یوم آزادی کے تقاضے

یوم آزادی کے تقاضے

  

شا ہد رشید

سیکرٹری جنرل نظریہ پاکستان ٹرسٹ

بانی ئ پاکستان کے ذہن میں پاکستان کا ایک واضح تصور تھا۔ وہ اس ملک کو اسلام کی ایک تجربہ گاہ بنانے کے آرزومند تھے تاکہ اقوام عالم پر یہ ثابت کیا جا سکے کہ سیاست، معیشت اور معاشرت کے حوالے سے دین اسلام کے سنہرے اصول آج بھی اُسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ و سلم کی حیات طیبہ اور خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں تھے

انتہائی نامساعد حالات کے باوجود یہ مملکت عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گئی۔ اس کے وجود کے درپے دشمنوں کی اُمیدوں پر ہمیشہ کیلئے اوس پڑ گئی مگر ان کا خبث باطن برقرار رہا۔ جب ان کیلئے پاکستان کو عسکری لحاظ سے تسخیر کرنا ممکن نہ رہاتو انہوں نے اسے اندرونی خلفشار اور عدم استحکام کا شکار بنانے کی سازشیں شروع کر دیں۔ آج کل یہ سازشیں عروج پر ہیں 

 جو عناصر قیام پاکستان کے اس حقیقی مقصد سے اختلاف کرتے ہیں‘وہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی متعین کردہ راہ سے روگردانی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ان عناصر کا ببانگ دہل محا سبہ کیا جائے‘چاہے انہیں اور ان کے غیر ملکی آقاؤں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے

موجودہ بحرانی صورتحال کا مقابلہ انہی ہتھیاروں سے کیا جا سکتا ہے جنہیں استعمال کر کے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زیرک قیادت میں ہمارے بزرگوں نے حصول پاکستان کی جنگ جیتی تھی۔ وہ ہتھیار ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط تھے۔بلا شبہ پاکستانی ایک غیرت مند قوم ہیں۔ یہ اپنی قوتِ ایمانی کی بدولت ہر بحران میں سرخرو ہو جاتے ہیں 

شاہد رشید

73 سال قبل قائداعظمؒ کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کی پرخلوص اور مسلسل جدوجہد کے نتیجہ میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ -14اگست1947ء دین اسلام بالخصوص برصغیر کی ملت اسلامیہ کے لیے اہم ترین دن ہے۔ اس دن نہ صرف بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کو انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے نجات حاصل ہوئی بلکہ یہ امر دنیا کی بہت سی دیگر محکوم اقوام کیلئے بھی حق خود ارادیت کی بنیاد پر آزادی کی نوید ثابت ہوا۔ کسی بھی خطہ کے محکوم لوگوں کیلئے غیر ملکی حکمرانوں سے آزادی حاصل کرنا اُس صورتحال میں بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے جب اس سرزمین پر بسنے والی اکثریتی قوم بھی مخالفت پر اُتر آئے۔ پاکستان بھی انہی حالات و مراحل سے گزر کر معرض وجود میں آیا۔ انگریز حکومت اور ہندو اکثریت نے بادل نخواستہ مطالبہئ پاکستان تو مان لیا مگر قیام پاکستان کو دل سے تسلیم نہ کیا۔ انگریزوں نے انتہائی غیر منصفانہ ریڈ کلف ایوارڈ سامنے لا کر ایک کٹا پھٹا پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے حوالے کیا تو انگریز گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی تھپکی سے بھارتی حکومت نے پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو دبوچ لیا۔ 

یہ دن ہمیں تاریخ عالم کی اس عظیم ہجرت کی یاد دلاتا ہے جب برصغیر کے لاکھوں مسلمان اُس ارضِ پاک کی جانب رواں دواں تھے جسے وہ ”ریاست مدینہ“ کا ثانی تصور کرتے تھے۔ وہ اپنے آبائی گھر بار، آبا و اجداد کی قبریں چھوڑ کر صرف اس چاہت میں ہجرت کر رہے تھے کہ اس نو آزاد مملکت میں انہیں اپنے خالق و مالک کے احکامات اور پیغمبراعظم و آخر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ و سلم کے اسوہئ حسنہ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔ دوران ہجرت یہ لوگ دنیاوی مال و متاع سے تہی دامن تاہم ایمان کی دولت اپنے دامن میں سمیٹے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جن اُمیدوں اور آرزوؤں کو دل میں بسائے، جن سہانے خوابوں کو آنکھوں میں سجائے یہ مسلمان پاک سرزمین پر سجدہ ریز ہوئے تھے‘ کیا آج کے پاکستان میں اُن کا عکس جمیل دکھائی دیتا ہے؟ کیا موجودہ پاکستان تحریک آزادی کے کارکنوں اور قائداعظمؒ کے پیروکاروں کے خوابوں کی تعبیر بن سکا ہے؟ جوابات کیلئے ہمیں چند تاریخی حقائق پر نظر ڈالنا ہوگی۔ 

