانے پینے کی سہولیات معیاری نہیں ہیں لہٰذا قلعہ روہتاس کو جاتے وقت وہ کھانے کی ٹوکری میں ہوٹل ہی سے کھانا لے لیں۔ گیارہ بجے روہتاس پہنچتے ہیں۔ دونوں پروفیسر ہیں، لہذا دن بھر قلعے کا جائزہ باریک بینی سے لیتے ہیں۔ ویڈیو بناتے ہیں۔درخت کے نیچے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ شام چار پانچ بجے واپس اسلام آباد کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ سوچ کر بتائیے کہ ان دس گھنٹوں میں اس جوڑے کو وہ کون سا مسئلہ درپیش رہا ہوگا جس کا پاکستان میں کوئی حل موجود ہی نہیں۔ ممکن ہے اس تجربے کے بعد وہ نہ صرف آئندہ خود پاکستان نہ آئیں بلکہ دیگر ہم وطنوں کو بھی منع کردیں۔ آپ ان کا یہ مسئلہ سوچئے، میں آپ کو ل سیاحت کے ایک اور گوشے سے متعارف کراتا ہوں۔

ملک میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد کم و بیش ختم ہو چکی ہے، لہذا اب یہ بات وزراء  اور حکام کے بیانات میں نہیں ملتی، ورنہ  نواز شریف اور بے نظیر دونوں حکومتوں کے وزراء  حدودقوانین کو سیاحت کے فروغ نہ پانے کا ذمہ دار دیا کرتے تھے۔ ایک ہی بات پر زور ہوا کرتا تھا کہ غیر ملکی سیاحوں کی پاکستان نہ آنے کی واحد وجہ یہاں ملک میں کھلے عام ام الخبائث کی عدم دستیابی ہے۔ گویا غیر ملکی سیاح یہاں کی تاریخ، یہاں کے رسم و رواج اور روایات کی آگہی حاصل کرنے نہیں آتے بلکہ شراب پینے آتے ہیں جو انہیں یہاں نہیں ملتی لہذا وہ آتے ہی نہیں۔ پرویز مشرف نے حدود قوانین کے دانت نکال کر انہیں پوپلا کر دیا۔ ادھر صوبائی حکومتوں نے لائسنس اور پرمٹ کا  بتدریج اور خاموش اختیار استعمال کرتے ہوئے شراب کی دکانوں میں اتنا اضافہ کردیا کہ اب شرابیوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ حدود قوانین میں درج وہ دوسری 'رکاوٹ' بھی پرویز مشرف نے دور کر دی جو کارپوریٹ کلچر کا لازمی جزو ہے۔ اب آج کل ملک میں خوراک کی کوئی قلت نہیں۔ بجلی کی کمی دور ہو چکی ہے۔ امن وامان دوبارہ ستر کی دہائی کے برابر جا بیٹھا ہے۔ تو پوچھیے ناں ان وزرا سے کہ قبلہ گاہی آپ کے تمام مطالبات پورے ہونے پر بھی غیر ملکی سیاحوں کی آمد وہیں کی وہیں نہ ہونے کے برابر ہے، اب کیا حکم ہے۔

نظریہ پاکستان کے خلاف کام کرنے والے تمام مختلف النوع عناصر ریاستی اداروں میں خوب جم کرگھسے ہوئے ہیں،لیکن  اب کی بار ہندو کھل کر سامنے آئے ہیں۔ دیگر کے نام مسلمانوں جیسے ہیں، لیکن یہ تمام مسلم غیر مسلم ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں۔ یاد کیجئے، مسلمانوں نے جمعہ کی چھٹی جیسی بے ضرر سی کامیابی بے پناہ قربانیوں کے بعد کیاحاصل کی کہ ان عناصر نے فروغ برآمدات کے نام پر مل جل کر یہ چھٹی ختم کرا کر ہی دم لیا کہ صاحب ہم دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں، باقی دنیا  اتوار کو چھٹی کرتی ہے، ہمارے ہاں جمعہ کی وجہ سے ہمارے کام کے دن چار رہ جاتے ہیں، اگر جمعہ کی چھٹی ختم کرکے اتوار کو کر دی جائے تو برآمدات کو فروغ حاصل ہو گا، وغیرہ وغیرہ۔نواز شریف کے کتاب دشمن تجارتی ذہن نے اس بریفنگ کو قبول کرتے ہوئے اپنے پہلے دور میں جمعہ کی چھٹی ختم کرنے کا نہایت ظالمانہ فیصلہ کر تو لیا لیکن برآمدات ہیں کہ کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہیں۔ پھرحدود قوانین ختم کرنے کے لیے فروغ سیاحت کا نیا ناٹک لایا گیا۔ اب شراب بتدریج اور باآسانی ملنا شروع ہو گئی ہے اور حدود قوانین غیر موثر کر دیئے گئے ہیں لیکن غیر ملکی سیاح ہیں کہ پاکستان کا رخ ہی نہیں کرتے۔ عیار اور شاطر افراد  ایک ایک کرکے اسلام، اسلامی شعائر اور اسلامی قدروں کے پر جس چالاکی سے نوچ رہے ہیں، دینی فکراور علمائے کرام کے لیے اس میں سوچ بچار کا خاصا سامان موجود ہے۔

