بد عنوان ممالک میں صحت، تعلیم اور سماجی فلاح کے شعبے متاثر ہیں:آئی ایم ایف

بد عنوان ممالک میں صحت، تعلیم اور سماجی فلاح کے شعبے متاثر ہیں:آئی ایم ایف

  

  اسلام آباد(آن لائن)آئی ایم ایف نے کہاہے کہ بدعنوانی کی زیادہ شرح والے ممالک میں صحت، تعلیم اورسماجی بہبود وتحفظ کے شعبے متاثر ہورہے ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے مالیاتی امورکے ڈائریکٹر وکٹر گیسپر اور ڈپٹی ڈائریکٹرپاولو ماورو نے اپنے ایک آرٹیکل میں کہاکہ کرپشن کی وجہ سے حکومتیں عوامی مفاد اوراستفادہ کیلئے موثراورشفاف پالیسیاں بنانے میں ناکام ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان پر عوام کے اعتماد میں کمی آتی ہے۔ بدعنوانی کی وجہ سے جو پیسہ سڑکوں، تدریسی اداروں اور ہسپتالوں پرخرچ ہونا چاہیے وہ بدعنوان عناصر کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔جن ممالک میں بدعنوانی کی شرح زیادہ ہے وہاں پر محصولات اکھٹاکرنے کی شرح بھی بہت کم ہوتی ہے کیونکہ ان ممالک میں زیادہ تر پیسہ رشوت اورکک بیکس کی شکل میں استعمال ہوتاہے۔اس صورت میں مجموعی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوششیں ناکام ہوجاتی ہے، بدعنوانی کی زیادہ شرح والے ممالک میں جی ڈی پی کی شرح سے ٹیکس وصولیوں میں 4فیصد کم ٹیکس اکھٹا ہوتاہے۔انہوں نے کہاکی کرپشن کی بیخ کنی کیلئے سیاسی عزم اورشفاف اداروں کی تشکیل ضروری ہے اس کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات، پیشہ وارانہ سول سروس کی تشکیل، کرپشن کے تدارک کیلئے نئی ٹیکنالوجیزکااستعمال، اورممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا ضروری ہے۔ 

آئی ایم ایف

مزید :

صفحہ اول -