ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق وکیل نے ان کے سب سے شرمناک راز بے نقاب کردئیے، جان کر ہی چہرہ شرم سے لال ہوجائے

ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق وکیل نے ان کے سب سے شرمناک راز بے نقاب کردئیے، جان کر ہی ...
ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق وکیل نے ان کے سب سے شرمناک راز بے نقاب کردئیے، جان کر ہی چہرہ شرم سے لال ہوجائے

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) پہلے صدر ڈونلڈٹرمپ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے کتاب لکھی اور صدر ٹرمپ کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔ پھر صدر ٹرمپ کی اپنی بھتیجی میری ٹرمپ نے ان کے خلاف ایک کتاب لکھ ڈالی اور انہیں جھوٹا اور خود پسند شخص قرار دینے کے ساتھ ساتھ کئی اور انکشافات کر ڈالے اور اب صدر ٹرمپ کے ایک اور انتہائی قریبی شخص نے ان کے خلاف کتاب لکھ ڈالی ہے اور صدر ٹرمپ کے خلاف پہلی دو کتابوں سے کہیں زیادہ تہلکہ خیز انکشافات کر ڈالے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق یہ آدمی امریکی وکیل مائیکل ڈین کوہن ہیں جو 2006ءسے 2018ءتک صدر ڈونلڈٹرمپ کے اٹارنی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ٹرمپ آرگنائزیشن کے نائب صدر اور صدر ٹرمپ کے ذاتی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔

مائیکل کوہن کی حالیہ دنوں شائع ہونے والی کتاب کا نام ’ڈِس لائیل‘ (Disloyal)ہے، جو رواں سال ستمبر میں مارکیٹ میں آئے گی تاہم اس کی پیشگی بکنگ شروع ہو چکی ہے اور کتاب کے کچھ اقتباسات بھی منظرعام پر آ گئے ہیںجن میں مائیکل کوہن نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ ٹیکس فراڈ کے مرتکب ہو چکے ہیں اور اس فراڈ میں خود مائیکل کوہن نے ان کی مدد کی۔ کتاب میں ایک جگہ مائیکل کوہن یہ شرمناک انکشاف کرتے ہیں کہ وہ صدر ٹرمپ کو ’گولڈن شاور‘ (جنسی تسکین کے لیے کسی فرد کے جسم پر پیشاب کرنا) کا ارتکاب کرتے بھی دیکھ چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ شرمناک حرکت ایک ’سیکس کلب‘ میں کی تھی۔ 

مائیکل کوہن نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اکثر اپنی اہلیہ میلانیا سے جھوٹ بولتے ہیں۔ اپنی کتاب میں مائیکل کوہن نے یہ اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ بات چیت کے لیے خفیہ بیک چینل بنانے میں صدر ٹرمپ کی مدد کی تھی۔ جب مائیکل کوہن نے پہلی بار اپنی اس کتاب کا ٹیزر جاری کیا تھا تو ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے اٹارنی جنرل بل بیر نے انہیں جیل میں ڈال دیا تھا۔مائیکل کوہن کو خاموش رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی تاہم عدالت نے گزشتہ ماہ مائیکل کوہن کی رہائی کا حکم دے دیا جس پر وہ جیل سے باہر آ گئے۔ عدالت نے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ مائیکل کوہن نہ صرف میڈیا سے بات کرسکتے ہیں بلکہ وہ اپنی کتاب بھی ریلیز کر سکتے ہیں اور حکومت انہیں اس سے نہیں روک سکتی۔ قبل ازیں مائیکل کوہن پر کیمپین فنانس کی خلاف ورزیوں اور کانگریس سے جھوٹ بولنے کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس میں انہیں 3سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس میں سے انہوں نے صرف 1سال جیل میں گزارا اور رواں سال مئی میں امریکی جیلوں میں کورونا وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ 

مائیکل کوہن نے اپنی کتاب میں صدر ٹرمپ کو نسل پرست اور دھوکے باز شکاری کے القابات سے بھی نوازا ہے۔ مائیکل لکھتے ہیں کہ ’میں ٹرمپ کو ان کی فیملی سے بھی زیادہ جانتا ہوں۔ میں نے ٹرمپ کو کلبوں میں بھی دیکھا ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ بہت بڑے فراڈئیے ہیں۔ ان کے پس پردہ روسی صدرپیوٹن کے ساتھ رابطے تھے اور ہم نے ان کے کہنے پر صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا انتظام بھی کیا تھا۔ ہم نے ٹرمپ کے حکم پر مرضی کی سروے رپورٹس تیار کرائیں۔ اس مقصد کے لیے ایک آئی ٹی فرم کو بھاری رقم دی گئی تھی۔ 

مزید :

بین الاقوامی -