امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر جماعت اسلامی میدان میں آگئی،ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا 

امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر جماعت اسلامی میدان میں آگئی،ملک ...
امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر جماعت اسلامی میدان میں آگئی،ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان نے 16 اگست بروز اتوار کو"یوم فلسطین"منانے کا اعلان کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان کردیا ہے،جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ عالم اسلام کیلئے آج موت کادن ہے ،اسرائیل کو تسلیم کرنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نام نہاد ڈیل آف دی سنچری منصوبے کا حصہ ہے، ٹرمپ نے آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے انتہائی مکاری سے متحدہ عرب امارات پر دباؤ ڈال کر اسے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبورکیا،یہ معاہدہ ہمارے حکمرانوں کیلئے بھی ایک سبق ہے جو کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی پر راضی ہوگئے تھے،یہ عربوں کیلئے ہی نہیں عالم اسلام کیلئے تباہی کا معاہدہ ہے جس سے امت کے اندر تفریق و تقسیم گہری ہوجائے گی، 

پاکستانی عوام اس معاہدے کو مسترد کرتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہےمتحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرکے گویا بیت المقدس کی آزادی سے دستبردار ی کا اعلان اور ان لاکھوں مجاہدین کے خون کو فراموش کردیا ہے جنہوں نے قبلہ اول کی آزادی کیلئے شہادتوں کے نذرانے پیش کئے۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلا کر یو اے ای کو یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جائے،عالم اسلام کے اجتماعی ضمیر نے اس فیصلہ کو قبول نہیں کیا،عالم اسلام کیلئے اس سے بڑا اور کوئی سانحہ نہیں ہوسکتا، آج امت مسلمہ سوگوار اور اسرائیل ،امریکہ اور بھارت میں خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اور جب تک بیت القدس آزاد نہیں ہوجاتا ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے،حکومت او آئی سی کا اجلاس طلب کر کے متحدہ عرب امارات پر زور دے کہ وہ ا مت مسلمہ کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے اسرائیل سے معاہدے پر نظرثانی کرے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ انتخاب جیتنے کے لیے امت مسلمہ پر شب خون مارا ہے مگر انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ قبلہ اول، مسجد اقصیٰ اور سرزمین فلسطین سے مسلمان اور فلسطینی کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے،یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے،مسجد اقصیٰ نبی کریم ﷺ کا مقام اسراءو معراج ہے،اس پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ناقابل قبول ہے اورہمیشہ ناقابل قبول رہے گا لہٰذا امت مسلمہ، پاکستانی عوام اور دنیاکاہر انصاف پسند انسان اس معاہدہ کو مسترد کرتا ہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے سفارتی تعلقات پوری مسلم دنیا اور خصوصاً عرب دنیا کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے،متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر کے دباؤ میں یہ فیصلہ کر کے لاکھوں فلسطینیوں کے خون اور ان کے مفادات سے بے وفائی کی ہے،جس سے خود عرب ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچے گا،یہ امر باعث افسوس ہے کہ متحدہ عرب امارات قبلہ اول کی آزادی کے لیے جاری کوششوں کو سپورٹ کرنے کے بجائے اسرائیل سے ہاتھ ملا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یو اے ای کو اپنی کسی بھی سیاسی مصلحت یا عارضی مفادات کو دیکھنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ بالآخر اس کے اسلامی دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟۔

مزید :

قومی -