اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدہ ، ترکی اور ایران میدان میں آ گئے ، واضح اعلان کر دیا 

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدہ ، ترکی اور ایران میدان میں آ ...
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدہ ، ترکی اور ایران میدان میں آ گئے ، واضح اعلان کر دیا 

  

تہران /انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کے قیام کا معاہدہ طے پا گیاہے جو کہ اس وقت بین الاقوامی میڈیا میں توجہ کا مرکز بنا ہواہے تاہم اب اس معاملے پر ترکی اور ایران کا موقف بھی سامنے آ گیاہے ،دونوں ممالک کی جانب سے تعلقات کی بحالی کے معاہدے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کر دہ بیان میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارت کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے کی مذمت کی گئی ہے ، بیان میں کہا گیا کہ امارات نے محدود مفادات کیلئے فلسطینی کاز کے ساتھ غداری کی ہے ، لوگوں کا ضمیر منافقانہ رویے نہ فراموش کرے گا اور نہ ہی معاف کرے گا ۔

اسرائیل متحدہ عرب امارات کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر ایران کی جانب سے بھی مذمتی بیان جاری کر دیا گیاہے ، ایران کا کہناتھا کہ اقدام ابو ظہبی اور تل ابیب کی طرف سے سٹریٹجک حماقت ہے ، ابو طہبی اور تل ابیب کے اقدام سے خطے میں مزاحمت اور بھی مضبوط ہو گی ، فلسطینی عوام اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کو کبھی معاف نہیں کرے گی ۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کے قیام کے معاہدے کا اعلان امریکی صدر نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کیا ، انہون ںے کہا کہامریکہ کے عظیم دوستوں یو اے ای اور اسرائیل میں تعلقات کا قیام بہت بڑی اور تاریخی پیشرفت ہے۔

معاہدے سے متعلق اماراتی ولی عہد محمد بن زائد نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت اسرائیلی مزید فلسطینی علاقے ضم نہیں کرے گا ،امریکہ اور یو اے ای اسرائیل سے دیگر مسلم ممالک سے بھی تعلقات قائم کرنے کیلئے کام کریں گے ،اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے والے مسلمان بیت المقدس آ کر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑ سکیں گے ۔

مزید :

بین الاقوامی -