ہنگامہ آرائی کرنیوالے 58 ملزموں کی ضمانتیں منظور

    ہنگامہ آرائی کرنیوالے 58 ملزموں کی ضمانتیں منظور

  

 لاہور(نامہ نگار)ضلع کچہری کی عدالت کے جج حافظ محمد نفیس یوسف نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کی پیشی کے موقع پر پر نیب آفس کے باہر پتھراؤ اور لڑائی جھگڑے کے مقدمہ میں ملوث 58ملزموں کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں رہاکرنے کاحکم دے دیا۔واضح رہے کہ ملزموں کی درخواست ضمانتوں کے کیس کی عدالت نے 3بار سماعت ملتوی کی،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ اس معاملے پر ایک کمیٹی بنادی ہے جو اس کیس میں دلائل دے گی،ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے کمیٹی قائم کرنے سے متعلق واٹس ایپ آرڈر عدالت کو دکھایا،فاضل جج نے کہا کہ پتہ چلا ہے کہ پراسیکیوشن کی ٹیم سیشن عدالت سے روانہ ہوچکی ہے، اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو آج ہی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کروں گا،جس کے ساتھ ہی عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کردی،بعدازاں سماعت شروع ہوئی تو ملزموں کے وکیل سید فرہاد علی شاہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ صبح سے یہاں کھڑے ہیں، سرکاری وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے پراسیکیوشن کمیٹی بنا دی جوملزمان کی درخواست ضمانتوں پر دلائل دے گی، فاضل جج نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی اتنا خاص نوعیت کا کیس نہیں آپ دلائل دیں، اس سے پہلے کون سے کیس میں کمیٹی بنائی گئی ہے؟ملزموں کے وکیل نے کہا کہ قانون میں کہیں ضمانت سٹیج پر کمیٹی بنانے کاذکر ہے توبتایاجائے، فاضل جج نے پراسیکیوشن کو آج ہی دلائل مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت پھرکچھ دیر کے لئے دوبارہ ملتوی کردی،تیسری بار کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پراسیکیوشن کی طرف سے موقف اختیارکیا گیا کہ یہ ملکی ادارے پر حملہ ہوا ہے، ہمیں دلائل کے لئے وقت دیا جائے، ہم ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کو بتا دیتے ہیں، عدالت نے پراسیکیوشن کو اپنے دلائل مکمل کرنے کے لئے 15منٹ کی مہلت دی،جس کے بعد عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد تمام58ملزموں کو ضمانت پر رہاکرنے کاحکم جاری کردیا،جن ملزموں کو رہا کیا گیاہے ان میں تصورحسین، امیرحمزہ،فرید خان،داؤد رسول،ارسلان،زاہد حفیظ،محمد سعید، حماد، محمد علی،فیضان عابد،امن اسلم، محمدحسنین،ذیشان،محمد شاہد،خواجہ ظہیر،محمد خالد،عبدالباسط،حامد وینس،محمدیاسین، رانا اشتیاق،محمد منیب،ملک طارق،منظوررشید، میاں محمد ضیاء، رحمن بٹ، سعود بن شرافت، محمد حسیب صدیقی،میاں غلام عباس، ساجد علی،محمدقیصر،حمزہ، شوکت،سیف علی،تنویر،حافظ نصیر،ساجد علی،احسن علی،علی اختر، احمد عمیر،پرویز اقبال،قاضی عدنان فرید،بشارت سعید بٹ، میاں عمران جاوید، عدیل انور خان،عمر ستار، محمد بلال رفیق، سید مظہر محمود،محمد انور،بنی مسیح،احسن احمد،ثقلین عباس،سید نعیم الحسن شاہ،خالد محمود، شیخ بلال احمد، آفتاب اکبر،وجاہت سلیم،ساجد حسین اور محمد زبیر شامل ہیں،علاوہ ازیں ضلع کچہری میں 58ملزموں کی کیس کی سماعت کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ عمران نذیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کا بیانیہ درست ثابت ہو رہا ہے،ملک فلاح کی طرف جائے گا،میاں نواز شریف کی باعزت وطن اور اقتدار میں واپسی ہو گی،عمران خان حکومت سے جلد چھٹکارا مل جائے گا، فسطائی حکومت سے بھی چھٹکارا ملے گا،میاں نواز شریف نے گرفتار کارکنوں کو عشائیہ دینے کا حکم دیا ہے،رہا ہونے والے کارکنوں کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔

ضمانتیں منظور

مزید :

صفحہ آخر -