پشاور میٹروبس چل پڑی،وزیر اعظم نے افتتاح کیا،ماضی کی خرابیوں کو درست کر رہے ہیں،کراچی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے:عمران خان

پشاور میٹروبس چل پڑی،وزیر اعظم نے افتتاح کیا،ماضی کی خرابیوں کو درست کر رہے ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر،آئی این پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ترجیح ہے کہ  عوامی فلاح کے ہر منصوبے پر غریبوں کا خصوصی خیال رکھا جائے، پشاور بی آر ٹی پورے پاکستان میں سب سے بہترین میٹرو منصوبہ ہے،مجھے اور پارٹی میں موجود کئی رہنماؤں کو پشاور بی آر ٹی منصوبے  پر شدید تحفظات تھے لیکن آج پرویز خٹک مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ وہ درست ثابت ہوئے پشاور بی آر ٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا وزیر اعظم نے کہا کہ پشاور بی آر ٹی  میٹرو منصوبے کی کوالٹی دیگر  میٹروز کے مقابلے میں سب سے بہتر ہے،منصوبے کے افتتاح پر خیبر پختونخوا اور وزیر اعلیٰ محمود خان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،   بی آر ٹی سے شہر میں ٹریفک بہاؤ میں کمی آئی گی اور لوگوں کو آسانیاں ملیں گی، بی آر ٹی سے ماحولیات آلودگی میں قابو پانے میں مدد ملے گی جبکہ منصوبے کا ڈیزائن اتنا بہترین ہے جس سے پشاور کے سارے علاقے اس کے ساتھ منسلک ہوجائیں گے منصوبہ27کلو میٹر مین کوریڈور پر مشتمل ہے جبکہ 700سے800کلو میٹر فیڈر روٹس ایریا ہے۔ وزیر اعظم  کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک وزیر اعلیٰ تھے انہوں نے اس منصوبے کا آغاز کیا تو مجھے اور پارٹی میں موجود کئی رہنماؤں کو اس پر شدید تحفظات تھے لیکن آج پرویز خٹک مبارکباد کے مستحق ہیں، پرویز خٹک نے پارٹی قیادت سے کہا تھاکہ پروجیکٹ کو مکمل ہونے دیا جائے اس کے بعد فائدہ نظر آ جائے گا، آج میں کہتا ہوں کہ پرویز خٹک آپ ٹھیک تھے اور ہم غلط نکلے، وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پشاور انتظامیہ نے  عوام کیلئے بی آر ٹی میں مناسب اور کم کرائے رکھے گئے ہیں جس پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے غریب عوام کا خیال رکھا ہے،بی آر ٹی نے سٹاپ ٹو سٹاپ10 روپے جبکہ کہ آغاز سے مکمل سفر تک کے لئے 50 روپے کرایہ رکھا گیا ہے یہ انتہائی عوام دوست فیصلہ ہے،انہوں نے  موجودہ حکومت کی ترجیح ہے کہ  عوامی فلاح کے ہر منصوبے پر غریبوں کا خصوصی خیال رکھا جائے جبکہ اس منصوبے سے شہرکے کاروبار میں بہتری آئے گی اور لوگوں کو آسانیاں ملیں گی۔ اس سے بیشتر وزیر اعظم عمران خان بی آرٹی کے افتتاح کے لئے چمکنی ڈپوپہنچے توگورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان، وزیراعلی خیبر پختونخواہ محمود خان ، وزیر دفاع پرویز خٹک بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان کو متعلقہ حکام کی جانب سے بی آرٹی منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بی آرٹی منصوبہ 27کلومیٹر طویل اور 30اسٹیشنز پر مشتمل ہے، ٹریک کی کل لمبائی27کلومیٹر،ابتدائی طورپر220ایئرکنڈیشنڈبسیں چلیں گی 30اسٹیشنزکے علاوہ متصل روٹس کیلئے 5سڑکوں کانیٹ ورک بنایاگیاہے،  پشاور بی آرٹی کا فی اسٹاپ کرایہ10روپے جبکہ مکمل سفر کاکرایہ50روپے ہے جبکہ بسوں میں انٹرنیٹ اور موبائل چارجنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔دریں اثناوزیراعظم عمران خان نے احساس نشوونما پروگرام کا باقاعدہ اجرا کر دیا، معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے وزیراعظم کو احساس نشوونما پروگرام پر بریفنگ دی۔ گورنرشاہ فرمان، وزیراعلیٰ محمود خان، وفاقی وزیر نورالحق قادری بھی عمران خان کے ہمراہ تھے۔احساس نشوونما ملکی تاریخ میں سٹنٹنگ کی روک تھام کا پہلا حکومتی پروگرام ہے، 3 سالہ نشوونما پروگرام کا بجٹ 8 ارب 52 کروڑ روپے ہے، مستحقین کو صحت بخش غذا کی فراہمی کے ساتھ سہ ماہی نشوونما وظیفہ بھی دیا جائے گا، بچیوں کیلئے 2 ہزار روپے جبکہ بچوں کیلئے 1500 روپے سہ ماہی وظیفہ ہوگا۔ نشوونما پروگرام کے پہلے مرحلے میں 9 اضلاع میں 33 نشوونما مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، ان اضلاع میں خیبر، اپر دیر، باغ، غذر، ہنزہ، خارمنگ، خاران، بدین اور راجن پور شامل ہیں۔سٹنٹنگ کی بیماری کی شرح کے لحاظ سے پاکستان خطے میں دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان میں 40 فیصد بچے غذائی قلت اور دیگر وجوہات کی بنا پر سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔دوسری طرف  وزیرِ اعظم عمران خان سے وزیرِ قانون فروغ نسیم اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ملاقات کی اور صوبہ سندھ خاص طور پر کراچی کی صورتحال پر گفتگو کی۔ملاقات میں حالیہ بارشوں کے بعد صوبہ سندھ کی صورتحال اور کراچی میں بجلی کی طویل بندش کے معاملات بھی زیر غور آئے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کراچی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، عوام کی مشکلات کا مکمل احساس ہے۔عمران اسماعیل نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، فرنٹیئر ورکس ا?رگنائزیشن اور پاک فوج کے کام کو بے حد سراہا اور کراچی کی مخدوش صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا  کہ ماضی کی خرابیوں کو درست کررہے ہیں،  اپوزیشن اپنی سیاست بچانے کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کررہی ہے،    شروع سے  انہوں نے ہر قانون سازی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، قومی مفاد میں ہونے والی قانون سازی میں اپوزیشن کو حمایت کرنی چا ہئیے،ملکی مفاد میں ہونیوالی قانون سازی کے بدلے این آر او نہیں دے سکتے، نظریہ سے ہٹ گیا  تو پارٹی ختم ہوجائے گی ۔ وزیر اعظم نے   اجلاس کے موقع پر  حکومتی  ارکان کو پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی بارے اعتمار میں لیا ۔ انہوں نے کہا کہ  ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پاکستان کیلئے ضروری ہے۔ماضی کی خرابیوں کو درست کررہے ہیں۔سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی بلز کی منظوری لے لیں گے۔اپوزیشن اپنی سیاست بچانے کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کررہی ہے۔ااپوزیشن نے ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر نہ ترجیح دی تو  وہ بے نقاب ہونگے۔ ملکی مفاد میں ہونے والی قانون سازی کے بدلے این آر او نہیں دے سکتے، عمران خان  نے   شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ  آپ عوام کے نمائندے ہیں، پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی میں فعال کردار ادا کریں، وزیراعظم کا کہناتھا کہ  اپوزیشن کی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے  وہ این آر او مانگتے ہیں جو ہم کسی صورت میں نہیں دینگے  ہم پارٹی منشور سے پیچھے ہٹ گئے تو تباہی ہوگی ۔ انہوں نے  مطالبات لکھ کر بھیجے کہ منی لانڈرنگ نکال دیں۔ا نہوں نے کہا کہ شہباز شریف او ر بلاو ل بھٹو زرداری دو سال سے ہماری حکومت ختم کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں،یہ صرف اپنا مال بچانا چاہتے ہیں یہ چاہتے  ہمارے کیس ختم ہو جائیں۔ ہم نے انکا کوئی کیس نہیں بنایا انکے سارے کیسز ماضی کی حکومتوں نے بنائئے ۔خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ  خواجہ آصف نازیبا گفتگو کرتے ہیں،سپیکر پروڈکشن آرڈر جاری کرنے میں احتیاط کریں ہم انہیں پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہیں یہ ہمارے خلاف تقریریں جھاڑنا شروع کردیتے ہیں   اگر نظریہ سے پیچھے  ہٹ گیا  تو پارٹی ختم ہوجائے گی۔ وزیر اعظم نے پارٹی اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ فعال کردار ادار کریں اور اپوزیشن کو ٹف ٹائم دیا جائے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -