محکمہ فوڈ کا کام دوسرے اداروں نے کرنا ہے تو اسے تالے لگا دیں:لاہور ہائیکورٹ

محکمہ فوڈ کا کام دوسرے اداروں نے کرنا ہے تو اسے تالے لگا دیں:لاہور ہائیکورٹ

  

 لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ محکمہ فوڈ کا سارا کام دوسرے اداروں نے کرنا ہے تو محکمہ فوڈ کو تالے لگادیں،محکمہ فوڈ نے نیب اور محکمہ اینٹی کرپشن کو ساتھ شامل کر کے کرپشن کے ریٹ بڑھا دیئے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خا ن نے یہ ریمارکس سیکرٹر ی فوڈ کو فلور ملز کو گندم کا کوٹہ دینے کے معانلہ کا 17اگست تک فیصلہ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے دیئے، چیف جسٹس نے گندم کے کوٹہ کی عدم فراہمی کے خلاف فلور ملز کی درخواست پر سیکرٹری فوڈ کو طلب کر رکھا تھا،فاضل جج نے فلور ملز پر اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی تذلیل کسی صورت برداشت نہیں کریں گے،عدالت کے روبرو جہانگیرفلور ملز اور دیگر درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت قواعد و ضوابط پورے کرنے کے باوجود فلور ملز کو گندم کا کوٹہ نہیں دے رہی جو غیر قانونی اقدام ہے، عدالتی حکم پر سیکرٹری فوڈ اور ڈی سی قصور پیش ہوئے تو فاضل جج نے ان سے استفسار کیا کہ فلور ملز کی چیکنگ کے لئے اساتذہ کی ڈیوٹی کیسے لگادی  گئی؟سیکرٹری فوڈ نے اعتراف کیا کہ اساتذہ کی ڈیوٹی فلور ملز پر لگانا غلط ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اساتذہ کی تذلیل کسی صورت برداشت نہیں کریں گے پنجاب کے مختلف اضلاع میں ڈی سی حضرات نے فلور ملز پر اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگائیں،عدالت نے سیکرٹری فوڈ کو اساتذہ کی ڈیوٹی لگانے کے معاملہ کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے، چیف جسٹس محمدقاسم خان نے قرار دیا کہ محکمہ فوڈ نے نیب اور اینٹی کرپشن کے ادارے بھی ساتھ ملا لئے،کیانیب اور اینٹی کرپشن والے فرشتے ہیں؟یہاں جتنے اچھے لوگ ہیں اتنے ہی برے لوگ بھی ہیں،محکمہ فوڈ اتنا کمزور ہے کہ وہ اپنا کام خود نہیں کر سکتا؟چیف جسٹس نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کو فلور ملز سے متعلق چیکنگ کے اختیارات دئے دیئے گئے،یہ کام محکمہ فوڈ کا تھا،محکمہ فوڈ اپنے کام خود نہیں کرتا۔عدالت نے سیکرٹری  فوڈسے استفسار کیا کہ ڈپٹی کمشنرزکو فلور ملزکی چیکنگ اورچلوانے کے حوالے سے جو آرڈر کیا گیاتھا اس میں انہیں کیا اختیارات دیئے گئے تھے؟کیا یہ ڈپٹی کمشنرزکا اختیارہے؟کوئی ڈپٹی کمشنر فلور ملز پر خود نہیں گیا،عدالت نے مذکورہ ہدایات اورآبزرویشنز کے ساتھ کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے آئندہ تاریخ سماعت پر عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی۔

لاہور ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ آخر -