غیر ملکی سیاحوں کی آمد بڑھانے کے لئے یہی عناصر اب ایک نیا اور شاطرانہ تصور لائے ہیں جس سے غیر ملکی سیاح تو کیا خاک آئیں گے، ہندوتوا کے پرپیچ تصورات ملک کے ہر گوشے میں جگہ بنانے میں کچھ کامیابی ضرور حاصل کر لیں گے۔ آل پاکستان ہندو رائٹس موومنٹ کے سربراہ ہارون سرب دیال نے وزیراعظم عمران خان کو یہ بریفنگ دی کہ ملک بھر میں کل 428 مندر ہیں۔ صرف بیس مندر فعال ہیں۔ باقی 408 مندروں کو متروکہ وقف املاک بورڈ نے ہندو آبادی نہ ہونے کے باعث اسکولوں، پارکوں، دکانوں یا مکانوں میں بدل دیا ہے۔(ہندوؤں کی غالب آبادی ہجرت کر کے ہندوستان جا بسی ہے۔ متروکہ وقف املاک بورڈ نے ماضی میں یہ مناسب فیصلہ کیا کہ جہاں ہندو آبادی موجود ہی نہ ہو، وہاں ان مندروں کا کوئی دوسرا مصرف نکال کر حاصل شدہ آمدنی بورڈ کے تصرف میں لائی جائے)۔ سرب دیال صاحب کی تجویز تھی کہ اگر ان مندروں کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے تو بھلے ملک میں ہندو نہ سہی،  بے شمارغیر ملکی سیاح آئیں گے، کروڑوں ڈالر زرمبادلہ ملے گا،خوشحالی آئے گی، وغیرہ وغیرہ۔ جمعہ کی چھٹی ان عناصر نے مل کر اسی طرح ختم کرائی تھی، تجارتی سرگرمیوں کے نام پر حدود قوانین غیرموثر کرائے تو انہی لوگوں نے اور بتائیے ذرا! کتنی برآمدات بڑھیں؟ بڑ ھیں کیا مطلب، مائل بہ تنزل ہوتی گئیں۔ اور اب ہندو لابی کی کوششوں اور وزیراعظم منظوری سے ہندوتوائی فروغ کی خاطر متروکہ وقف املاک بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ ابتدا میں ہر سال دو مندر بحال کئے جائیں گے۔ سیالکوٹ اور پشاور میں یہ کام مکمل ہوچکا ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا اور یہ تمام ناٹک مذہبی سیاحت (Religious Tourism) کے فروغ کے نام پر ہے۔ میں نے پاکستان آئے غیر ملکی سیاح جوڑے کا سب سے بڑا مسئلہ پوچھا تھا جو انہیں صبح سے شام تک درپیش رہا ہوگا اور جس کا کوئی حل ہی نہیں۔ آپ نے جواب سوچ لیا ہوگا۔ وہ مسئلہ غیر ملکی جوڑے کو ایسا کھا گیا کہ اگلے ہی دن اس نے واپسی کا ٹکٹ لے کر عہد کیا کہ وہ آئیندہ کبھی پاکستان نہیں آئیں گے، نہ اپنی نسلوں میں سے کسی کو آنے دیں گے۔ وہ دونوں میاں بیوی سارا دن بیت الخلا کی تلاش میں رہے۔ انہوں نے جس کسی سے پوچھا، اس نے ہنس کر ٹال دیا۔ مرد نے تو دیوار کی اوٹ میں کہیں کھڑے کھڑے حاجت پوری کرلی، اب عورت کے بارے میں لکھوں تو میں کیا لکھوں؟ اور ہمارے وزیراعظم ہیں کہ اس احمقانہ مذہبی سیاحت کے نام پر اربوں ڈالر کمانے کے خواب دیکھ رہے ہیں، چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل۔ جہلم اور روہتاس کو تو ایک طرف رکھیے،قارئین کرام، اسلام آباد, کراچی, لاہور کسی شہر میں جا کر عوامی بیت الخلا(Public toilet) کا سراغ لگائیے، یہ گوہرِ نایاب مل جائے تو انتظار کریں کہ وزیراعظم کو اپنی "غیر نصابی سرگرمیوں " سے کب فرصت ملتی ہے. جب دونوں کام ہو جائیں تو ان کی خدمت میں عرض کریں کہ ملک میں مذکورہ انسانی ضرورت پوری کئے بغیر آپ 428 مندروں کی نئے سرے سے جو تعمیر کریں گے، ان میں سے ہر مندر کو آپ نے تاج محل بنا دیا، تب بھی یہ مندر بھوت بنگلے ہی رہیں گے، غیرملکی تو ان کو دیکھنے آنے سے رہے۔

ابھی اسلام آباد کے ویران علاقے میں ایک مندر کی چاردیواری پر کام شروع ہوا تو بدون قیادت عوامی ردعمل سب نے ملاحظہ فرما لیا۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔میں نے تو اس مطالعے سے ایک نتیجہ یہ بھی نکالا ہے کہ ملکی فیصلہ ساز افراد اور اداروں کو کوئی(نا) دیدہ قوت یوں لیفٹ رائٹ، لیفٹ رائٹ کرا رہی ہے کہ آئیندہ دنوں میں ہم کسی خوفناک مذہبی تصادم کی طرف لڑھکتے ہی چلے جائیں۔ پنجاب اسمبلی کا تحفظ بنیاد اسلام بل اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔  مسلمانوں کے گنجان محلوں میں ماضی کے اوراق گم گشتہ یا ان غیر موجود مندروں کی نئی تعمیر پر پوجا پاٹ کے لیے سلیمان علیہ السلام کے جن تو یہاں آنے سے رہے۔ جو غیر ملکی سیاح آئیں گے(؟) وہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ ملک میں بڑی مشکل سے رواداری کو فروغ ملا ہے کہ اچانک سو فیصد مسلمان آبادی کے گنجان محلوں میں نئے سرے سے مندر تعمیر کیا ایک نیا فتنہ کھڑا کرنے کی شروعات میں سے نہیں؟ اس بات پر ہندو اور ان کے اکابر تھوڑی سوچ بچار کر لیں تو یہ ان کے اپنے حق میں بہتر ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ ہندو آبادی کے اکابر کیوں ایک ایسی حکومت پر انحصار بڑھاتے چلے جارہے ہیں جس کا اپنا وجود کسی "اور" کی مرضی و منشا پر منحصر ہے. زیادہ ماضی بعید میں نہ جائیں, افغانستان میں اس "اور" کے پروردہ مجاہدین کا  حشرگوانتانامو کے جھیل پانیوں میں یاد کر لیں، ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔ تو کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ ہندو آبادی اپنی ضرورت کے مندر خود تعمیر کرے جیسے مسلمان اپنی مسجدیں خود تعمیر کرتے ہیں اور 96 فیصد مسلمان آبادی سے چھیڑخانی نہ کرے۔ ابھی تو سندھ میں صرف ایک نان اسٹیٹ ایکٹر جناب میاں مٹھو سے نمٹنا ہندو آبادی کے لیے کار دشوار ہے۔ اگر تعمیر مندر والی یہ نقب زنی نہ رکی تو امکان ہے کہ ہر گھر میں ایک نہ ایک اتھرا سا میاں مٹھو بنتا چلا جائے گا۔ اور یوں ملک میں امن وامان کا مسئلہ دوبارہ گمبھیر ہوتا چلا جائے گا(باقی آئندہ)

مزید :

رائے -کالم -