یوم آزادی، اللہ کے انعام پر شکر ادا کریں 

یوم آزادی، اللہ کے انعام پر شکر ادا کریں 
یوم آزادی، اللہ کے انعام پر شکر ادا کریں 

  

ملت پاکستان آج ملک بھر میں 73 واں یوم آزادی منا رہی ہے، سب پاکستانی بلا لحاظ رنگ و نسل اور مذہب اس نعمت خداوندی پر اس کا شکر ادا کریں گے جس نے نہ صرف یہ خطہ زمین عطا کیا بلکہ ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود اسے محفوظ رکھا اور ہمیں اس قابل بھی بنایا کہ ہم اس کا دفاع بھی کر سکیں۔ آج کا یہ دن یوں بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ 73 سال قبل صد ہا قربانیوں کے بعد جو ملک حاصل ہوا وہ ہماری اپنی کوتاہیوں ہی کی وجہ سے دو ٹکڑے ہوا اور آج برصغیر کے نقشے میں یہ ایک کی بجائے دو ملکوں کی صورت میں موجود ہے۔ ہمارے لئے مقام عبرت ہے اور پھر سے یہ اعادہ کرنا پڑتا ہے کہ ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ اگرچہ ہم اپنے عمل سے اس کی نفی کرتے چلے آ رہے ہیں، بہر حال آج قومی پرچم لہرائے جائیں گے، توپوں کی سلامی ہو گی مزار قائد اور مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی اور قومی ترانوں سے فضا گونجے گی۔ یوں ہم سب اس مملکت خدا داد کے تحفظ اور سلامتی کے لئے دعا گو ہوں گے۔

یہ ان حقائق و ارادوں کی ایک اجمالی سی جھلک ہے۔ در حقیقت آج 73-72 سال بعد بھی ہم تمام تر ترقی اور تین نسلیں گزر جانے کے بعد بھی استحکام ملی سے محروم ہیں۔ ہم آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کو گوارا نہیں کرتے بلکہ برداشت نہیں کرتے۔ ہم سبھی عقل کل ہیں۔

مشاورت اور جمہوریت کا نام لیتے ہیں لیکن حقیقتاً عمل سے عاری اور ذہنی طور پر آمر ہیں، اپنے سامنے کسی دوسرے کا موقف اور بیان سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ سیاست میں برداشت اور تحمل عنقا ہے حزب اختلاف ممنوع شجر ہے جسے ہونا ہی نہیں چاہئے اور حزب اقتدار ملک کے لئے اتنی ہی نقصان دہ ہے جتنا کوئی دشمن ہو سکتا ہے۔ اس لئے اسے بھی نہیں ہونا چاہئے، بدعنوانی رشوت، جھوٹ، غلط بیانی، منافع خوری، دلالی، ذخیرہ اندوزی اور دھوکا دہی سند ہے ہم زبان سے ان برائیوں کو ذکر کرتے ہیں لیکن عملی طور پر صفر ہیں بلکہ جس کو جو موقع ملتا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھانے میں ”غفلت“ نہیں کرتا آج جو بیانات جاری ہوں گے، جو خطاب اور تقریریں کی جائیں گی۔ ان سب میں ان برائیوں کا قلع قمع اور اتحاد و اتفاق کی بات ہو گی اور یہ رسم ہے جو ہرسال کی طرح آج بھی  ادا کی جائے گی۔ پھر کھیل ختم اور پیسہ ہضم!

ہم نے یہ سب عرض حقیقت حال کے مطابق کی ہم اول سے اب تک قومی اتفاق رائے کی گزارش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ اب تک صدابصحرا ہی رہی اور ہم ہمارا ملک پہلے سے بھی زیادہ مشکلات سے دو چار ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اگر ذرا بھی دیانت داری سے اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو واضع اور صاف نظر آئے گا کہ ہماری مشرقی اور مغربی سرحدیں محفوظ نہیں۔ تمام تر قربانیوں اور جدوجہد کے بعد بھی خطرات موجود ہیں اور دور دور تک ان کے حل کی توقع نظر نہیں آتی۔ بھارت کے متعصب ہندو برسر اقتدار اور یہ قیادت اسرائیل کی حکمت عملی اپنا کر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بھارت میں رہنے اور پیدا ہونے والے مسلمانوں کو بھی برداشت کرنے پر تیار نہیں۔ مغربی سرحد پر قدرے اطمینان ہے لیکن یہ بھی مستقل روگ ہے کہ افغان حکمران، پاکستان سے مخلص نہیں اور بھارت نواز ہیں اور انہی کے تعاون سے بھارتی ”دہشت گرد ایجنسی را“ ہمارے ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں جاری رکھے ہوئے ہے، ہماری معیشت کمزور ہے، بے روز گاری، مہنگائی ا ور صحت و تعلیم کے امور بھی درست نہیں ہیں اور ہم چین کی بانسری بجانے میں مصروف اور اختلاف کرنے والوں کو نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

ان حالات میں ہمیں جس استحکام کی ضرورت ہے وہ ہماری اپنی پالیسیوں اور حکمت عملی ہی کے باعث حاصل نہیں ہو پا رہا، لاہور میں منگل کو جو ”معرکہ آرائی“ ہوئی وہ مزید بڑھ رہی ہے۔ نیب نے جو ایف آئی آر درج کرائی وہ ایک دلچسپ تماشا ہے۔ اس میں مسلم لیگ (ن) کے حاضر اور غیر حاضر سب اراکین اسمبلی کے نام لکھوا دیئے گئے اور کسی اہم راہنما کو بھی نہیں چھوڑا گیا حتیٰ کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک منتخب راہنما بھی ملزم اور ٹھوکر نیاز بیگ کے ہنگامے میں ملوث ہیں۔ ہم اس حوالے سے مزید بات نہیں کرتے کہ ہمارے ساتھی سعید چودھری نے اچھا تجزیہ کیا اور ایف آئی آر کی نقل بھی پوسٹ کی ہے۔

یہ سب اپنی جگہ ہمیں اب ایک اور خدشہ لاحق ہوا ہے کہ جب سے تحریک انصاف کو اقتدار ملا تب سے سندھ حکومت سے تعلقات کار قائم نہیں ہوئے جو آئینی اور جمہوری بھی ہیں اور ہونا چاہئیں۔ لیکن یہاں محاذ آرائی ہی رہی، ضرورت باہمی طور پر اتفاق رائے سے مسائل حل کرنے کی تھی اور ہے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ بلکہ حالات نے مزید خراب صورت اختیار کر لی ا ور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس حوالے سے بھی ”ڈی ڈے“ قریب آ گیا ہے۔ یہ اندازہ یوں ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں کراچی کے مسائل پر ہونے والی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بہت کھل کر کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کو بچانے کے لئے مختلف قانونی اور آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ جو فی الحال بتائے نہیں جا سکتے۔ اس کے بعد فاضل چیف جسٹس نے سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیئے کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ یہ سب خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس لئے پیپلزپارٹی کا چونکنا اور جوابی وضاحتیں بعید نہیں اس کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی ایک سے زیادہ بار گورنر راج کی بات کر چکے ہوئے ہیں یوں لامحالہ جب اٹارنی جنرل کا بیان سامنے آیا تو ذہن اس طرف ہی جاتا ہے۔ ایسا ماضی میں ہو چکا اور یہ ناممکن نہیں کہ ”پاکستانی نیلسن منڈیلا“ والے وفاقی وزیر قانون  جواپنی تعریفیں بھی کرا رہے ہیں، تاہم ہماری گزارش ہے کہ مقتدر حلقے اب مداخلت کریں اور آئینی اور قانونی تعلقات کار کی نصیحت کریں اور ایسا کرائیں کہ اگر وفاقی حکومت گرانا مسائل کا حل نہیں تو صوبائی (مخالف) حکومت کا گرنا بھی بہتر نتائج نہیں دے سکتا۔ شدید قسم کی ”تگ و دو“ اور ”موشگافیوں“ سے یہ ناممکن نہیں۔ لیکن نتائج سے ہمیں خوف آتا ہے کہ یہ عمل ملکی استحکام کو مزید تباہ کرے گا۔ یہ کوئی راز نہیں اور نہ ہی مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہے۔کہ شدید بحران اور بھی بڑھ جائے گا۔(۔اک اور دریا کا سامنا ہو گا۔)

مزید :

رائے -کالم -