حکومت ایس ار بی میں وائس چانسلر کے ریمارکس کا فوری نوٹس لے،افتخار احمد

حکومت ایس ار بی میں وائس چانسلر کے ریمارکس کا فوری نوٹس لے،افتخار احمد

  

پشاور (سٹی رپورٹر)جامعہ زرعی میں پشاور کی انتظامیہ ملازمین کے مسائل حل کرنے کے بجائے دھمکیوں پر اتر ائے جبکہ انتظامی کی جانب سے حاضری کے ھوالے سے جاری اعلامیہ پر ملازمین نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ حاضر کے قائد و ضوابط یکساں بنیاوں پر ہونے چائے جبکہ وائس چانسلر کی کی جانب سے ایس ار بی اجلاس میں دھمکی امیز ریمارکس واپس لیے جائے اور معافی مانگی جائے جبکہ جامعہ میں بے قائدگیوں کا نوٹس لیا جائے بصورت دیگر اگلے ہفتہ صوبائی اسمبلی کے سامنے اپنے جائز مطالبات اور انتطامیہ کے غیر سنجیدہ اور نا مناسب روایہ کے خلاف صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرینگے اس بات کا فیصلہ جائنٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن کمیٹی جامعہ زرعی جس میں کلاس فور و تھری ایسو ایشنز شامل ہے کہ اجلاس میں کیا گیا جسکی صدارت کلاس تھری ایسو سی ایشن کے صدر افتخار احمد نے کی  اجلاس میں شرکاء نے کہا کہ  وائس چانسلر کی جانب سے چیئرمین اور ڈینز کے ایس ار بی اجلاس میں ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے، دہشت گردی کے پرچے درج کرنے اور دیگر سنگین دھمکیوں پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ اجلاس میں جائنٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن کمیٹی نے اجلاس میں کہا کہ حکومت ایس ار بی میں وائس چانسلر کے ریمارکس کا فوری نوٹس لے جبکہ انتظامیہ ملازمین کے مسائل میں غیر سنجیدگی کے باعث دھمکیوں پر اتر ائے ہے  اجلاس میں شرکاء کا کہنا تھا کہ ڈائیر یکٹر ایڈمیشن کی پیش کردہ تجویز پر کوئی ذمہ دار وی سی سے پوچھتا کہ کن اختیارت کے ساتھ مذکرات کیے گئے،کمیٹی کے ہر ممبر نے اقرار کیا کہ ہم بے اختیار ہے  جبکہ یونیورسٹی ای اینڈ ڈی صرف گریڈ16پر نہیں تمام گریڈز کے ملازمین پرلاگوہونا چاہئے اس حوالے سے  رجسٹرار کا اعلامیہ اول وائس چانسلرز،ڈینز اور چیئرمین اور ڈایئرکٹر پر لاگو ہونا چاہئے جو روزانہ ددس بجے کے بعد جامعہ میں تریف لاتے ہے جبکہ گریڈ 16کے ملازمین کو اٹھ سے تین بجے تک حاضری لگانا انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کو دبانے اور بڑے گریڈز پر تعینات افسران کو نوازنے کے مترادف ہے اجلاس میں کہا  گیا کہ جامعہ میں بے قائدگیوں اور سنڈکیٹ فیصلوں میں غلطی کی نشاندہی پر غریب ملازمین کے مسائل پر انتظامیہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ 80کلو گوشت کی تقسیم پر ترقی (پی ایچ ڈٰ تیسز) اور سیکش ہیڈ کی تعیناتی میں اقرباپروری کے قصے عام ہے جسکی تحقیقات ہونی چاہئے ملازمین نے  گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ار بی اجلاس میں وائس چانسلر کی جانب سے دھمکی امیز ریمارکس پر معافی مانگی جائے جبکہ اور ملازمین کے جائز مطالبات حل کرنے سمیت یکساں بنیادوں پر حاضری کے کے اطلاق کیا جائے جبکہ جامعہ میں بے قائدگیوں کا نوٹس لیا جائے بصورت دیگر اگلہ ہفتے سے صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرینگے۔

مزید :

صفحہ اول -