ہم تحریک پاکستان کا جتنا زیادہ گہرائی میں جا کر مطالعہ کرتے ہیں‘اتنا ہی زیادہ ہم پر بانی ئ پاکستان کی عظمت ِ کردار اور ان کے بے لوث ساتھیوں کا خلوص آشکار ہوتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ تحریک عہد حاضر کی دیگر تحریکوں سے کتنی مختلف اور اس میں شامل افراد کتنے منفرد جذبوں کے مالک تھے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے برصغیر کے ہر گوشے سے انتہائی دیانت دار اور جانثار ساتھی چن کر قائداعظم محمد علی جناحؒ کے گرد جمع فرما دیے تھے۔ حیرت کی بات ہے کہ ان میں اُن علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے جنہیں بخوبی علم تھا کہ ان کے علاقے کسی صورت پاکستان کا حصہ نہ بن سکیں گے اور قیام پاکستان کے بعد ان کے پاس صرف دو ہی راستے ہوں گے: اپنے آبائی گھر بار چھوڑ کرپاکستان ہجرت کر جائیں یا پھر وہیں رہتے ہوئے خود کو جابر ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں جو ”گاؤ ماتا کے دو ٹکڑے“ ہو جانے پر مسلمانان ہند کے خلاف زخمی ناگن کی مانند پھنکار رہی تھی۔ تحریک پاکستان اور مشاہیر آزادی کی حیات و خدمات کا مطالعہ ہمیں ایک پیمانہ عطا کر دیتا ہے جس کے ذریعے ہم ایثار اور قربانی کے ان مجسموں اور سیاسی میدان کے موجودہ کھلاڑیوں کا بآسانی موازنہ کر سکتے ہیں۔ 

پاکستان وجود میں آیا تویہ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مملکت تھی۔ کفر و شرک کے گڑھ برصغیر میں یہ د ین حق کی ایک مضبوط علامت بن کرابھرا تھا۔ اس کا قیام درحقیقت باطل قوتوں کے سینے میں خنجر پیوست ہو جانے کے مترادف تھا۔ چنانچہ وہ اس ہزیمت کا انتقام لینے پر تل گئیں۔ ان کی ریشہ دوانیوں نے اس مملکت کے اندرونی حالات کواس قدر ابتر کر دیا کہ اسلام دشمن عالمی طاقتوں کی آشیرباد سے اس کے ازلی دشمن بھارت کو کاری وار کرگزرنے کا موقع مل گیا۔ 1971ء میں یہ مملکت دولخت ہو گئی۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ اس سانحہ کے وقوع پذیر ہونے میں اس وقت کی ہماری سیاسی و عسکری قیادت کے چند کل پرزوں نے بھی انتہائی مکروہ کردار ادا کیا۔ وہ سبھی اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار اور عبرتناک انجام سے دو چار ہو ئے۔ بہرحال رب کائنات کو ارض پاک کے اس باقی ماندہ حصے کی سلامتی مطلوب تھی اور الحمدللہ اب بھی ہے۔ لہٰذا انتہائی نامساعد حالات کے باوجود یہ مملکت عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گئی۔ اس کے وجود کے درپے دشمنوں کی اُمیدوں پر ہمیشہ کیلئے اوس پڑ گئی مگر ان کا خبث باطن برقرار رہا۔ جب ان کیلئے پاکستان کو عسکری لحاظ سے تسخیر کرنا ممکن نہ رہاتو انہوں نے اسے اندرونی خلفشار اور عدم استحکام کا شکار بنانے کی سازشیں شروع کر دیں۔ آج کل یہ سازشیں عروج پر ہیں۔ افغانستان، عراق، لیبا اور شام میں آگ لگانے کے بعد اب پاکستان کو دہشت گردی‘فرقہ واریت اور مسلکی اختلافات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ سی آئی اے، را، موساداور کئی دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے ملک کے اندرسرگرم عمل ہیں۔ رہبر پاکستان نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے سابق چیئرمین محترم ڈاکٹر مجید نظامی امریکہ،بھارت اور اسرائیل کے اس پاکستان مخالف گٹھ جوڑ کو ”شیطانی اتحاد ثلاثہ“ قرار دیتے تھے۔ 

 اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ پاکستان کا موجودہ نصابِ تعلیم اس نہج پر مرتب نہیں کیا گیا جس کی بدولت ہمارے نوجوانوں میں بانیانِ پاکستان اور کارکنان تحریک پاکستان کے نقوش قدم پر چلنے کی اُمنگ بیدار ہو سکے‘ وہ اس مملکت خداداد کی مجموعی شخصیت اور عالم اسلام کیلئے اس کی اہمیت سے روشناس ہو سکیں‘ ہمارے ازلی و ابدی دشمن بھارت کے نیتاؤں کی اصل ذہنیت سے آگاہ ہو سکیں جو روزِ اوّل سے ہمارے وجود کے درپے ہیں‘جو دسمبر1971ء میں ہمارے ملک کو دو لخت کر چکے ہیں‘ جو ہماری شہ رگ کشمیر پر ناجائز طور پر قابض ہیں، جنہوں نے آئے سال موسم برسات میں آبی جارحیت کا ارتکاب کر کے لاکھوں پاکستانیوں کو مصائب و آلام میں مبتلا کر نا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے اور جو وطن عزیز میں دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ہمارے اربابِ اختیار کو غور کرنا چاہیے کہ ان کی صفوں میں وہ کون سے عاقبت نا اندیش عناصر ہیں جو ہماری نسل نو کی نگاہوں سے دوست اور دشمن کی تمیز ختم کرنے کی جسارت کر رہے ہیں؟ نسل نو ہمارا مستقبل ہے۔ اپنے مستقبل کو محفوظ اور تابناک بنانے کی خاطر دیگر دانش مند قوموں کی طرح ہمیں ا بھی سے اپنی نئی نسل پر محنت اور کم از کم آئندہ پچاس برسوں کیلئے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ 

موجودہ بحرانی صورتحال کا مقابلہ انہی ہتھیاروں سے کیا جا سکتا ہے جنہیں استعمال کر کے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زیرک قیادت میں ہمارے بزرگوں نے حصول پاکستان کی جنگ جیتی تھی۔ وہ ہتھیار ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط تھے۔بلا شبہ پاکستانی ایک غیرت مند قوم ہیں۔ یہ اپنی قوتِ ایمانی کی بدولت ہر بحران میں سرخرو ہو جاتے ہیں۔ انہیں اس حقیقت کا بخوبی ادارک ہے کہ بابائے قوم اس ملک کو قوت اسلام کا مرکز بنانا چاہتے تھے۔ دنیا بھر کے مظلوم انسانوں اور بطور خاص بھارت کے مسلمانوں کیلئے تقویت کا باعث بنانا چاہتے تھے۔ ان کا یہ خواب تاحال تشنہ ئ تعبیر ہے۔ بانی ئ پاکستان کے ذہن میں پاکستان کا ایک واضح تصور تھا۔ وہ اس ملک کو اسلام کی ایک تجربہ گاہ بنانے کے آرزومند تھے تاکہ اقوام عالم پر یہ ثابت کیا جا سکے کہ سیاست، معیشت اور معاشرت کے حوالے سے دین اسلام کے سنہرے اصول آج بھی اُسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ و سلم کی حیات طیبہ اور خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں تھے۔ جو عناصر قیام پاکستان کے اس حقیقی مقصد سے اختلاف کرتے ہیں‘وہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی متعین کردہ راہ سے روگردانی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ان عناصر کا ببانگ دہل محا سبہ کیا جائے‘چاہے انہیں اور ان کے غیر ملکی آقاؤں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ اس وقت وطن عزیز کو چہار اطراف سے دشمنانِ دین و وطن کی یلغار کا سامنا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری آزادی کا سب سے بڑا دشمن کوئی اور نہیں بلکہ ہمارا ہمسایہ بھارت ہے۔ وہ دہشت گردوں کو تربیت‘اسلحہ اور مالی امداد فراہم کر کے ہمارے خلاف پراکسی وار لڑ رہا ہے۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر اس کی جارحانہ کارروائیاں اور جاسوسی کی خاطر ڈرون طیاروں کے استعمال نے اس کے ناپاک عزائم کو آشکار کر دیا ہے۔ افواج پاکستان اس کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔ ضرب عضب کے ذریعے بھی اس کی شر انگیزیوں کا بڑا موثر تدارک کیا جا رہا ہے۔وقت آن پہنچا ہے کہ اب ہم اپنی صفوں کے اندر موجود بھارتی شردھالوؤں کا سر کچل دینے کا حتمی فیصلہ کر لیں۔ 

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہماری ثابت قدمی اور اولوالعزمی کے طفیل یہ عناصر پسپا ہو کر رہیں گے۔ راستے میں کتنے ہی نشیب و فراز کیوں نہ آئیں‘ہم ان بھارتی شردھالوؤں کی سرکوبی کر کے وطن عزیز کو ایک جدید اسلامی‘جمہوری اور فلاحی مملکت کے قالب میں ڈھال کر دم لیں گے۔رب ذوالجلال ہمیں اپنی آزادی کی حفاظت کی ہمت عطا فرمائے (آمین)

مزید :

ایڈیشن 1 -