’اس کی سخت قیمت ادا کرنا پڑے گی‘ ترک بحری جہاز پر حملے کے بعد صدر اردگان کی سخت وارننگ، نیا خطرہ پیدا ہوگیا

’اس کی سخت قیمت ادا کرنا پڑے گی‘ ترک بحری جہاز پر حملے کے بعد صدر اردگان کی ...
’اس کی سخت قیمت ادا کرنا پڑے گی‘ ترک بحری جہاز پر حملے کے بعد صدر اردگان کی سخت وارننگ، نیا خطرہ پیدا ہوگیا

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) قبرص اور یونانی جزیرے کریٹی کے درمیان سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کرنے والے ترک جہاز پر حملے کے ہنگام صورتحال کشیدہ تر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ایک طرف ترک صدر رجب طیب اردگان نے تصدیق کر دی ہے کہ ترک بحری بیڑے پر حملہ کیا گیا تھا تاہم ان کی طرف سے حملے کی نوعیت اور حملہ کرنے والے ملک کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی مگر اشارے یونان کی طرف ہو رہے ہیں کہ مبینہ طور پر یہ حملہ اس کی طرف سے کیا گیا۔ دوسری طرف فرانس نے یونان کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اس کی معاونت کے لیے اپنے 2رافیل طیارے، لڑاکا ہیلی کاپٹر اور بحری بیڑا جزائر غرب الہند میں بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے جس سے خطے کی صورتحال نیا رخ اختیار کرنے لگی ہے۔

فرانس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ عارضی طور پر جزائر غرب الہند میں اپنی موجودگی کا دوبارہ اظہار کر رہا ہے۔ علاقے میں بھیجے جانے والے 2رافیل طیارے کریٹی جزیرے پر کئی دن تک متعین رہیں گے جبکہ لڑاکا ہیلی کاپٹر بحری بیڑے ’لا فائٹے‘ کو جوائن کریں گے جو کہ یونانی نیوی کے ساتھ جنگی مشقوں کی غرض سے پہلے ہی قبرص میں موجود ہے۔ اپنی سیاسی جماعت اے کے پارٹی کی19ویں سالگرہ پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردگان نے حملہ کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس حملے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔واضح رہے کہ تیل و گیس کی تلاش کرنے والے اس جہاز کے ساتھ ترک نیوی کے بیڑے بھی ہمراہ ہیں۔ 

مزید :

بین الاقوامی -